#کالم

بے خبری کی نعمت اور ہمارے فیصلے

Untitled 5 1

احساس کے انداز  تحریر:۔ جاویدایازخان 

گذشتہ دنوں ایک واقعہ پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔یہ واقعہ کس قدر سچ ہے یہ تو معلوم نہیں ؟  لیکن اس سے ملنے والا سبق یقینا”ایک بڑی حقیقت ہے ۔کہتے ہیں کہ ایک بزنس مین نے ایک بار جنوبی افریقہ سے ایک بہت بڑا ہیرا خریدا جو تقریباً انڈے کی زردی کے برابر تھا۔ مگر اُس کی مایوسی کے لیےاُس ہیرے کے اندر ایک دراڑ سی نظر آتی تھی جو اس کے حسن کو ماند کررہی تھی ۔ وہ ایک ماہر جیولر کے پاس گیا تاکہ کوئی مشورہ لے سکے۔ جیولر نے غور سے ہیرے کو دیکھا اور کہا”اس ہیرے کو دو مکمل خوبصورت جواہرات کے ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جن کی قیمت اصل ہیرے سے بھی زیادہ ہوگی۔ لیکن اگر ضرب ذرا سی بھی غلط پڑی تو یہ ٹکڑوں میں بکھر کر ٹوٹ جائے گا، اور بالکل بیکار ہو جائے گا۔ اور "میں یہ رسک ہرگز نہیں لوں گا۔” بزنس مین دنیا بھر کے مختلف جیولرز کے پاس گیاتو سب نے ایک ہی جواب دیا — "یہ کام بہت خطرناک ہے”۔ آخرکار کسی نے اُسے ایمسٹرڈیم کے ایک بوڑھے کاریگر کے بارے میں بتایا جسے "سنہری ہاتھوں والا” کہا جاتا تھا۔ وہ فوراً وہاں پہنچ گیا۔ بوڑھے جیولر نے ہیرے کو اپنے عدسے سے بغور دیکھا اور پھر وارننگ دی —”خطرہ بہت زیادہ ہے۔” بزنس مین نے اُسے ٹوکا کہ "یہ جملہ میں پہلے بھی بہت سن چکا ہوں”اور اب میں اس کے لیے تیار ہوں بس جو کرنا ہے کر دو۔جیولر نے مسکرا کر سر ہلایا، قیمت طے کی، اور اپنے قریب کام کرتے ایک نوآموز لڑکے کی طرف متوجہ ہوا۔ لڑکے نے ہیرے کو اپنی ہتھیلی پر رکھا اور ایک ہی وار کیا — صاف، درست، مکمل وار ۔ اور ہیرا دو بے عیب جواہرات میں تقسیم ہو گیا۔ بغیر اوپر دیکھے، اُس نے دونوں پتھر استاد کے حوالے کر دیے۔ حیران بزنس مین نے پوچھا یہ تمہارے ساتھ کب سے کام کر رہا ہے؟ بوڑھا جیولر مسکرایا یہ اُس کا تیسرا دن ہے یہ ابھی ہیرے کی اصل قیمت نہیں جانتا اسی لیے اُس کا ہاتھ نہیں کانپا۔ حقیقت یہ ہے کہ کبھی کبھی ہم جس چیز کو کھونے سے سب سے زیادہ ڈرتے ہیں اُسی کے بارے میں درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ زندگی کے چیلنجز کو ہمیشہ ہلکا سمجھو — تمہارا ہاتھ خود بخود مضبوط ہو جائے گا۔ہمارے ایک بزرگ چاند خان اکثر کہا کرتے تھے کہ 

لاعلمی اور بےخبری بھی  ایک نعمت ہوتی ہے۔یہ بات بظاہر متضاد لگتی ہے کیونکہ عام طور پر علم کو روشنی اور لاعلمی کو اندھیرا کہا جاتا ہے ۔مگر بعض مواقع پر لاعلمی واقعی ایک نعمت غیر متوقیہ بن جاتی ہے ۔”علم روشنی ہے "مگر کبھی کبھی یہی روشنی آنکھوں کو چکا چوند کردیتی ہے  ۔بعض سچائیاں اتنی تلخ ہوتی ہیں کہ ان سے ناواقف رہنا ہی سکون دل کا باعث ہوتا ہے ۔انسان کی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ سب کچھ جان لینا چاہتا ہے مگر سب کچھ جان جانا ہمیشہ سود مند نہیں ہوتا۔علم انسان کو سوچنا سکھاتا ہے اور سوچ انسان کو عقل دیتی ہے ۔اور  جو چیز عقل تسلیم نہ کرے وہ کام  کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے ۔ہمیشہ علم ،عقل اور سوچ ڈر پیدا کرتی ہے۔اسی لیے عقل اور دل کے فیصلے الگ الگ ہوتے ہیں ۔دل اپنے فیصلے کبھی عقل سے نہیں کرتا ۔دل سوچ سے بے نیاز ہوتا ہے ۔

بہتر ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل 

لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ  دو 

زندگی میں ایسے بےشمار لمحے آتے ہیں جب لاعلمی دراصل خدا کی طرف سے ڈھال بن جاتی ہے ۔مثال کے طور پر اگر ہمیں پہلے سے یہ معلوم ہو جاۓ کہ آنے والے دنوں میں کیا غم ،جدائیاں یا مصیبتیں ہمارا انتظار کررہی ہیں۔تو کیا ہم آج سکون سے سانس لے سکتے ہیں ؟ لاعلمی ہمیں "حال "میں جینے کا حوصلہ دیتی ہے ۔ کسی جہاز کو یہ پتہ ہو کہ وہ منزل پر نہیں پہنچ سکےگا تو وہ پرواز ہی نہ کرۓ اور ایک کمہار کے برتن پک سکیں گے تو وہ برتن لاوۓ میں نہ رکھے یا ایک کسان کی فصل کیا پھل پھول پاۓ گی یا نہیں ؟کسی ماں کا بچہ جوانی کی بہاریں دیکھ بھی پاۓ گا ؟ کوئی طالب علم امتحان پاس کر بھی سکے گا یا نہیں ؟ یہی لاعلمی اور بےخبری  ان کے خوابوں کو زندہ رکھتی ہے ۔اگر ہر انجام پہلے سے معلوم ہو تو جینے کی آرزو ہی مرجاۓ ۔ سورۃ البقرا میں ارشاد ربانی ہے کہ بعض اوقات علم کا دروازہ بند رکھنا انسان کے لیے بہتر ہوتا ہے ” ۔اور "ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو "یہی وہ مقام ہے جہاں بےخبری دراصل نعمت بلکہ ایمان بن جاتی ہے ۔کسی نقصان کا اندیشہ اور کچھ کھو دینے کا احسا س اور ڈر انسان کو بزدل بنا دیتاہے ۔

یہ جو اگہی کا سراب ہے 

یہی سب سے بڑھ کر عذاب ہے 

علم وعقل  اکثر ہماری زندگی میں خدشات اور خوف کی دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتے مگر اصل دانائی یہ ہے کہ ہم وہ کچھ جانیں جو جاننا ضروری ہے اور وہ نہ جاننے دیں جو دل کا چین چھین لے ۔زندگی کی خوبصورتی اسی توازن میں چھپی ہے کہ کچھ باتیں جان لینا ہی کافی ہے باقی خدا پر چھوڑ دینا چاہیے ۔تحقیقی طور پر یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ تقریبا” پچانوےفیصد خدشات کبھی حقیقت نہیں بنتے ۔ہم زیادہ تر اپنے ذہن میں فرضی خطرات پیدا کرلیتے ہیں ۔ناکامی ،رد کئے جانے کا خوف ،نقصان یا مذاق بننے کا ڈر ہمارے ارادوں کو مفلوج کردیتا ہے ۔اصل میں ترقی اور کامیابی انہی لوگوں کا نصیب بنتی ہے جو خوف سے بےنیاز قدم بڑھاتے ہیں ۔یعنی "خوف کا نہ ہونا بہادری نہیں بلکہ خوف کے باوجود آگے بڑھنا اصل بہادری ہوتا ہے ” ہم نہیں جانتے کہ خوف کی دیوار کے اس پار کتنی  خوشیاں ہماری منتظر ہوتی ہیں ۔ڈر اور خوف کے قیدی کبھی منزل تک نہیں پہنچتے ۔یاد رہے کہ ضرورت سے زیادہ ذہانت اور احتیاط ڈر پیدا کرتی ہے ۔ڈر ،خوف اور وہم کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہ تھا کیونکہ انسان کا سب سے بڑا دشمن باہر نہیں یہ  ہمیشہ ہمارے اپنے اندر ہی چھپا ہوتا ہے ۔

ہمارے ایک دوست صرف خدشات اور خوف کی باعث  اپنے بچوں کے رشتے نہیں کر پاۓ اور بےشماراندیشے اور وہم انہیں ایسا نہیں کرنے دیتے جسکی وجہ سے ان کے بچوں کی عمریں نکلی جارہی ہیں   ۔وہ بچوں کے رشتے کرنا تو چاہتے ہیں لیکن ان کے بےجا اندیشے ختم ہونے کا نام نہیں لیتے ۔آج ہمارے معاشرے میں بچوں کی شادیاں محض حقیقی رکاوٹوں سے کی وجہ سے نہیں بلکہ بلاوجہ خدشات ،وہموں اور خود ساختہ خوفوں کی وجہ سے رکی رہتی ہیں ۔والدین کے ذہن میں طرح طرح کے ڈر جنم لیتے ہیں کہ کہیں رشتہ  نبھ نہ پاۓ؟ کہیں لڑکی کے نصیب خراب نہ نکل آئیں؟ کہیں لڑکا نالائق ثابت نہ ہو ؟کہیں سسرال اچھا برتاؤ نہ کرے ٔ؟کہیں مالی حالات ساتھ نہ دیں ؟ کہیں کل کو لڑکا دوسری شادی نہ کر لے ؟وغیرہ وغیرہ اور پھر تحقیقات کرتے کرتے کہیں نہ کہیں سے کوئی نہ کوئی منفی پہلو  نکل ہی آتا ہےیا پھر یہ خوف انہیں نکاح نامے میں  بڑی بڑی غیر منطقی شرائط رکھنے پر مجبور کرتا ہے جو بعد میں وجہ تنازع بن جاتے ہیں ۔یہ سب خدشات اپنی جگہ  درست مگر حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں کسی فیصلے کی ضمانت کوئی نہیں دے سکتا نہ پیسہ ودولت نہ جائداد  نہ کڑی شرطیں ۔۔اکثر والدین "درست وقت "یا "کامل یقین” کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور یوں وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے ۔یہی وہ مقام ہے جہاں خوف فیصلے پر غالب آجاتا ہے۔اور اولاد کے نصیب اور اعتماد دونوں خدشات اور خوف کی نذر ہوجاتے ہیں ۔اصل حقیقت یہ ہے کہ نہ کوئی رشتہ کامل ہوتا ہے اور نہ کوئی وقت ۔۔کامل صرف نیت ،دعا اور بھروسہ ہوتا ہے ،جب انسان یہ مان لے کہ کامیابی اللہ کے اختیار میں ہے تو پھر ہر خوف بہت چھوٹا اور ہر فیصلہ آسان لگنے لگتا ہے۔

بے خبری کی نعمت اور ہمارے فیصلے

میں ٹھیک ہوں!!!

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے