#کالم

جنگ، مداخلت اور امن کا بیانیہ

Untitled 1 1

تحریر۔۔۔۔صفدر علی خاں

پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جنگ اگرچہ قلیل المدت تھی مگر اس کے اثرات دیرپا ثابت ہوئے۔ اس جنگ کے دوران عالمی سطح پر بے چینی بڑھ رہی تھی اور دنیا بھر کی نظریں جنوبی ایشیا پر مرکوز ہو چکیں تھیں۔ ایسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مداخلت کر کے جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی بروقت سفارت کاری نے ایک بڑے ایٹمی تصادم کو روکا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اس واقعے کو مختلف مواقع پر بار بار بیان کرتے ہیں ۔گویا یہ ان کی سفارتی کامیابیوں کی فہرست میں ایک نمایاں سنگ میل بن چکا ہے۔لیکن اہم سوال یہ ہے کہ ٹرمپ اس واقعے کو اتنی شدت سے کیوں دہراتے ہیں۰۰۰؟ دراصل ٹرمپ ایک تاجر ذہن کے سیاستدان ہیں لہذا ہم سمجھتے ہیں کہ ان کے لیے ہر واقعہ ایک برانڈ ویلیو رکھتا ہے اور یقینا” وہ امن کی اس کوشش کو اپنے سیاسی کریڈٹ کے طور پر پیش کر رہے ہیں تاکہ امریکہ کے اندر اور عالمی برادری میں اپنے امیج کو زندہ رکھ سکیں کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ ٹرمپ کا اندازِ سیاست ہمیشہ ذاتی تشہیر پر مبنی رہا ہے اور وہ اس مداخلت کو بھی اپنی قیادت اور بصیرت کی دلیل کے طور پر بار بار اجاگر کر رہے ہیں۔تاہم پاکستان کی طرف سے اس جنگ بندی پر ردِعمل ایک پختہ اور وقار پر مبنی انداز میں سامنے آیا۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور پاک آرمی کی لیڈر شپ نے نہ صرف ٹرمپ کی ثالثی کو سفارتی لحاظ سے سراہا بلکہ واضح کیا کہ پاکستان کا مقصد جنگ نہیں بلکہ علاقائی امن ہے اور ہمیشہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا ہے، مگر قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے اس جنگ کے بعد جو کردار ادا کیا، وہ ایک مثالی عسکری اور قومی حکمتِ عملی کا مظہر ہے۔ انہوں نے افواجِ پاکستان کے حوصلے بلند رکھے، سفارتی سطح پر حکومت کے ساتھ ہم آہنگی دکھائی اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے لیکن کمزور نہیں۔
پاکستان نے خطے میں استحکام کے لیے انڈیا کے ساتھ جنگ بندی کے بعد جو اقدامات اٹھائے انہوں نے دنیا کو باور کرایا کہ پاکستان اب دفاعی ریاست کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ دار عالمی کھلاڑی بھی ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے بار بار جنگ بندی کا ذکر یقیناً ان کی ایک سیاسی حکمتِ عملی ہے، مگر پاکستان کے لیے یہ موقع اپنی قومی پالیسیوں کو عالمی سطح پر زیادہ موثر انداز میں پیش کرنے کا بن گیا۔
پاکستان نے اسے اپنی بالغ نظری، دانش اور ذمہ دار قیادت کی دلیل بنا دیا۔ وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے باہم مل کر جو استحکام کا تاثر دنیا میں قائم کیا، وہ آج پاکستان کی حقیقی فتح ہے ۔ایک ایسی فتح جو بندوق سے نہیں، تدبر سے حاصل ہوئی۔

جنگ، مداخلت اور امن کا بیانیہ

03/11/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے