#کالم

داتا دربار کی تزئین میں تاخیر ، عقیدت مندان کی تشویش

WhatsApp Image 2025 10 21 at 23.56.49 1

تحریر، محمد ندیم بھٹی

حضرت علی ہجویریؒ کے مزار مبارک داتا دربار کی تزئین و آرائش کا منصوبہ بدستور تعطل کا شکار ھـے، جس پر شہریوں، زائرین اور عقیدت مندوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ھـے۔ روحانی اور تاریخی حوالے سے ملک کے اہم ترین مقامات میں شمار ہونے والے اس عظیم دربار کی ازسرِنو مرمت اور سہولیات کی بہتری کے لیے شروع کیا گیا منصوبہ غیر معینہ عرصے سے تاخیر کا شکار ھے۔ متعدد یاد دہانیوں کے باوجود انتظامیہ کی خاموشی اور متعلقہ حکام کی عدم دلچسپی نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ھـے۔
سروے کے دوران زائرین کا کہنا ھـے کہ کھدائی، ادھورا فرش، ملبے کے ڈھیر، بند راستے اور غیر مناسب عارضی گزرگاہیں باعثِ اذیت ہیں۔ بزرگوں اور معذور افراد کو سخت مشکل پیش آتی ھـے جبکہ روشنی اور صفائی کے انتظامات خصوصی طور ہر جمعرات کی رات کو ناقص ہیں۔ کئی مقامات پر خطرناک صورتحال کے باوجود متعلقہ اداروں کی طرف سے کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آ سکی۔
داتا دربار پر روزانہ ہزاروں لوگ حاضری دیتے ہیں مگر انتظامی خامیوں کے باعث معاملات بری طرح متاثر ہو رھے ہیں۔ شہر کے بیچوں بیچ واقع اس مقام پر توجہ نہ دینا انتظامیہ کی سنگین غفلت کا ثبوت ھے۔ زائرین کا کہنا ھے کہ بیرونِ ملک سے آنے والے عقیدت مند جب یہ مناظر دیکھتے ہیں تو ملکی انتظامی صلاحیتوں یعنی محکمہ اوقاف کے حوالے سے منفی تاثر قائم ھوتا ھے۔ ایک طرف یہ دربار پاکستان کے روحانی تشخص کی علامت ھے، دوسری جانب اس منصوبے میں تاخیر حکومتی بے حسی کی ناقابلِ فہم دلیل بن چکی ھے۔
مسجد کے اطراف کھدائی اور ادھورے تعمیراتی کام نہ صرف بدنظمی ظاہر کرتے ہیں بلکہ وہاں موجود سلامی، وضو، صفائی اور زائرین کی آمد و رفت کے نظام کو بھی متاثر کر رھے ہیں۔ لنگر خانے تک رسائی بھی مشکل ھو چکی ، فرش کی خرابی، راستوں کی بے ترتیب بندش اور ملبے کے ڈھیر انتظامیہ کی ناکامیوں کی کھلی نشانی ہیں۔
داتا دربار کے حوالے سے ایک اور اہم پہلو اس کی ماہانہ آمدن ھے جو اوقاف کو باقاعدگی سے وصول ھوتی ھے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دربار کی ماہانہ آمدن خطیر رقم پر مشتمل ھے، جسے اگر شفافیت کے ساتھ استعمال کیا جائے تو نہ صرف تزئین و آرائش کا کام با آسانی مکمل کیا جاسکتا ھے بلکہ زائرین کے لیے سہولیات کو بھی عالمی معیار کے مطابق بہتر بنایا جا سکتا ھے۔ شہریوں کا مؤقف ھے کہ اس خطیر آمدن کو بدانتظامی یا غیر ضروری اخراجات کی نذر کرنے کے بجائے براہِ راست تعمیراتی کاموں پر خرچ کیا جائے تاکہ دربار کی حالت سنور سکے اور زائرین کو درپیش مشکلات میں واضح کمی آئے۔
لوگوں کا کہنا ھے کہ منصوبے میں تعطل کے باوجود کسی بھی سطح پر نہ تو کام کی رفتار سے متعلق کوئی معلومات فراہم کی گئیں اور نہ ہی تکمیل کی کوئی حتمی تاریخ سامنے آئی ھے۔ اوقاف کے متعلقہ محکمے اور ضلعی افسران اس معاملے پر مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ھے کہ معاملے میں مالی بے ضابطگیوں بھی زیرِ بحث ہیں جنہیں چھپانے کی کوشش ھو رہی ھے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ فنڈز اور کام کی رفتار سے متعلق تفصیلات کسی بڑے افسر کی متوقع ریٹائرمنٹ سے پہلے سامنے لائ جائیں اور منصوبے میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔
اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ قابلِ مذمت پہلو اعلیٰ حکام کی عدم دلچسپی ھے۔ بالخصوص ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار سمیت ذمہ دار حکام کی خاموشی اس غفلت کو مزید نمایاں کرتی ھے۔ جس مقام پر ریاست کو خصوصی توجہ دینی چاہیے تھی، وہاں حکومتی سطح پر سستی اور بے توجہی دکھائی دیتی ھے۔ عوام سوال کرتے ہیں کہ کیا داتا دربار ریاستی ترجیحات میں شامل نہیں؟ کیا یہ منصوبہ ضروری نہیں کہ اسے فوری طور پر مکمل کیا جائے؟ کیا کسی اور معاملے کے مقابلے میں یہاں کی روحانی اہمیت کم ھے؟ ان سوالات کے جواب نہ ملنے سے عوامی بے چینی میں اضافہ ھوا ھے۔
داتا دربار کے انتظامی معاملات بھی تعمیراتی رکاوٹوں کے باعث متاثر ہیں، سیکورٹی، پارکنگ، وضو و طہارت، خواتین کے لیے مخصوص راستے اور بزرگ زائرین کے لیے سہولتیں ناکافی ہونے کے ساتھ ساتھ بد نظمی کا شکار ہیں۔ زائرین کی مشکلات بڑھتی جا رھی ہیں جبکہ نگرانی حضرات اپنی شلوار کی پچھلی جیب کو بھرنے میں پر جوش نظر آتے ھیں جبکہ محکمہ اوقاف کا ردعمل صرف خاموشی تک محدود ھے۔
شہریوں کا مطالبہ ھے کہ حکومت فوری طور پر مداخلت کرے، منصوبے کے تعطل کی وجوہات سامنے لائی جائیں، اور تکمیل کے لیے واضح مدت مقرر کی جائے۔ اس حوالے سے شفاف نظامِ نگرانی قائم کیا جائے، فنڈز کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں اور بدعنوانی ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس معاملے کا جائزہ لے اور مشاہدات رپورٹ کی شکل میں عوام کے سامنے رکھے۔
اگر حکومت نے اس معاملے کی فوری اصلاح نہ کی تو زائرین کے مسائل میں مزید اضافہ ھوگا، عوامی غم و غصہ بڑھے گا اور ریاستی ساکھ متاثر ھوگی۔ یہ معاملہ محض تعمیرات کا نہیں بلکہ پاکستان کے روحانی ورثے اور شناخت کا ھے۔ داتا دربار جسے صدیوں سے روحانی مرکز کی حیثیت حاصل ھے، اس کی بے توجہی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اس مقدس مقام کی تعمیر و مرمت اور انتظامی بہتری فوری طور پر یقینی بنائی جائے تاکہ زائرین کو سہولت میسر ھو اور دربار اپنی معنوی عظمت کے ساتھ آباد رہ
ھے۔ مجلس عقیدت مندان داتا دربار کے ارکان کی ھفتہ وار خصوصی مجلس میں تجاویز زیر بحث آئیں کہ داتا دربار کی ماہانہ آمدنی میں سے کم از کم 40٪ بجٹ بطور مستقل ترقیاتی فنڈ مختص کیا جائے تاکہ تزئین و آرائش اور تعمیر و بحالی پر بلا رکاوٹ سرمایہ خرچ ھو سکے۔ منصوبے کی نگرانی کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک آزاد اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں شہری نمائندے، اعلی صحافی ،انجینئرز، کنزرویٹرز اور سول سوسائٹی شامل

داتا دربار کی تزئین میں تاخیر ، عقیدت مندان کی تشویش

ہماری ذمہ داریاں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے