#کالم

بے نظیر انکم سپورٹ کی ادائیگی میں شفافیت کے لیے انقلابی قدم

Untitled 13 1

تحریر: رفیع صحرائی
rafisehraee5586@gmail.com
صدا بصحرا
رفیع صحرائی
بے نظیر انکم سپورٹ کی ادائیگی میں شفافیت کے لیے انقلابی قدم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بینیفشری خواتین کو رقم کی ادائیگی ڈیجیٹل والٹ اکاؤنٹس کے ذریعے کی جائے گی۔ اس سلسلے میں تمام مستحق خواتین کے لیے ڈیجیٹل والٹ اکاؤنٹس تیار کر دیئے گئے ہیں۔ اب اس سے اگلے مرحلے میں ملک بھر میں بینیفشری خواتین میں ٹیلی فون سِمز کی تقسیم کا عمل شروع کیا جائے گا۔ یہ عمل 17 نومبر سے ملک بھر میں تحصیل کی سطح پر شروع ہو گا۔ سِمز کی فراہمی BISP کی مقررہ جگہوں پر کی جائے گی جہاں پر ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندگان موجود ہوں گے۔ یہ سِمز صرف مستحق خواتین کو بائیو میٹرک تصدیق کے بعد جاری کی جائیں گی۔ ایسی خواتین جو کسی وجہ سے BISP سے نااہل ہو چکی ہیں یا جن کے اکاؤنٹ ابھی بلاک ہوئے ہیں انہیں سِم نہیں ملے گی۔
خواتین سے BISP کی طرف سے گزارش کی گئی ہے کہ جن خواتین کے نام پر 5 سِمز رجسٹرڈ ہیں وہ کوئی ایک سِم فوری طور پر بلاک کروا دیں تاکہ BISP کی جانب سے جاری کردہ نئی سِم آسانی کے ساتھ ایکٹیویٹ ہو سکے۔ اگر کسی کو اپنے نام پر رجسٹرڈ سِموں کی تعداد معلوم نہ ہو تو اسے چاہیے کہ اپنا شناختی کارڈ نمبر بغیر ڈیشز کے لکھ کر 668 پر ایس ایم ایس کر دے۔ جوابی میسیج میں سِموں کی تعداد اور ٹیلی کام کمپنیز کی تفصیل مل جائے گی۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام انتظامیہ کی جانب سے یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ مستحق خواتین سِم صرف BISP کے سرکاری کیمپ/ سائٹس یا دفتر سے ہی حاصل کریں۔ اس کے لیے کسی غیر متعلقہ شخص کو اپنی ذاتی معلومات یا رقم ہرگز ادا نہ کریں۔ یہ اقدام خواتین کی سہولت اور مالی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے مزید معلومات یا راہنمائی کے لیے BISP کا ہیلپ لائن نمبر 080026477 دیا گیا ہے جس پر رابطہ کر کے مزید راہنمائی لی جا سکتی ہے۔
دیکھا جائے تو حکومت پاکستان اور BISP انتظامیہ کا یہ صائب اور بہت بڑا قدم ہے۔ مستحقین کو رقم کی وصولی میں شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ دھکم پیل اور رش کی وجہ سے کئی خواتین اپنی جان سے بھی جا چکی ہیں جبکہ ہر قسط میں پانچ سو سے پندرہ سو روپے تک انہیں جگا ٹیکس بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نے اپنے آغاز سے اب تک مستحقین تک رقوم کی ترسیل کے لیے مختلف طریقے اپنائے ہیں جن میں پاکستان پوسٹ کے ذریعے منی آرڈرز، اسمارٹ ڈیبٹ کارڈ، موباٸل فون بینکنگ، اور بایو میٹرک تصدیقی نظام(BVS) شامل ہیں۔ اس وقت (BVS) کے ذریعے ہی رقم دی جا رہی ہے۔ ہر تین ماہ بعد مستحقین کو اوسطاً 14000 روپے دیے جا رہے ہیں۔ جبکہ مستحق خواتین کے زیرِ تعلیم بچوں کے لیے بھی وظائف دیئے جا رہے ہیں۔ BISP کی انتظامیہ نے رقوم کی ترسیل کے لیے مختلف شہروں میں لوگوں کو فرنچائز دے کر انہیں BVS ڈیواذئسز دے رکھی ہیں۔ اس سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ مستحقین کو دور دراز کا سفر نہیں کرنا پڑتا اور انہیں اپنے ہی شہر میں رقم کی ادائیگی کی سہولت مل گئی ہے۔ BISP ان فرنچائزز کو رقوم کی ادائیگی کے صلے میں 300 روپے فی مستحق سروس چارجز کی مد میں ادا کرتی ہے۔
فرنچائزز کی سہولت نے آسانی کے ساتھ ساتھ ایک خرابی کو بھی جنم دیا ہے۔ فرنچائزز والے فی مستحق پانچ سو سے دو ہزار روپے تک ان مستحقین سے وصول کر رہے ہیں۔ اگر کوئی خاتون مطلوبہ رقم کی ادائیگی سے انکار کرے تو اسے یہ کہہ کر واپس کر دیا جاتا ہے کہ آپ کے انگوٹھے کا نشان نادرا کے ریکارڈ سے میچ نہیں کر رہا۔ البتہ رقم کی ادائیگی کے بعد یہ نشان فوراً میچ کر جاتا ہے۔
فرنچائز والے مبینہ طور پر ایک اور بہت بڑا گھپلا یہ کرتے ہیں کہ کسی شریف اور بھولی بھالی خاتون کو تاڑ لیتے ہیں۔ اس کی بایو میٹرک تصدیق کے بعد کہتے ہیں کہ آپ کے اکاٶنٹ میں کوئی مسئلہ ہو گیا ہے۔ دوبارہ درخواست دینی پڑے گی۔ اگلی مرتبہ رقم آنا شروع ہو جائے گی۔وہ خاتون اسی بات پر خوش ہو جاتی ہے کہ اس بندے کی مہربانی سے ہمارا اکاؤنٹ بحال ہو جائے گا اگلی دفعہ سے رقم ملنے لگے گی۔ وہ بے چاری اس لٹیرے کو دعاٸیں دیتی خالی ہاتھ رخصت ہو جاتی ہے جبکہ رقم فرنچائز والے کی جیب میں چلی جاتی ہے۔ اس طریقہ واردات سے یہ فرنچائز مالکان ہر ماہ لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔ BISP سے ملنے والی رقم اس کے علاوہ ہے۔
یہ بہت ضروری تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت ادائیگی کے طریقہ کار کو شفاف بنایا جائے۔ تمام مستحقین کے فری بینک اکاؤنٹ کھول کر انہیں اے ٹی ایم کارڈز مہیا کیے جائیں۔ ہر سہ ماہی میں خود کار نظام کے تحت مستحقین کی رقوم ان کے بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دی جائیں تاکہ مستحقین قطاروں میں لگے بغیر باوقار طریقے سے اپنی رقم اے ٹی ایم کے ذریعے بینکوں سے وصول کر سکیں۔ اب اس سے ملتا جلتا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔ مستحقین کی رقم ڈائریکٹ ان کے سِمز اکاؤنٹ میں منتقل ہو جائے گی۔ یہ بالکل وہی طریقہ ہے جس طرح جاز کیش یا ایزی پیسہ کے ذریعے رقم آپ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو جاتی ہے۔ رقم ملنے کے بعد اکاؤنٹ ہولڈر چاہے تو خریداری کی آن لائن ادائیگی کرے۔ نقد رقم کی ضرورت ہو تو ایزی پیسہ یا جاز کیش والوں سے جا کر رقم وصول کر لے۔ اگر وہ حسبِ عادت اس میں کٹوتی کی کوشش کریں تو اس کا ایک اور آسان اور سادہ سا حل بھی موجود ہے۔ کسی بھی بااعتماد واقف کار یا رشتہ دار کے بنک اکاؤنٹ میں رقم ٹرانسفر کر کے اس سے نقد رقم وصول کر لیں۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امدادی رقم کی ترسیل میں مختلف طریقہ ہائے کار اپنانے کے بعد موجودہ مجوزہ شفاف

بے نظیر انکم سپورٹ کی ادائیگی میں شفافیت کے لیے انقلابی قدم

خوبصورتی کا ذائقہ 

بے نظیر انکم سپورٹ کی ادائیگی میں شفافیت کے لیے انقلابی قدم

زہر اُگلتا دھواں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے