#کالم

بلدیاتی انتخاب کی بازگشت: پاور گیم

Untitled 21

عبد القيوم خان

بلدیاتی نظام کی ابتداء جدید معنوں میں اُس وقت ہوئی جب ریاستیں مقامی سطح پر عوامی شرکت کو بااختیار بنانے اور انتظامی کفالت کم کرنے کی طرف متوجّہ ہوئیں۔عموماً یہ تصور اُس دور سے جڑا ہے جب برطانوی سامراج نے ہندوستان (جس میں بعد میں پاکستان شامل ہوا) نے دیہات اور قصبوں میں خودانتظامی کی ابتدا کی۔مثلاً انیسویں صدی کی آخری دہائی میں مقامی حکومتوں کے ڈھانچے،بلدیاتی نظام اُس وسیع سیاسی ترجیح کی علامت بن سکتا ہے جو "نیچے سے اوپر کی بنیاد پر حکومت” کی بجائے "اوپر سے نیچے” کنٹرول کی حکمت عملی کو بدلنے کی سمت لیتا ہے۔
ہمارے ہاں بے ترتیب،دورِ جدید میں بلدیاتی نظام اس لیے ضروری ہے کہ وہ عوامی شرکت،شفافیت،جوابدہی اور مقامی ضروریات کے مطابق حکمرانی کی راہ ہموار کرتا ہے۔ مقامی حکومتیں۔محلہ کمیٹی،یونین،تحصیل،ضلع کی سطح پر۔عوام کے روزمرّہ مسائل جیسے صفائی،پانی،راستے،بنیادی تعلیم اورصحت کے نظام کو زیادہ مؤثر انداز میں منظم کر سکتی ہیں۔اگر بلدیاتی اختیار صرف نمائشی رہ جائے،تب عوامی طاقت بےاثر رہتی ہے۔اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ اچھا بلدیاتی نظام معاشی، سماجی،اور سیاسی ترقی کے لیے “پائیدار ڈھانچہ” ہے۔اور جب اس کی بنیاد عوامی انتخاب، خودانتظامی اور مالی خودمختاری پر ہو تو یہ”ریاست اور معاشرہ”کے مابین اعتبار تعمیر کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ ہماری ریاست اور ریاستی اداروں اور معاشرہ کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بہترین معاشرہ کی تخلیق کی بجائے ریاست اور ریاستی اداروں نے ایک بدنما،بےترتیب "بدمعاش رہ” تخلیق کرکے رکھ دیا ہے۔
پاکستان میں بلدیاتی نظام کا آغاز باضابطہ طور پر اُس دور میں ہوا جب فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1959ء میں "بیسک ڈیموکریسیز” کا نظام متعارف کروایا۔اس کے بعد ڈکٹیٹر ضیاء الحق نے اپنی نوکیلی مونچھوں کے نیچےچاروں صوبوں میں 1979ءمیں لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کا ٹوپی ڈرامہ کیا۔پھر ایک اور آمر پرویز مشرف کی قیادت میں“ڈیولوشن آف پاور پلان” کے تحت لوکل گورنمنٹ آرڈیننس,2001ء نافذ ہوا،جسے بعض حلقے پاکستان کا سب سے جامع بلدیاتی فریم ورک سمجھتے ہیں۔
اگرچہ آئینِ پاکستان نے مقامی حکومتوں کے قیام کو لازمی قرار دیا،جس کے تحت ہر صوبہ قانون کے ذریعے بلدیاتی نظام قائم کرے گا اور اختیار،انتظامی و مالی ذمہ داریاں منتخب نمائندوں کو تفویض کرے گا۔
کچھ مغربی ممالک اور ترقی یافتہ دنیا نے پاکستان کے استحکامِ بلدیات میں براہِ راست "ٹریننگ، تکنیکی معاونت اور ادارہ سازی” کی معاونت کی۔ مثال کے طور پر جرمن اداروں نے پاکستان میں پیشہ ورانہ تربیت کے شعبے میں تعاون فراہم کیا ہے،جس میں مقامی سطح پر حکمرانی اور صلاحیت سازی بھی شامل ہے۔ مزید یہ کہ یورپی اتحاد نے مختلف پروگراموں کے تحت پاکستان میں نوجوانوں،خواتین اور سماجی و اقتصادی اداروں کی ٹریننگ کی ہے، اگرچہ یہ براہِ راست صرف بلدیاتی نمائندوں کو نہیں بلکہ مقامی سطح کی صلاحیت سازی کا حصہ تھا۔
پاکستانی سماجی، ثقافتی، سیاسی اور معاشی پس منظر کو مدِنظر رکھتے ہوئے،ہم دیکھتے ہیں کہ بلدیاتی نظام جہاں اپنے اندر مثبت امکانات رکھتا ہے۔مثلاً مقامی سطح پر عوامی خدمات بہتر ہو سکتی ہیں،عوامی شرکت کو فروغ مل سکتا ہے،علاقائی اور صنفی نمائندگی ممکن ہے۔ وہاں یہ نظام بڑی حد تک ریاستی طور پر، اسٹیبلشمنٹ طاقتوں اور مرکزی سیاسی و عسکری ڈھانچوں کی اپنی کارکردگی اور اثرورسوخ کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً 1959 ء اور 1979 ء کے ماڈل دو طرفہ تھے۔ اگرچہ مقامی نمائندوں کو منتخب ہونے کا موقع ملا، مگر اختیاراتِ مالی اور انتظامی بروقت تفویض نہ ہوئے، اور مقامی نظام کو اکثر مرکزی یا صوبائی بیوروکریسی نے کنٹرول کیا۔اس طریقے سے بلدیاتی انتخابات کا عمل “پاور گیم” کا حصہ بن گیا، جہاں منتخب نمائندوں کے بجائے بنیاد پرستی،جماعتی اثرورسوخ اور ریاستی اداروں کا اثر غالب رہا۔
اس پس منظر میں یہ کہنا درست ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بلدیاتی نظام کو غیر جمہوری قوتوں اور رویوں نے حقیقی عوامی طاقت کی نمائندگی کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے اقتدار کی صف بندی کے لیے ایک آلہ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ منتخب نمائندوں کی حقیقی آواز کو کمزور کرکے،انہیں مرکز یا صوبائی سطح کی طاقتوں کے ماتحت رکھنے کے رجحان نے ادارہ جاتی کمزوری اور عوامی بے اعتمادی کو جنم دیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وسائل کی منتقلی، شفافیت، ذمہ داری اور حکمرانی کی کارکردگی متاثر ہوئی، جس نے نہ صرف قوم کا وقت،پیسہ اور توانائی ضائع کی بلکہ عوام کو حقیقی حکمرانی سے دور رکھا۔ مثال کے طور پر مقامی الیکشن کا انعقاد تاخیر کا شکار ہوا، پارٹی مبنی انتخابات کی بجائے غیر جماعتی بنیادوں پر ماڈل سامنے آئے، اور بعض اوقات منتخب نمائندگان کو ضم یا تبدیل کرنے کے عمل نے مقامی جمہوری قوتوں کو کمزور کیا۔

موجودہ تناظر میں بھی،کچھ بیانات کے مطابق،فطری بلدیاتی انتخابات کو زور زبردستی،غیر جماعتی بنیادوں پر، ریاستی عمل سے باہر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے،مختلف سطح پر منتخب نمائندوں کو مختلف دباؤ یا منظوری کے عمل سے گزارا جا رہا ہے، تو یہ بالکل اُس پیٹرن کی بازگشت ہے جس نے پاکستان میں بلدیاتی نظام کے “اصلی عوامی سیاسی قوتوں” کے سامنے کمزور پڑنے کا باعث بنی ہے۔ اس کی بدولت ملک کی پاپولر جماعتیں۔ جن کے پاس حقیقی عوامی مؤقف ہو سکتا ہے۔پس منظر میں چلی جاتی ہیں،اور انتظامی یا اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات منتخب نمائندوں کی ترجیحات پر غالب آجاتی ہیں۔ یوں مقامی حکمرانی کا ایک بڑا موقع ضائع ہوتا ہے، وسائل ضائع ہوتے ہیں،عوام کا اعتماد کمزور ہوتا ہے، اور سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔
پاکستان کے تناظر میں دیکھیں تو، اگر مقامی حکومتیں واقعی “کمال کا معیار” کے تحت چلیں۔یعنی مالی خودمختاری،انتظامی آزادی، شفاف انتخابات، جوابدہی کا نظام، عوامی شرکت،تب یہ نظام جمہوری تسلسل، مقامی ترقی،خدمت رسانی کی بہتری اور وطن اور قوم کے مفاد میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارا تجربہ یہ رہا ہے کہ اس کا استعمال اقتدار کی تقویت، معاشی مراعات کی تقسیم اور سیاسی کنٹرول کے لیے زیادہ ہوا ہے۔ اس تناظر میں، ضرورت اس امر کی ہے کہ بلدیاتی نظام کو صرف خانہ پری،تشہیر یا “جانب داری کے آلہ” کے بجائے عوامی طاقت کے نچلے درجے کی بنیاد بنائیں، اس

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے