#کالم

زہر اُگلتا دھواں

Untitled 3

تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

لاہور کی فضا آج پھر دھند میں لپٹی ہوئی ہے — مگر یہ وہ دھند نہیں جو کبھی ٹھنڈک اور سرشاری کا احساس دلاتی تھی۔ یہ دھند نہیں، بلکہ زہر اُگلتا دھواں ہے۔ ایک ایسا زہر جو ہر سانس کے ساتھ ہمارے جسموں میں اُتر رہا ہے، جو ہماری آنکھوں کو جلا رہا ہے، ہمارے پھیپھڑوں کو گھلا رہا ہے، اور ہمارے شہروں کو بے آواز موت کی وادی میں تبدیل کر رہا ہے۔ ہم نے ترقی کے نام پر جو روش اختیار کی، وہ دراصل تباہی کی شاہراہ نکلی۔

آج لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور دیگر شہر جو کبھی اپنی تازہ ہوا، باغات اور خوشبوؤں سے پہچانے جاتے تھے، اب دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں سرفہرست ہیں۔ یہ اعزاز نہیں، شرمندگی ہے۔ کبھی ہمارے درخت فضا کو صاف کرتے تھے، آج ہماری فضا درختوں کی غیر موجودگی پر ماتم کر رہی ہے۔

سموگ کا مسئلہ نیا نہیں۔ ہر سال نومبر کے آغاز میں یہ مسئلہ شدت اختیار کرتا ہے، اور پھر ہم چند دنوں کے لیے شور مچاتے ہیں۔ حکومت اسکول بند کر دیتی ہے، ماسک پہننے کی ہدایت جاری ہوتی ہے، کچھ گاڑیوں پر پابندی لگتی ہے، اور فضا میں سپرے کیے جاتے ہیں۔ لیکن جب دھند چھٹتی ہے، تو ہم اپنی آنکھوں پر پھر غفلت کی پٹی باندھ لیتے ہیں۔ اگلے سال، وہی کہانی دوبارہ دہرا دی جاتی ہے۔ یہ وقتی اقدامات محض دکھاوا ہیں۔ اصل مسئلہ وہاں ہے جہاں ہماری ترجیحات، ہماری عادتیں، اور ہماری سوچ بیمار ہو چکی ہے۔

سموگ کی سب سے بڑی وجہ ہماری اپنی کوتاہیاں ہیں۔ فیکٹریوں کے چمنیوں سے نکلنے والا کالا دھواں، گاڑیوں کے انجن سے خارج ہونے والی زہریلی گیسیں، اینٹوں کے بھٹوں کا ناقص ایندھن، اور کسانوں کی طرف سے فصلوں کی باقیات کو جلانا یہ سب مل کر ایک زہریلا بادل بناتے ہیں جو ہمارے شہروں پر چھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے درختوں کو کاٹ کر زمین کو بنجر کیا۔ پارکوں کو عمارتوں سے بھر دیا، اور ندی نالوں کو کچرے سے پُر کر دیا۔ اب اگر فضا دم گھٹنے لگے تو قصور قدرت کا نہیں، ہمارا اپنا ہے۔

سموگ کا سب سے پہلا نشانہ ہمارے بچے بنتے ہیں۔ جنہیں تازہ ہوا، سورج کی روشنی اور کھیل کے میدانوں کی ضرورت ہے، وہ آج اسپتالوں کی لمبی قطاروں میں کھانستے نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق سانس کی بیماریاں، دمہ، الرجی، جلدی امراض اور آنکھوں کی جلن کے کیسز خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ دوسری جانب بزرگ شہری، جن کے پھیپھڑے پہلے ہی کمزور ہیں، اس آلودگی کا مقابلہ نہیں کر پاتے۔ ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جس کا بچپن آلودہ، جوانی بیمار، اور بڑھاپا بے بسی کا شکار ہوگا۔

حکومت اگر چاہے تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے وقتی نہیں بلکہ پائیدار اقدامات درکار ہیں۔ سب سے پہلے زرعی شعبے میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ فصلوں کی باقیات کو جلانے کے بجائے جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جائے تاکہ کسان آسانی سے زمین صاف کر سکیں۔ بھارت اور چین میں یہ مسئلہ اسی طرح حل کیا گیا۔ دوسری طرف گاڑیوں کے اخراجات پر سخت چیک ہونا چاہیے۔ ناقص ایندھن بیچنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ فیکٹریوں کو پابند کیا جائے کہ وہ دھوئیں کو صاف کرنے والے فلٹرز استعمال کریں۔

لیکن حکومت اکیلی کچھ نہیں کر سکتی۔ شہریوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر ہم واقعی صاف فضا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے طرزِ زندگی کو بدلنا ہوگا۔ ایک درخت کاٹنے کے بجائے دس درخت لگائیں۔ غیر ضروری گاڑی چلانے سے پرہیز کریں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو فروغ دیں۔ گھروں کے باہر پودے لگانا محض خوبصورتی نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ فضا ان کی ملکیت نہیں، ان کی امانت ہے۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ماحولیاتی بحران صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور معاشی مسئلہ بھی ہے۔ جب فضا آلودہ ہوتی ہے، تو اسپتالوں پر بوجھ بڑھتا ہے، دواؤں کی قیمتیں بڑھتی ہیں، مزدور بیمار ہوتے ہیں، اور پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ یوں ایک پورا معاشی نظام متاثر ہوتا ہے۔ سموگ ایک خاموش دشمن ہے جو ہمیں جسمانی، ذہنی اور معاشی طور پر کھا رہا ہے۔

یہ سب کچھ دیکھ کر ایک سوال ذہن میں آتا ہے: کیا یہ سب ہماری قسمت ہے یا ہم خود اس انجام کے ذمہ دار ہیں حقیقت یہ ہے کہ ہم نے زمین کے ساتھ وہ سلوک کیا ہے جو کسی ظالم نے اپنی ماں کے ساتھ کیا ہو۔ ہم نے زمین کو زخمی کیا، فضا کو زہر آلود کیا، دریا کو گندا کیا، اور پھر جب فطرت نے جواب دیا تو ہم حیران ہو گئے۔ قدرت کے نظام میں توازن ہے اگر ہم اس توازن کو بگاڑتے ہیں، تو اس کا ردِعمل ہمیں بھگتنا پڑتا ہے۔

اب بھی وقت ہے۔ اگر ہم سنجیدگی سے سوچیں تو حالات بدل سکتے ہیں۔ اسکولوں میں بچوں کو ماحولیاتی تعلیم دی جائے۔ میڈیا کو چاہیے کہ سموگ پر صرف خبریں نہ دکھائے بلکہ عوام میں شعور پیدا کرے۔ مذہبی رہنما اپنے خطبات میں ماحول کے تحفظ کی بات کریں کیونکہ صفائی اور فطرت سے محبت دینِ اسلام کا حصہ ہے۔ “صفائی نصف ایمان ہے” کا مطلب صرف اپنے گھر یا جسم کی صفائی نہیں، بلکہ زمین، فضا اور پانی کی صفائی بھی ہے۔

ایک درخت لگانا صرف ماحولیاتی عمل نہیں، یہ عبادت ہے۔ کیونکہ وہ درخت آنے والے برسوں تک لوگوں کو آکسیجن دے گا، سایہ دے گا، اور زمین کو سانس لینے کا موقع دے گا۔ اگر ہر شہری سال میں ایک درخت لگا دے تو لاہور دوبارہ باغوں کا شہر بن سکتا ہے۔

سموگ کے اس موسم میں ہمیں اپنے رویوں کا احتساب کرنا چاہیے۔ ہم نے اپنے شہروں کو کنکریٹ کے جنگل میں بدل دیا ہے۔ فطرت کو مار کر ہم خود زندہ نہیں رہ سکتے۔ اگر ہم نے فضا کو سانس لینے کا موقع نہ دیا تو ایک دن ایسا آئے گا جب ہمیں سانس لینے کے لیے مصنوعی آکسیجن خریدنی پڑے گی اور شاید تب ہمیں احساس ہو

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے