سو لفظوں کی کہانی
سلام
(مرکزی خیال بشکریہ شبیر بونیری)
ہسپتال بیٹا لے کر گیا،
کینسر کی جنگ لڑتا ہوا،
وی آئی پی کینٹین کی طرف چلا گیا،
گارڈ نے اس سخت لہجے میں وہاں سے ہٹایا کہ،
دل کے ساتھ، بیٹے کا مان بھی جیسے ٹوٹ سا گیا۔۔۔
بات دل میں بیٹھ گئی۔۔۔
معاشرے میں وہ مقام حاصل کیا،
جہاں سلام کو ہاتھ اٹھتے ہیں۔۔۔
چار سال بعد ماں بیمار ہوئیں،،،
اسی ہسپتال جانا ہوا،
اسی کینٹین کا رخ کیا،
سلام کرنے والوں کی لمبی قطار،
وہی گارڈ قطار میں سب سے پہلے کھڑا تھا،
جس نے کم مائیگی کی وجہ سے چار سال پہلے غصے سے ہٹایا تھا۔






