مشروط معاہدہ۔۔۔غیرمشروط دہشتگردی
خواجہ جمشید امام
پاکستان کے عسکری اداروں کی امید کے ساتھ ہی پاکستانی عوام کی ہر امید بندھی ہوتی ہے۔ افواج ِ پاکستان نے فتنہ الخوارج اور فنتہ الہندوستان کے دہشتگردوں کو افغانستان میں گھس کر مارا تو پاکستان کے عوام نے اسے خوش آمدید کہا۔پاکستان نے دوحہ اور قطر میں افغانیوں کے ساتھ مذاکرات کیے اور اُس کے نتیجہ میں ایک عبوری مفاہمت دیکھنے کو ملی تو بھی پاکستان کے عوام نے اُسے خوش آئند جانا کہ ہمسایوں اور مسلمان ہمسایوں کے ساتھ امن سے رہنا ہی بہترین حکمت عملی ہے۔ پاکستان کے عسکری ادارے نے ترکی میں مشترکہ اعلامیہ کو خوش آئند پیش رفت قرار دیتے ہوئے خیال ظاہر کیا کہ اب افغانستان سے بات چیت ہو سکتی ہے کہ پاکستان کے بنیادی مطالبات کو تسلیم کرلیا گیا ہے۔ بنیادی مطالبات وہی تھی جو کسی بھی غیرت مند ریاست کے ہو سکتے تھے۔ جنگ بندی ہرگز غیر مشروط نہیں ہے اور نہ ہی یہ افغانستان کے ساتھ کھلی جنگ تھی کہ افغان طالبان کو ہی تہس نہس کردیا جاتا۔ بات تو فتنہ الخوارج یعنی ٹی ٹی پی اور فتنہ الہندوستان بی ایل اے اور دیگر دہشتگرد گروپوں کے خلاف شفاف ٗ لائق تصدیق اور ایسی کارروائی کرنے کی حد مقرر کرنا ہے کہ ان کارروائیوں کے اثرات واضح طور پر پاکستان اوردنیا محسوس کرئے۔افغانستان کسی بھی دہشتگرد کو پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا ٗ گو کہ پاکستان مودی سرکار کو بھی ایک دہشتگرد کی حکومت سمجھتا ہے لیکن وہ معاملہ ریاستوں کے درمیان ہے اور اُسے کسی اور طریقے سے دیکھ لیا جائے گا۔ افغانستان کو ہر حال میں پاکستان کو اپنے کیے گئے اقدامات کے قابل اعتماد شواہد پیش کرنے ہو ں گے کیونکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پاکستان لڑ رہا ہے اور اگر کوئی دوست بن کر پاکستان کے دشمنوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہوا پکڑا جاتا ہے تو پھر نئے تعلق کیلئے اُسے اپنے ماضی کے اقدامات کا کفارہ ادا کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نیست و نابود کرنا ہو گا ٗ پاکستان کی دور دراز کے علاقوں میں لاجسٹک چینلز پر حملے کرکے پاکستان کی معیشت کو برباد کرنے کی سازش کرنے والوں کو کٹہر ے میں لا کر اُن پر مقدمات چلانے ہوں گے اور اس سارے عمل کی شفاف نگرانی اور دونوں اطراف کے متفقہ طے شدہ طریقے سے شفاف رپورٹنگ کرنا ہو گی تاکہ پاکستان کے عوام اور دنیا اُن اقدامات سے باخبر ہو سکیں جو کسی بھی معاہدے کی صورت میں طے ہوتے ہیں۔ معاہدے تو کس بھی کام کو کرنے یا نہ کرنے کیلئے ہوتے ہیں اوراگر افغان حکومت معاہدے کے بعد بھی متفقہ طے شدہ اقدامات کے قابل ِ تصدیق ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے یا لیت و لعل سے کا م لیتی ہے اور افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے جاری رہتے ہیں تو پاکستان کو یقینا اُسے جنگ بندی اور معاہدے کی خلاف ورزی سمجھنا چاہیے اور اُس کے بعد صرف دہشتگرد گروہ ہی نہیں بلکہ افغان حکومت کو بھی اِس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں کہ ریاست کی پہلی ذمہ داری اپنی خود مختاری اور اپنے شہریوں کے جان و مال اورعزت کا تحفظ ہوتا ہے اور پاکستان کو ہر آپشن محفوظ نہیں رکھناچاہیے بھلے اُسے کھلا استعمال بھی کرناچاہیے۔اِس عارضی امن کے ثالثوں کی سرپرستی میں قائم ہونے والا نگرانی اور تصدیق کا طریقہ کار افغانستان کی طرف سے تعمیل کا تعین کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ اور ضروری آلہ کے طور استعمال ہونا چاہیے تاکہ فریق ثانی کے کردار اور وعدوں کا پول صرف پاکستان کے الزامات کی حد تک نہ ہو۔ پاکستان کو اب کسی بھی رسمی وعدوں کے بجائے حقیقت پسندی کے ساتھ اس مرحلے میں داخل ہونا پڑے گا کہ امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے دفاعی معا ہدے کے بعد ہندوستانی دہشتگردوں کو بھی افغانستان سے دور رکھنا ہو گا۔پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور چاہتا ہے کہ دنیا میں امن کا راج ہو لیکن امن کبھی یکطرفہ نہیں ہوتا بلکہ یہ دو طرفہ عمل کا نام ہے یکطرفہ صرف غلامی ہوتی ہے جو کسی بھی غیرت مند قوم کو کبھی بھی قابل ِ قبول نہیں ہوتی۔ افغانستان کی طالبان حکومت نے مذاکرات کے فوری بعد گمراہ کن پروپیگنڈ ا شروع کردیا ہے اور مجھے یقین کامل ہے کہ افغان کسی بھی عہد کی پاسداری نہیں کریں گے کیونکہ بھارت ہمیں مشرقی اور شمالی محاذ پر بیک وقت مصروف رکھنا چاہتا ہے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات امریکہ میں صدر ٹرمپ کے دونوں اقتدار کو ”دو رنگیلے“ کے شو سے زیادہ اہمیت نہیں دے گا لیکن ٹرمپ کے پا س یہی ایک ٹنیور ہے جس میں اُس نے سب کچھ کرنا ہے اور ہندوستان کے ساتھ امریکہ کا دفاعی معاہد ہ آنے والے بہت سے متوقع خدشات کو درست ثابت کر رہا ہے۔میں گزشتہ دو سال سے تواتر اور تسلسل کے ساتھ بھارت اور افغانستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات اور پاکستان میں افغانوں اور بھارتیوں کی مداخلت اوریہاں سے ملنے والی مدد پر انتہائی ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں۔ ہمیں اپنے شہید ہونے والے جوانوں میں اپنے بچوں کے چہرے دکھائی دیتے ہیں اور آج شہادت دینے کا مطلب اپنا مستقبل بچانا ہو تا ہے اوراگر کل بھی یہی صورت حال رہتی ہے تو پھر سوچنے کیلئے بہت کچھ ہے۔ کبھی غور سے سوشل میڈیا اور انڈین میڈیا کے بیانیوں کو دیکھیں تو آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ انڈین بیانیے اور تحریک انصاف کا بیانیہ ایک ہی ہوتا ہے جو کابل اور قندہار تک کام کررہا ہوتا ہے۔اب یہ کوئی راکٹ سائنس تو نہیں کہ جسے سمجھنے کیلئے بہت زیادہ عقل درکار ہو کہ اصل معاملہ کیا ہے؟عمران نیازی نے ٹھیک کہا تھا کہ وہ دہشتگردوں اور پاکستان کے درمیان پُرامن فضا قائم کرسکتا ہے کیونکہ فریق ثانی تو حقیقت میں اُسی کے آزاد کردہ پنچھی ہیں یا پھر اُس کے کلٹ میں گرفتار معصوم نوجوان جن کو کے پی کے کی حکومت لالچ ٗ دھونس اورنوکریاں دے کر اپنا کام کروا رہی ہے۔ یہ بات سوفیصد درست ہے کہ پاکستان کے افغانستان سے ہونے والے مذاکرات مشروط ہیں لیکن ہمیں یہ بھی یاد






