#کالم

کرہ ارض پر منڈلاتا شدید موسمیاتی بحران

mirza rizwan

مرزا رضوان

زمین کا توازن جو صدیوں سے انسان کی بقا اور خوشحالی کا ضامن رہا ہے، آج تاریخ کے سب سے پرشور موسمیاتی اضطراب کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ بحرِ الکاہل کے خطِ استوا کے پانیوں میں حرارت کا ایک ایسا غیر معمولی اور پراسرار ابال جنم لے چکا ہے جسے ماحولیاتی سائنس دان "س±پر ایل نینو” (Super El Niño)کا نام دے رہے ہیں۔ یہ کوئی معمولی موسم کا تغیر یا سالانہ روٹین نہیں ہے، بلکہ یہ سمندری درجہ حرارت میں متوقع دو ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد کے ریکارڈ اضافے کا وہ طوفان ہے جو آنے والے دنوں اور ہفتوں میں پوری دنیا کے نقشے پر تباہ کن اثرات مرتب کرنے کو تیار ہے۔ عالمی موسمیاتی اداروں (WMO) اور ناسا (NASA) کی جانب سے جاری کردہ انتباہات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ زمین ایک ایسے نازک موڑ پر آن کھڑی ہوئی ہے جہاں شدید بارشیں، تباہ کن سیلاب، طویل خشکسالی اور ریکارڈ شکن گرمی کی لہریں ایک ساتھ دنیا کے مختلف خطوں پر حملہ آور ہونے والی ہیں۔س±پر ایل نینو کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے سمندر اور کر? ہوائی کے درمیان جاری اس پیچیدہ رقص کو دیکھنا ضروری ہے۔ عام حالات میں، مشرق سے مغرب کی طرف چلنے والی تجارتی ہوائیں (Trade Winds) گرم پانی کو ایشیا اور آسٹریلیا کی طرف دھکیلتی ہیں، جبکہ بحر الکاہل کے مشرقی حصے میں نیچے سے ٹھنڈا پانی اوپر آتا ہے۔ لیکن جب ایل نینو کا عمل شروع ہوتا ہے تو یہ ہوائیں سست پڑ جاتی ہیں یا اپنی سمت بدل لیتی ہیں، جس کے نتیجے میں گرم پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ مشرق یعنی جنوبی امریکہ کے ساحلوں کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ جب یہ درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ جائے تو اسے "س±پر ایل نینو” کہا جاتا ہے۔ اس بار صورتحال اس لیے زیادہ سنسنی خیز اور تباہ کن ہے کیونکہ اس قدرتی مظہرے کو انسانی پیدا کردہ عالمی درجہ حرارت کی حدت (Global Warming) کی حمایت بھی حاصل ہو چکی ہے۔ دونوں کے اس خونی امتزاج نے عالمی موسم کے توازن کو بالکل برباد کر کے رکھ دیا ہے۔اس آنے والے بحران کے جغرافیائی نقشے پر نظر ڈالیں تو دنیا کے ہر براعظم کی الگ کہانی ہے۔ جنوبی امریکہ کے ممالک، بالخصوص پیرو، ایکواڈور اور برازیل کے کچھ حصے، پہلے ہی شدید ترین خطرے کی زد میں ہیں۔ سمندری پانی کے گرم ہونے سے ہوا میں نمی کا تناسب اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ صحرائی اور خشک علاقے بھی موسلادھار اور تباہ کن بارشوں کا ہدف بن جاتے ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ندی نالوں میں طغیانی اور شہروں کے ڈوبنے کے واقعات روز مرہ کا معمول بننے کو ہیں۔ اسی طرح مشرقی افریقہ (Horn of Africa) جو پہلے ہی دہائیوں کی شدید ترین خشکسالی سے گزر رہا تھا، وہاں س±پر ایل نینو کی وجہ سے اچانک آنے والے سیلاب اور بارشیں تباہی مچا رہی ہیں، جس سے نہ صرف پینے کے صاف پانی کی شدید قِلّت پیدا ہو رہی ہے بلکہ ہیضہ، ملیریا اور ڈینگی جیسی وبائی بیماریاں انسانی آبادیوں کو نگلنے کے لیے پر تول رہی ہیں۔دوسری جانب، دنیا کا ایک بڑا حصہ جلتی ہوئی بھٹی اور خشکسالی کا منظر پیش کرنے والا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک جیسےانڈونیشیا، ملائیشیا، اور فلپائن کے علاوہ پورا براعظم آسٹریلیا شدید گرمی اور خشک سالی کے شکنجے میں کسنے جا رہا ہے۔ بارشوں کی غیر معمولی کمی کی وجہ سے ان علاقوں میں جنگلاتی آگ (Bushfires) کا خطرہ انتہا کو پہنچ چکا ہے، جس سے نہ صرف کروڑوں ہیکٹر پر پھیلے جنگلات راکھ کا ڈھیر بننے کے قریب ہیں بلکہ نایاب جنگلی حیات کا وجود بھی خطرے میں ہے۔ آسٹریلیا کی زراعت اور گندم کی پیداوار، جو عالمی منڈی میں غذائی سپلائی کا بڑا ذریعہ ہے، شدید متاثر ہو رہی ہے، جس کا سیدھا اثر عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتوں اور افراطِ زر (Inflation) کی صورت میں سامنے آئے گا۔جنوبی ایشیا جس میں پاکستان اور بھارت شامل ہیں، اس س±پر ایل نینو کا سب سے حساس اور غیر متوقع ہدف ہے۔ جنوبی ایشیائی خطہ اپنی زراعت اور آبی وسائل کے لیے مون سون کی بارشوں کا مرہونِ منت ہے۔ ایل نینو کی آمد عام طور پر مون سون کے نظام کو مفلوج یا غیر متوازن کر دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک طرف تو ملک کے بیشتر حصے میں شدید ترین حبس، گرمی کی لہریں (Heatwaves) اور خشکسالی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف اچانک بننے والے بادلوں (Cloudbursts) کی وجہ سے گلیشئرز کے پگھلنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے اور پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی آ جاتی ہے۔ پاکستان کے زرعی شعبے، جو پہلے ہی معاشی زبوں حالی کا شکار ہے، کے لیے یہ موسمیاتی تغیر کسی بڑے تازیانے سے کم نہیں ہے۔ گندم، کپاس اور چاول کی فصلیں، جو قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اس بے قاعدہ موسم کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتی ہیں۔س±پر ایل نینو کا ڈسنا صرف خشکی تک محدود نہیں ہے، بلکہ سمندری حیات بھی اس کے خونی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ سمندری درجہ حرارت میں اضافے سے مرجانی چٹانیں (Coral Reefs)کی رنگت اڑنے (Bleaching) کا عمل تیز ہو چکا ہے، جو کہ سمندری ماحول کا دل سمجھی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ پلاکٹن (Plankton) نامی باریک سمندری خلیوں کی کمی کی وجہ سے مچھلیوں کی بڑی بڑی آبادی ہجرت کرنے یا مرنے پر مجبور ہو جاتی ہے، جس سے ساحلی آبادیوں کا روزگار اور سمندری غذا کا عالمی نظام سخت بحران سے دوچار ہو جاتا ہے۔ جب زراعت، مویشی پالنا، اور ماہی گیری تباہ ہوتی ہے، تو نتیجہ عالمی سطح پر بھوک، افلاس اور نقل مکانی (Climate Migration) کی شکل میں نکلتا ہے۔ اقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت کے ادارے (FAO) کے مطابق، یہ بحران عالمی سطح پر کروڑوں انسانوں کو خطِ غربت سے نیچے دھکیل سکتا ہے۔یہ تمام حقائق اور سائنسی پیش گوئیاں اس بات کا واشگاف اعلان ہیں کہ س±پر ایل نینو اب محض ایک مفروضہ نہیں رہا بلکہ ایک تلخ حقیقت بن کر ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ انسان نے صنعتی ترقی کی اندھی دوڑ میں قدرتی ماحول کا جو حشر کیا ہے، قدرت اب اسی کا ردِعمل دکھا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری اور خاص طور پر پاکستان جیسے متاثرہ ممالک اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں؟ صرف ہنگامی اجلاس بلانے اور کاغذات پیٹنے سے اس تباہی کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کو فوری طور پر قبل از وقت اطلاع کے نظام (Early Warning Systems)کو جدید بنانا ہوگا، آبی ذخائر کو محفوظ کرنے کی حکمتِ عملی بنانی ہوگی، اور زراعت کو موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ اگر آج عالمی اور قومی سطح پر سنجیدہ، سائنسی اور پائیدار اقدامات نہ اٹھائے گئے، تو آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں فطرت کا یہ غضب انسانی تاریخ کے ہولناک ترین صفحات رقم کرے گا، جس کا خمیازہ ہماری آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔

کرہ ارض پر منڈلاتا شدید موسمیاتی بحران

اب آگے بڑھیں!

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے