#اداریہ

افغانستان کا گمراہ کن پروپیگنڈا مسترد

Fahad 01

أج کا اداریہ

پاکستان نے استنبول مذاکرات کے حوالے سے افغانستان کا گمراہ کن پروپیگنڈا مسترد کر دیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان ترجمان کے گمراہ کن بیان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ استنبول مذاکرات سے متعلق حقائق کو افغان طالبان نے توڑ مروڑ کر پیش کیا۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے مذاکرات کے دوران افغانستان کی سرزمین پر موجود دہشتگردوں کی گرفتاری اور حوالگی کا واضح مطالبہ کیا تھا، افغان فریق کے الزامات اور بیانات مکمل طور پر جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔
وزارتِ اطلاعات نے واضح کیا کہ اگر افغانستان سنجیدہ ہے تو دہشتگردوں کی حوالگی سرحدی داخلی راستوں کے ذریعے ممکن بنائی جا سکتی ہے
مزید بتایا کہ پاکستان نے افغان سرزمین پر موجود دہشتگردوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، افغان فریق کے دعوے پر پاکستان نے فوری طور پر تحویل کی پیشکش کی، پاکستان کا مؤقف واضح، مستقل اور ریکارڈ پر موجود ہے
وزارتِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف غلط بیانی قابلِ قبول نہیں، افغانستان کی جانب سے جھوٹے دعوے حقائق کے منافی ہیں۔
پاکستان نے واضح کیا کہ دہشتگردوں کی حوالگی سرحدی انٹری پوائنٹس سے ممکن ہے۔
پاک فوج کے سربراہ نے افغان طالبان کے رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان طالبان بھارتی حمایت یافتہ گروہوں ’فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان‘ کے خلاف کارروائی کے بجائے ان کی پشت پناہی اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان اور افغانستان نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ رواں ماہ کے اوائل میں سرحدی جھڑپوں اور تعلقات میں تیزی سے بگاڑ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے گا۔
استنبول معاہدہ کئی دنوں کے ڈیڈلاک کے بعد ممکن ہوا تھا، جس کے دوران عمل تقریباً رک گیا تھا، لیکن ثالثوں نے دونوں وفود کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر بٹھایا، یہاں تک کہ پاکستانی وفد واپسی کی تیاری بھی شروع کر چکا تھا۔
پاکستانی اور افغان طالبان وفود کے درمیان بات چیت کے دوسرے دور کا آغاز ہفتے کو استنبول میں ہوا تھا، تاہم کابل سے مسلسل دہشت گرد حملوں پر اسلام آباد کی دیرینہ تشویش ایک بڑا اختلافی نکتہ بنی رہی تھی، جس کے باعث مذاکرات میں تعطل پیدا ہوگیا، تاہم بدھ کو پاکستان کی جانب سے مذاکرات کے ناکام ہونے اور وفد کی واپسی کے اعلان کے بعد ترکیہ اور قطر نے ایک بار پھر مداخلت کر کے مذاکراتی عمل کو بحال کیا اور بالآخر پیش رفت ممکن ہوئی تھی۔
ترکیہ کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ جنگ بندی کے نفاذ کے مزید طریقہ کار پر تفصیلی غور و خوض 6 نومبر کو استنبول میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
اعلامیے میں اگرچہ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ’اعلیٰ سطح کے اجلاس‘ میں کن رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے، تاہم امکان ہے کہ اس سے مراد دونوں ممالک کے وزرائے دفاع ہیں جنہوں نے دوحہ میں مذاکرات کے پہلے دور کی قیادت کی تھی اور اب وہ استنبول میں دوبارہ ملاقات کریں گے۔
30 اکتوبر کو آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا تھا کہ پاکستان افغانستان سمیت اپنے تمام ہمسایوں سے امن چاہتا ہے، تاہم افغان سرزمین سےدہشت گردی برداشت نہیں کریں گے۔
آرمی چیف نے واضح کیا تھا کہ افغانستان کی جانب سے مسلسل دہشت گردی کے باوجود پاکستان نے گزشتہ چند برسوں میں تحمل کا مظاہرہ کیا اور پاک-افغان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے سفارتی اور معاشی سطح پر متعدد اقدامات کیے۔
دوسری جانب پاکستان و افغانستان کے درمیان اہم گزرگاہ طورخم صرف افغان مہاجرین خاندانوں کی واپسی کے لیے کھول دیا گیا گزشتہ یہ اقدام افغانستان جانے والے ان افغان مہاجرین خاندانوں کیلئے کھول دیا گیا پاکستان میں اپنا گھر بار چھوڑ کر واپس افغانستان روانہ ہوئے اور پاک افغان کشیدگی کے باعث بارڈرز بند ہونے کے باعث گزشتہ بیس دنوں سے راستوں میں پھنس گئے تھے ان پھنسے افغان پناہ گزین خاندانوں میں خواتین، بچے اور بزرگ بڑی تعداد میں شامل ہیں جو پاک افغان شاہراہ کے مختلف مقامات پر اجازت ملنے کے منتظر تھیں حکام کے مطابق بارڈر گیٹ کھلتے ہی ہزاروں افغان شہری افغانستان روانہ ہوگئے ادھر افغانستان میں پھنسے خالی ہینو اور چھوٹی گاڑیوں کو بھی پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی افغان مہاجرین نے پاکستانی عوام اور حکومتی اداروں کی جانب سے کھانا، پانی اور رہائش سمیت ہر ممکن سہولت فراہم کرنے پر خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام نے مشکل وقت میں مثالی مہمان نوازی کی سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ مہاجرین جو پنجاب سے خیبرپختونخوا پہنچ چکے ہیں ان کی مشکلات کم کرنے اور بارڈر کے رش کو قابو میں رکھنے کے لیے طورخم بارڈر کو مزید ایک سے دو دن تک کھلا رکھنے کا امکان ہے تاکہ تمام افغان مہاجرین کی واپسی ممکن ہو سکے مہاجرین نے مطالبہ کیا کہ سرحدی مسائل کو مذاکرات سے حل کیا جائے اور بارڈر کو بار بار بند نہ کیا جائے کیونکہ اس سے دونوں ممالک کی عوام کو شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ تجارتی سرگرمیاں اور پیدل آمدورفت تاحال معطل ہیں جن کی بحالی کے حوالے سے ٹرانسپورٹرز اور کاروباری حلقوں میں امید پیدا ہوئی ہے کہ صورتحال جلد معمول پر آ جائے گی راستے میں پھنسے ہوئی دیگر گاڑیوں کے ڈرائیواروں نے بھی مطالبہ کیا کہ ہمیں بھی موقع دیا جائے اور سرحد پار کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ ہمارے پاس کھانے پینے کے پیسے ختم ہوچکے ہیں اس سردی میں کھلے اسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اس کے ساتھ طورخم میں سینکڑوں مسافر جن میں بچے خواتین، بوڑھے شامل تھے وہ بھی اپنے وطن جانے کے منتظر تھے انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرحد کو کھول دیا جائے تاکہ عام عوام کی تکلیف ختم ھو انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالیں بارڈر بندش سے دونوں ممالک کا نقصان ہو رہا ھے

افغانستان کا گمراہ کن پروپیگنڈا مسترد

سو لفظوں کی کہانی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے