#کالم

قوم ڈیفالٹ کر گئی

Untitled 6

سہیل بشیر منج


بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی کڑی  شرائط اور حکومتی دعوو¿ں کی کشمکش کے درمیان پستا ہوا عام پاکستانی اس وقت معاشی وجود کی جنگ لڑ رہا ہے بجلی اور ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور سردیوں کی آمد سے قبل پرواز کرتی ہوئی مہنگائی نے عام گھرانے کے بجٹ کو تباہ کر  دیا ہے جہاں بنیادی غذائی ضرورتیں پوری کرنا بھی ایک امتحان بن چکا ہے ایک طرف بے لگام بیوروکریسی اور حکومتی اراکین کی شاہ خرچیاں اور پروٹوکول کی روایت ملکی معیشت پر بوجھ بنی ہوئی ہے تو دوسری طرف پیداواری لاگت کے بھاری بوجھ تلے دبے ایکسپورٹرز اور مینوفیکچررز دم توڑ رہے ہیں اگر تاجروں کو فوری سہولیات نہ دی گئیں اور ان کی پیداواری لاگت کم نہ کی گئی تو پاکستان کی معیشت آئندہ چند سالوں میں مکمل جمود اور شدید دباو¿ کا شکار ہو جائے گی جس سے برآمدات کے خاتمے اور غیر ملکی زرمبادلہ کے سنگین بحران کا خدشہ ہے ملک کی آمدن میں کمی اور اخراجات میں ناپائیدار اضافے کی سب سے بڑی وجہ اشرافیہ کو دی جانے والی اربوں روپے کی مراعات غیر پیداواری شعبوں پر حد سے زیادہ اخراجات ٹیکس کے نظام میں عدم مساوات اور ہنر مند افراد کی بیرون ملک منتقلی ہے ان تمام تلخ حقائق سے نجات حاصل کرنے کے لیے حکومتی سطح پر پروٹوکول کے خاتمے اور سادگی کو نفاذ کا حصہ بنانا ہوگا ورنہ یہ معاشی خلیج پورے معاشرتی توازن کو نگل جائے گی۔دنیا کی تاریخ ایسے ممالک کے درخشندہ تجربات سے بھری پڑی ہے جنہوں نے شدید اقتصادی بحران توانائی کے بحران اور بے لگام افراط زر کے اندھیروں سے نکل کر ترقی کی روشن شاہراہ پر قدم رکھا اس کی سب سے بہترین مثال ترکی،ملائشیا  اور ویتنام جیسے ممالک ہیں جنہوں نے انتہائی حکمت عملی اور قابل عمل اصلاحات کے ذریعے اپنے فلک شگاف معاشی بحرانوں پر قابو پایا ترکی نے بیسویں صدی کے اختتام پر بدترین افراط زر اور توانائی کے بحران کا سامنا کیا لیکن اس نے سخت مالیاتی ڈسپلن نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کر کے اپنی معیشت کو چند سالوں میں مستحکم کر لیا۔ملائشیا نے ایک غریب ملک سے ترقی یافتہ معیشت بننے کا شاندار سفر طے کیا آزادی کے بعد ملائشیا کی معیشت زیادہ تر زرعی تھی اور ربڑ و پام آئل پر انحصار کرتی تھی مہاتیر محمد کے دورِ حکومت میں ملک نے زراعت سے نکل کر صنعتی ترقی کا رخ کیا حکومت نے بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جدید انفراسٹرکچر تعمیر کیا اور برآمدات پر مبنی صنعتوں کو ترجیح دی اس کے علاوہ، تعلیم اور ہنر مند افرادی قوت پر خصوصی توجہ دی گئی حکومت نے فلاحی اسکیموں، روزگار کے مواقع اور غریب کسانوں کی مالی معاونت کے ذریعے عام آدمی کی زندگی کو سہارا دیا اور پائیدار ترقی حاصل کی۔ ویتنام نے دوئی موئی نامی معاشی اصلاحات کا آغاز کر کے بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کیا مقامی پیداواری صلاحیت کو بڑھایا اور برآمدات کو معاشی ترقی کا محور بنایا جس سے وہ آج ایک مستحکم معاشی قوت بن چکا ہے  پاکستان کے لیے ان ممالک کے تجربات میں یہ اہم سبق پوشیدہ ہے کہ معاشی استحکام محض قلیل المدتی قروض یا عارضی ریلیف سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے بنیادی ڈھانچے میں انقلابی تبدیلیاں ضروری ہیں  پاکستان کے لیے تجاویز یہ ہیں کہ وہ زرعی شعبے کی جدید بنیادوں پر استواری اور زرعی ٹیکنالوجی کی فوری فراہمی کو یقینی بنائے تاکہ غذائی تحفظ قائم ہو سکے  اس کے ساتھ ساتھ ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل اکانومی اور آئی ٹی کی صنعت کو بلا سود قرضے اور آسانیاں فراہم کر کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بنایا جائے  نظام کی شفافیت کے لیے ہر سطح پر ڈجیٹلائزیشن کو نافذ کیا جائے تاکہ کرپشن کا خاتمہ ہو اور ٹیکس کی رقم سیدھی قومی خزانے میں جمع ہو ان اصلاحات پر عمل درآمد سے نہ صرف پاکستان میں معاشی پائیداری آئے گی بلکہ عام آدمی کی زندگی میں بھی خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا عام انسان کے معاشی وجود کو قائم رکھنے اور دم توڑتی صنعت کو دوبارہ زندگی بخشنے کے لیے حکومت کو جذباتی بیانات کی بجائے بلا تاخیر جرات مندانہ عملی اقدامات کا آغاز کرنا ہوگا تاکہ گرتی ہوئی معیشت کو سہارا مل سکے  عالمی منڈی کے شدید معاشی دباو¿ کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو روایتی طریقوں سے ہٹ کر رعایت پر ملنے والے ایندھن اور دوطرفہ تجارت کے مقامی معاہدوں کو فوری ترجیح دینی چاہیے تاکہ توانائی کی پیداواری لاگت کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکے  تباہ حالی کے دہانے پر کھڑی مقامی انڈسٹری کو بچانے کے لیے صنعتی بجلی اور گیس پر خصوصی سبسڈیز کے ساتھ ساتھ خام مال کی درآمد پر عائد سخت ٹیکسوں کا فوری خاتمہ کرنا ہوگا تاکہ پیداواری عمل دوبارہ پوری توانائی سے جاری ہو سکے  حکومت کو چاہیے کہ غیر ضروری سرکاری اخراجات میں فوری اور نڈر کٹوتی کرے اور اشرافیہ پر عائد بے جا مراعات ختم کر کے وہ رقم براہ راست عام شہری کے روزمرہ راشن اور بنیادی ضرورتوں پر ریلیف پیکیج کی صورت میں صرف کرے بجلی کے لیے سولرائزیشن کا سہارا اور پیٹرولیم مصنوعات کی کمی دور کرنے کے لیے بلیک  یا گرے مارکیٹ کا رخ کرنا ہوگا  صنعتوں کو خطیر ریلیف دینے سے نہ صرف کارخانے دوبارہ چل پڑیں گے بلکہ روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہوں گے جس سے عام آدمی کے چہرے پر اطمینان اور معیشت کی رگوں میں دوڑتا خون واپس لوٹ آئے گا معاشی پہیے کو بحال کرنے اور ڈوبتی انڈسٹری کو تنکے کا سہارا دینے کے لیے ٹیکس کا دائرہ کار بلا تفریق بڑھانا اور مقامی پیداواری یونٹس کو تحفظ دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے ایک دکھی دل اور درد مند بصیرت کا تقاضا ہے کہ حکمران ایوانوں سے نکل کر عام آدمی کی بنیادی ضروریات زندگی  کی فکر کریں اور یہ تمام انقلابی اصلاحات بغیر کسی تاخیر کے نافذ کریں تاکہ وطن عزیز ایک بار پھر ترقی پائیداری اور استحکام کی سمت گامزن ہو سکے۔

قوم ڈیفالٹ کر گئی

قوم ڈیفالٹ کر گئی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے