#اداریہ

عمران کی رہائی مہم یا سیاسی ساکھ کی بحالی

Fahad 01

أج کا اداریہ

سابق وزیر اطلاعات فواد چوھدری سمیت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رہنماعمران اسماعیل اور مولوی محمود سیاسی منظرنامے پر اچانک نمودار ھوگئے ھیں ۔
یہ وہ لوگ ھیں جنھوں نے نو مئی کے حملوں کے بعد جماعت سے علیحدگی اختیار کرلی تھی،ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی أئی )کی موجودہ قیادت نااہل اور کمپرومائزڈ ھے اور عمران خان کی رھائی میں دلچسپی نہیں رکھتی اطلاعات ھیں کہ اُن کی شاہ محمود قریشی سے جیل اور ہسپتال میں دو ملاقاتیں ہوئی ہیں۔
فواد چوہدری کے بقول اُن کا مقصد ملک میں ’بڑھتا ہوا سیاسی درجہ حرارت‘ کم کرنا ہے اور عمران خان سمیت دیگر سیاسی اسیروں کی رہائی ممکن بنانا ہے۔
اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ شاہ محمود قریشی نے بھی اُن کی ان کوششوں کی بھرپور حمایت کی ہے۔
تاہم شاہ محمود قریشی کے وکیل کا کہنا ہے کہ سابق پی ٹی آئی رہنما اچانک ہسپتال پہنچ گئے تھے اور اُن کی صرف کچھ دیر کے لیے شاہ محمود قریشی سے ملاقات ہوئی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے فوادچوہدری کے بیان کاخیر مقدم کیا ہے اور سیاسی ملاقاتیں ہونی چاھییں۔ حکومت مذاکرات سے کبھی نہیں بھاگی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک قانونی معاملات ہیں، وہ تو عدالتوں میں ہیں۔ اس میں کوئی فرد کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا۔‘
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’سیاسی درجہ حرارت میں کمی کے لیے بات چیت ہونی چاہیے۔ پہلے بھی ہوئی تھی، اب بھی ہونی چاہیے۔ ہماری پارٹی میں سوچ پائی جاتی ہے کہ درجہ حرارت نیچے لایا جائے۔۔۔ پارلیمان کے ہاؤسز میں تعاون ہونا چاہیے۔‘

ادھرپاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی أئی)کی موجودہ قیادت کا کہنا ہے کہ سابق رہنماؤں کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ صرف متعلقہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے دُوریوں کا تاثر عام ہے اور خیبر پختونخوا میں نئے وزیر اعلِی سہیل آفریدی بھی جارحانہ بیانات دے رہے ہیں۔
سابق وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کا دعویٰ ہے کہ اُن کی شاہ محمود قریشی سے 45 منٹ تک ملاقات ہوئی جس میں اُنھوں نے بھی عمران خان کی رہائی کے لیے شروع کی جانے والی ان نئی کوششوں کی حمایت کی ہے۔
واضح ہو کہ سابق وزیر خارجہ اوروائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کو پتے میں تکلیف کی وجہ سے ڈیفنس لاہورمیں واقع پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلاٹ انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) منتقل کیا گیا تھا، جہاں. وہ زیرعلاج ہیں۔
شاہ محمود قریشی نو مئی کے مختلف مقدمات میں بری ہو چکے ہیں تاہم اب بھی اُنھیں مختلف مقدمات کا سامنا ہے جس کا ٹرائل لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں ہی ہو رہا ہے۔
سابق وزیر اطلاعات اور ایک وقت میں عمران خان کے قریب سمجھے جانے والے فواد چوہدری کہتے ہیں کہ اُن کا مقصد صرف ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم کرنا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ اُن کی عمران اسماعیل اور مولوی محمود کے ہمراہ شاہ محمود قریشی سے تقریباً 45 منٹ تک ملاقات ہوئی۔
فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور سمیت پی ٹی آئی کے متعدد سابق رہنما عمران خان کو ’رہا کروانے کی اس مہم میں اُن کے ساتھ ہیں فوادچوہدری کا کہنا تھا کہ ملک میں ’تقریباً ڈھائی سال سے ایک گھٹن زدہ ماحول ہے۔ عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے متعدد رہنما قید میں ہیں۔ آئے روز ہم لوگ پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ لوگوں کے کاروبار ٹھپ ہو گئے ہیں۔ اب یہ سب کچھ ختم ہونا چاہیے۔اُن کا کہنا تھا کہ وہ بہت جلد حکومتی وزرا سمیت مولانا فضل الرحمن اور دیگر سیاسی قائدین سے ملاقاتیں کریں گے۔اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی ایک قدم آگے بڑھے اور حکومت ایک قدم پیچھے ہٹے۔ بات سادہ سی ہے کہ انقلاب تو آ نہیں رہا اور نہ ہی لانگ مارچ ہو سکتا ہے۔ تو اب بات چیت کے ذریعے ہی کوشش کریں۔‘
فواد چوہدری نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت عمران خان کی رہائی کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔ ’عمران خان رہا ہو گئے تو یہ لوگ غیر متعلقہ ہو جائیں گے اور اس سے کئی یوٹیوبرز، وکلا اور فنڈر ریزرز کا کام بند ہو جائے گا۔‘
شاہ محمود قریشی سے ملاقات کے لیے جانے والے ایک دوسرے سابق پی ٹی آئی رہنما عمران اسماعیل نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔
انھوں نے ایکس پر پیغام میں کہا کہ ’شاہ محمود قریشی کئی دنوں سے ہسپتال میں علیل ہیں۔ ان سے ملنے ان کے حلقے کے لوگ اور فیملی جاتی ہے۔ اگر تحریک انصاف کی قیادت ان کا پتا کرنے بھی نہیں جا سکتی تو یہ کہنا کہ ہم ان کی عیادت کرنے بھی نہ جائیں عجیب منطق ہے۔‘
عمران اسماعیل نے مزید کہا کہ ’ہم نے صرف (ہسپتال میں) شاہ محمود قریشی سے (ہی) نہیں (بلکہ) کوٹ لکھپت جیل میں بھی کارکنوں اور لیڈرشپ سے (بھی) ملاقات کی ہے۔
’تمام پارٹی صرف عمران خان کی رہائی چاہتی ہے، ماسوائے ان کے جو اس لیے ماحول تلخ کر رہے ہیں کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ میں تلخیاں بڑھیں اور وہ مزید جیل رہیں تاکہ ان کی اپنی لیڈری چمکتی رہے۔‘
یاد رہے کہ سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی نو مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف چھوڑ دی تھی جس کا اعلان انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں کیا تھا۔ انھوں نے کور کمانڈر ہاؤس لاہور سمیت دیگر عسکری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی تھی
پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ قیادت
کا کہنا تھا کہ ان افراد نے ’گذشتہ ڈیڑھ سال میں کئی بار خود کو اہم ثابت کرنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ اڈیالہ جیل کے باہر بھی سیاسی بیانیہ بیچنے کی کوشش کی گئی مگر انھیں کوئی پذیرائی نہیں ملی۔‘
جبکہ پی ٹی آئی کے ایک اور منحرف رہنما اسد عمر نے عمران خان کی نئی رہائی مہم سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے