پاک افواج کی دونوں محاذوں پر تیاریاں مکمل
آج کا اداریہ
ترجمان پاک فوج لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی جھڑپوں میں افغان طالبان کے 206 جبکہ شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے 110 جنگجو مارے گئے۔گزشتہ روز صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے کہا ہے کہ اگر افغانستان کی طرف سے پاکستان میں دراندازی ہوئی تو پھر جنگ بندی کو ختم سمجھا جائے گا اور ایسے کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ ہم ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف لڑتے آئے ہیں۔ انھوں نے افغانستان میں مختلف حکومتوں کے عرصے میں سرکاری دوروں کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم حکومت سے بات تو کرتے ہیں مگر کسی شدت پسند گروہ سے مذاکرات نہیں کریں گے۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ فوج سیاست میں نہیں الجھنا چاہتی، اسے سیاست سے دور رکھا جائے اور غزہ میں امن فوج بھیجنے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔طالبن سے کھل کر کہاکہ ‘ بس بہت ہوگیا افغانستان سرحد پار دہشت گردی ختم کرے، افغان طالبان سے سیکیورٹی کی بھیک نہیں مانگیں گے۔
کا کہنا تھا کہ طاقت کے بل بوتے پر امن قائم کریں گے، افغانستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے یا ہمارے حوالے کرے جب کہ افغانستان میں نمائندہ حکومت نہیں، ہم افغانستان میں عوامی نمائندہ حکومت کے حامی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ افغانستان بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز ہے، افغانستان میں ہرقسم کی دہشت گرد تنظیم موجود ہے اور افغانستان دہشت گردی پیدا کررہا ہے اور پڑوسی ممالک میں پھیلا رہا ہے۔
یاد رہے کہ 19 اکتوبر کو پاکستان اور افغانستان نے دوحہ میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرنے کا عہد کیا تھا۔
استنبول مذاکرات کے دوسرے دور میں پاکستان نے افغان طالبان کے اقدامات کی نگرانی کے لیے ایک ٹھوس نظام بنانے پر زور دیا، تاکہ سرحد پار دہشت گردی روکی جا سکے
استنبول مذاکرات کے دوسرے دور میں پاکستان نے افغان طالبان کے اقدامات کی نگرانی کے لیے ایک ٹھوس نظام بنانے پر زور دیا، تاکہ سرحد پار دہشت گردی روکی جا سکے۔
اس حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے سینئر صحافیوں کو بتایا کہ افغانستان کی طرف سے رکھی گئی شرائط کی کوئی اہمیت نہیں، اصل مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سلامتی کے ضامن پاک فوج ہیں، افغانستان نہیں، اور یہ بھی واضح کیا کہ اسلام آباد نے کبھی طالبان کی آمد پر جشن نہیں منایا، مزید کہا کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسی تنظیموں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ استنبول میں افغان طالبان کو واضح طور پر کہا گیا کہ وہ دہشت گردی کو کنٹرول کریں، یہ ان کا کام ہے کہ وہ کیسے کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی آپریشن کے دوران دہشت گرد افغانستان بھاگ گئے، انہیں ہمارے حوالے کریں، ہم آئین و قانون کے مطابق ان سے نمٹیں گے۔
ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا نارکو اکنامی سے تعلق ہے، جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے، خیبرپختونخوا میں 12 ہزار ایکڑ پر پوست کاشت کی گئی ہے، فی ایکڑ پوست پر منافع 18 لاکھ سے 32 لاکھ روپے بتایا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی سیاستدان اور لوگ بھی پوست کی کاشت میں ملوث ہیں، افغان طالبان اس لیے ان کو تحفظ دیتے ہیں کہ یہ پوست افغانستان جاتی ہے، افغانستان میں پھر اس پوست سے آئس اور دیگر منشات بنائی جاتی ہیں، تیراہ میں آپریشن کی وجہ سے یہاں افیون کی فصل تباہ کی گئی، وادی میں ڈرونز، اے این ایف اور ایف سی کے ذریعے پوست تلف کی گئی۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ میں پبلک سرونٹ ہوں کسی پر الزام نہیں لگا سکتا، سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے چیف منسٹر ہیں، ان سے ریاستی اور سرکاری تعلق رہے گا، کورکمانڈر پشاور نے بھی ریاستی اور سرکاری تعلق کے تحت ملاقات کی جب کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا فیصلہ تصوراتی ہے، یہ فیصلہ ہم نے نہیں حکومت نے کرنا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ بریفنگ میں شریک صحافیوں کو وہی ثبوت دکھائے گئے جو دوحہ میں افغان طالبان کو پیش کیے گئے تھے جب کہ ان ثبوتوں میں ایسے افغان فوجی شامل تھے جن کے پاس افغان اور افغان آرمی کے شناختی کارڈ موجود تھے، اور وہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث تھے۔
لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ فوج سیاست میں نہیں الجھنا چاہتی، اسے سیاست سے دور رکھا جائے، ہم سیاست کرنا نہیں چاہتے اگر گھسیٹنا ہے تو یہ ان کی اسٹریٹجی ہے، جب کہ غزہ میں امن فوج بھیجنے کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کرے گی۔
ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ ملک میں 2025 کے دوران 62 ہزار سے زائد آپریشنز کیے گئے، اس دوران آپریشنز میں 1667 دہشت گرد مارے گئے جب کہ دہشت گرد حملوں میں 206 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، مزید کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے جھڑپوں میں 206 افغان طالبان اور 100 سے فتنۃ الخوارج کے دہشتگردوں کو ہلاک کیا۔
ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت سمندر میں اور فالز فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے، تاہم ہم نظر رکھے ہوئے ہیں اور بھارت نے جو بھی کرنا ہے کرلے، اگر دوبارہ حملہ کیا تو پہلے سے ذیادہ شدید جواب ملے گا۔
ترجمان پاک فوج کی اس گفتگو سے دفاعی ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج کی دونوں محاذوں پر تیاریاں مکمل ہیں
بھارت کی جانب سے چھیڑ چھاڑ کوئی نئی بات نہیں تاہم طالبان رجیم نے اس ضمن میں بھارت کا پٹھو بننا پسند کیا جسکا اسے خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے ۔






