#کالم

تحریک لبیک کی شرپسندی، حکومت کی دانشمندانہ حکمتِ عملی، اور عوامی و سرکاری املاک کا تحفظ

WIthout face

ازقلم فاطمہ شیرازی

تحریک لبیک کی شرپسندی، حکومت کی دانشمندانہ حکمتِ عملی، اور عوامی و سرکاری املاک کا تحفظ
پاکستان کے امن و استحکام کے خلاف سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک مذہبی انتہاپسندی اور فرقہ وارانہ تشدد ہے۔ حالیہ برسوں میں تحریک لبیک پاکستان (TLP) کی جانب سے متعدد بار ایسے احتجاجی مظاہرے کیے گئے جنہوں نے عوامی زندگی، ریاستی اداروں، اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے لیے سنگین خطرات پیدا کیے۔
تحریک لبیک نے اپنے مذہبی و سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے احتجاج کے نام پر تشدد، سڑکوں کی بندش، املاک کی تباہی اور پولیس پر حملوں کا راستہ اختیار کیا۔
مختلف شہروں میں جلاؤ گھیراؤ کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
درجنوں گاڑیاں، پولیس چوکیوں، اور عوامی و نجی عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا۔
شہریوں کے کاروبار اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی۔
سرکاری اندازوں کے مطابق ملک بھر میں کروڑوں روپے مالیت کی املاک تباہ ہوئیں، درجنوں سرکاری گاڑیاں جلائی گئیں، اور ٹریفک نظام مکمل طور پر مفلوج رہا۔
تحریک لبیک کے مظاہرین نے کئی مقامات پر پولیس اہلکاروں پر سنگ باری، لاٹھی چارج اور اسلحے کے استعمال تک کیا۔
سات سے زائد اہلکار شہید ہوۓ
250 سے زائد اہلکار مختلف شہروں میں زخمی ہوئے۔
چالیس سے زیادہ گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوئیں۔
ان پرتشدد کارروائیوں کے باوجود وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی اور انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی۔
حکومتِ پاکستان اور بلخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ نے اس سنگین صورتحال میں انتہائی دانشمندی، بردباری اور قانون پسندی کا مظاہرہ کیا۔
حکومتی نمائندوں نے مسلسل مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے، تاکہ انتشار کو کم کیا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ کے حکم پر پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دی۔
کئی مقامات پر غیر متشدد طریقے سے شرپسندوں کو منتشر کیا گیا۔
تشدد اور توڑ پھوڑ میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئیں اور درجنوں گرفتاریاں عمل میں آئیں۔
حکومت نے مذہبی معاملات پر حساسیت کے باوجود ملکی سلامتی کو فوقیت دی اور کسی بیرونی دباؤ یا اشتعال میں آئے بغیر متوازن موقف اپنایا۔
پاکستانی عوام نے مجموعی طور پر امن، رواداری اور ریاستی نظم و ضبط کی حمایت کی۔
عوامی سطح پر شرپسندی کی مذمت کی گئی اور ملک میں امن کے قیام کے لیے حکومتی اقدامات کو سراہا گیا۔
یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ مذہب کے نام پر تشدد اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔
تحریک لبیک کی تخریبی کارروائیاں نہ صرف عوامی نقصان کا باعث بنیں بلکہ ملک کی بدنامی کا سبب بھی۔
دوسری طرف، حکومتِ پنجاب نے جس تدبر، حکمت اور صبر سے اس بحران کا سامنا کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔
ریاستی اداروں نے قانون کی بالادستی برقرار رکھتے ہوئے عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا اور ملک کو بڑے انتشار سے بچا لیا
جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ اور ُ ُان کی پوری ٹیم بلخصوص محترمہ عظمیٰ بخاری صاحبہ قابل داد و تحسین ہیں اور ملک کو اپنی ِان بیٹیوں پر ناز ھے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے