لاہور پاکستان کا دل – کیوں اور کیسے
تحریر فیصل زمان چشتی
لاہور، صوبہ پنجاب کا دارالحکومت اور پاکستان کا دوسرا بڑا شہر، دریائے راوی کے کنارے آباد ہے۔ اس شہر کی جڑیں ہزاروں سال قدیم تاریخ میں پیوست ہیں، جو اسے برصغیر کے قدیم ترین اور اہم ترین مراکز میں سے ایک بناتی ہیں۔ لاہور کو محض ایک بڑا شہر نہیں، بلکہ "پاکستان کا دل” کہا جاتا ہے۔ یہ لقب صرف جغرافیائی یا انتظامی اہمیت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کی گہری ثقافتی، تہذیبی ، تاریخی اور جذباتی حیثیت کی بنا پر دیا گیا ہے۔ تحریک پاکستان کی اہم ترین قرارداد ( قرار داد پاکستان) یہیں منظور ہوئی، جس نے اس ملک کے قیام کی بنیاد رکھی۔ یہ شہر پاکستانی ثقافت، آرٹ، موسیقی، فلم، اور فیشن کا مرکز ہے، جو قوم کے اجتماعی شعور کی عکاسی کرتا ہے۔ صوفی بزرگوں، شاعروں، اور ادیبوں کا مسکن، جس نے اسے روحانیت اور علم کا گہوارہ بنا دیا۔ "جنے لاہور نئیں ویکھیا، او جمیا ای نہیں” (جس نے لاہور نہیں دیکھا، وہ پیدا ہی نہیں ہوا) کا مشہور قول لاہوریوں کی بے مثال زندہ دلی اور مہمان نوازی کا مظہر ہے۔
11ویں صدی عیسوی میں سلطان محمود غزنوی کے دور میں یہ اسلام کی روشنی سے منور ہوا اور ایاز کو یہاں کا گورنر مقرر کیا گیا۔ یہ شہر علم و دانش کا مرکز بنا۔ پہلے بی بی پاک دامن اور پھر حضرت علی ہجویری (داتا گنج بخش) کی آمد اور مستقل رہائش نے اسے ایک روحانی مرکز بنا دیا، آج بھی شہر لاہور کو "داتا کی نگری” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے بعد کے دور میں مغلوں نے لاہور کو عروس البلاد بنا دیا۔ شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد، مقبرہ جہانگیر، مقبرہ نور جہاں، اور شالامار باغ جیسی عظیم الشان یادگاریں مغلیہ فن تعمیر کا شاہکار ہیں۔ مغل دور میں لاہور ایک اہم علمی اور فنی مرکز بنا رہا پھر مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں یہ ان کی سلطنت کا دارالحکومت رہا۔ اس دور کی بھی کئی تاریخی عمارتیں اور یادگاریں موجود ہیں۔ غلامی کے عہد میں انگریزوں نے شہر میں جدید تعلیمی ادارے، عدالتی عمارتیں، ریلوے نظام اور دیگر انفراسٹرکچر قائم کیا، جس نے شہر کو ایک نیا رنگ دیا۔
جیساکہ پہلے بتایا ہے کہ 23 مارچ 1940ء کو منٹو پارک (موجودہ گریٹر اقبال پارک) میں تاریخی قرارداد پاکستان منظور ہوئی، جو ملک کے قیام کا نقطہ آغاز بنی۔ قیامِ پاکستان کے موقع پر 1947ء میں ہجرت کے وقت لاہور نے لاکھوں مسلمانوں کی میزبانی کا فریضہ نبھایا، جنہوں نے مشرقی پنجاب میں مظالم کے بعد لاہور میں پناہ لی۔ اس وجہ سے اسے مہاجرین کے لیے ایک "مقدس شہر” کی حیثیت بھی حاصل ہوئی۔ (اندرون شہر) بارہ تاریخی دروازوں میں محصور تھا (جیسے دہلی دروازہ، بھاٹی دروازہ، مستی دروازہ وغیرہ) جو آج بھی مغلوں کے طرزِ زندگی اور فن تعمیر کی گواہی دیتے ہیں۔ اندرونِ شہر کی تنگ مگر پر رونق گلیاں، قدیم حویلیاں، اور صدیوں پرانے بازار اس شہر کی اصل روح ہیں۔ لاہور ہمیشہ اپنی روایتی زندہ دلی کے لیے مشہور رہا ہے۔ یہاں بسنت (اگرچہ اب محدود ہے)، میلے اور مذہبی تہوار (جیسے عرس داتا صاحب، میلہ چراغاں وغیرہ) بڑے جوش و خروش سے منائے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ونٹر فیسٹیول اور جشن بہاراں کا فیسٹیول بھی اس شہر کی خوبصورتی اور رنگینیوں میں بے پناہ اضافہ کرتے ہیں ۔ لاہور کھانوں کا شہر ہے۔ ناشتے میں سری پائے اور حلوہ پوری سے لے کر، دوپہر کے چنے اور رات کے تکے کباب تک، لاہوری کھانوں کا اپنا ایک الگ ہی ذائقہ ہے جو شہر کی ثقافت کا لازمی جزو ہے۔ فوڈ سٹریٹس (جیسے گوالمنڈی اور انارکلی فوڈ کورٹس) مشہور ہیں۔
پاک ٹی ہاؤس اور الحمرا آرٹس کونسل جیسے ادارے دانشوروں، شاعروں اور ادیبوں کے اجتماعات کا مرکز رہے ہیں۔ لاہور نے پاکستانی فلم (لالی وڈ) اور موسیقی کے عروج میں اہم کردار ادا کیا۔ لاہور ہمیشہ سے تعلیمی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی (برصغیر کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک)، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی یو)، نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے)، اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، ایچی سن کالج اور لمز جیسے اداروں نے ملک کو ہزاروں دانشور، سائنسدان اور ماہرین دیے ہیں۔ شہر میں کئی جدید یونیورسٹیاں اور تحقیقی مراکز قائم ہو چکے ہیں جو اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہی۔ لاہور پاکستان کا ایک بڑا صنعتی اور تجارتی مرکز ہے۔ ٹیکسٹائل، آئی ٹی، اور سروسز کے شعبے میں اس کی اہمیت مسلم ہے۔ پاکستان کے تمام صوبوں سے لوگ اس شہر میں آکر آباد ہوئے ہیں اپنےاپنے کاروبار اور ملازمتیں کررہے ہیں بچوں کو تعلیم یافتہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگیاں بلا تعصب ہنسی خوشی گذار رہے ہیں جو اس شہر کی کشادگی اور فراخی کا بھی مظہر ہے
جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے یہ پنجاب کی زرعی اور صنعتی پیداوار کی نقل و حمل کا ایک اہم مرکز ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور تجاوزات نے شہر کی خوبصورتی اور منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ لاہور کو حالیہ برسوں میں فضائی آلودگی اور سموگ جیسے سنگین ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے۔ شہر کے تاریخی ورثے کو اس کی اصل حالت میں برقرار رکھنا ایک مسلسل چیلنج ہے۔ میٹرو بس، اورنج لائن میٹرو ٹرین جیسے بڑے منصوبوں نے لاہور کو ایک جدید میگا سٹی بنانے کی طرف گامزن کیا ہے۔ شہر تیزی سے آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہی والڈ سٹی لاہور اتھارٹی جیسے اداروں کے تحت تاریخی عمارتوں اور دروازوں کی بحالی کا کام جاری ہے، جو اس کی ثقافتی پہچان کو مزید مضبوط کرے گا۔
لاہور محض ایک شہر نہیں، بلکہ ایک جیتا جاگتا میوزیم ہے۔ یہ برصغیر کی ہزاروں سالہ تہذیب کا امین، مغلوں کی شان و شوکت کا آئینہ دار، اور پاکستان کی آزادی کا گواہ ہے۔ اس کی گلیاں تنگ ہو سکتی ہیں، لیکن ان کے باسیوں کے دل بہت وسیع ہیں۔ لاہور کی تاریخ، ثقافت، تہذیب ، تعلیم، اور زندہ دلی ہی وہ عناصر ہیں جو اسے بلاشبہ "پاکستان






