شمسی توانائی سے جُڑے ارضی حقائق
افکارِ تازہ : ڈاکٹر افتخارالحق
کچھ دلچسپ شواہد ملاحظہ کیجیے
چین: سولر لگوانے والوں کو نہایت کم سود پر قرضے دیتا ہے اور حکومت وسیع پیمانے پر سولر پلانٹس میں سرمایہ کاری کرتی ہے۔
انڈیا: پرائم منسٹر سوریہ گھر سکیم کے تحت خاص طور پر گھریلو سولر صارفین کے لیے متعدد رعایتیں دیتی ہے۔
جرمنی : دنیا میں سولر انرجی کا بڑا سرمایہ کار ۔فیڈ ان ٹیرفس / Feed-in tariffs کے تحت گھریلو سولر صارفین کے لیے طویل المعیاد معاہدے کرنے اور ان سے مارکیٹ نرخ سے کہیں زیادہ قیمت پر بجلی خریدنے والا ملک ۔
آسٹریلیا : یہاں فی کس سولر پینل لگوانے کا تناسب پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور اس کی واحد وجہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے نیٹ میٹرنگ وغیرہ میں صارف- دوست پالیسی اور رعایتیں
ہالینڈ : یہاں بھی فی کس سولر انرجی کی شرح بہت زیادہ ہے اور بنیادی سبب حکومت اور عوام کی ماحول دوست مشترکہ کوششیں ۔
امریکہ : فیڈرل ٹیکس کریڈٹ پالیسی اور تمام ریاستوں کے صارف -دوست متنوع طریقے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ سولر انرجی لگوائیں ۔
اسلامی جمہوریۂ پاکستان : 31 اکتوبر 2025 کو حکومت کا اعلامیہ کہ نیٹ میٹرنگ میں صارفین سے بجلی موجودہ 22 روپے فی یونٹ کو نصف کرنے پر غور کر رہی ہے ۔
اوپر پیش کردہ چنیدہ مثالوں اور نکات کی کسی بھی باوثوق ذریعے سے تصدیق کی جاسکتی ہے ۔ یہ حقائق پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان سے مودبانہ درخواست کی جائے کہ وہ اپنی مجوزہ پالیسی پر نظرِ ثانی کرے اور اپنے اقتصادی ماہرین سے مشاورت کرکے سولر پاور کے صارفین کی حوصلہ شکنی کرنے کی بجائے ایسی پالیسی مرتب کرے جس سے مزید لوگ اس قدرتی وسیلے سے فائدہ اٹھا کر فضائی آلودگی کی کمی میں حکومت کی بھرپور معاونت کرتے ہوئے نیشنل گرڈ پر بوجھ مزید کم کیا جا سکے ۔فی الوقت اس صارف شکن تجویز پر حکومتی موقف کافی کمزور ہے اور اس کے بہت سے قابلِ عمل متبادل بیانیے تشکیل دیے جا سکتے ہیں۔ متعلقہ حکومتی ترجمانوں کے مطابق واپڈا کا مطلوبہ مالیاتی ھدف پورا کرنے کے لیے ایسا کرنا ناگزیر ہے کیونکہ سولر صارفین کی تعداد میں روز بروز اضافے کے سبب عمومی / نان سولر صارفین کے لیے بجلی کی پیداواری لاگت بڑھنے لگی ہے جس کا بوجھ انھی نان سولر صارفین پر ڈالنا پڑتا ہے ۔اس بظاہر پیچیدہ سلسلے کے تانے بانے آئی ایم ایف سے جا ملتے ہیں ۔ مجوزہ حکومتی پالیسی کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ اس طرح آئی ایم ایف سے قرضوں کی فراہمی کا تسلسل برقرار رکھنا ممکن ہوگا۔ ان قرضوں کا حجم حکومتی ذرائع کے مطابق 84 ہزار ملین روپے ہے جب کہ آزادانہ ذرائع یہ رقم لگ بھگ 6600 ملین ڈالر کی ہوش ربا رقم بتاتے ہیں ۔ اس طرح کی تجاویز بہت سے سوالات کو جنم دیتی ہے :
کیا حکومت کو اچانک پتا چلا ہے کہ سولر کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ضرورت کے نتائج کیا ہوں گے ؟کیا صاحبانِ اقتدار و دانش نے کسی قسم کی طویل مدّتی حکمتِ عملی کے لیے ماہرین کی کوئی ٹیم تشکیل نہیں دی جا سکی ؟ کیا حکومت کو سستی بجلی کی فراہمی اور آئی ایم ایف کی شرائط سے نمٹنے کے لیے اور کوئی طریقہ نہیں سجھائی دیا ؟کیا بجلی چوری کرنے والوں سے جبری وصولی کرکے اخراجات پورے کرنا واقعی ناممکن ہے؟ کیا حکومت کے پاس کوئی اور شعبہ ہے ہی نہیں جس کے خرچوں پر قابو پا کر سولر صارفین کو کسی قسم کی ذہنی اذیت سے ہمیشہ کے لیے نجات نہیں دلائی جا سکتی جیسا کہ ابتدا میں پیش کردہ ممالک کرتے ہیں؟ واضح رہے کہ متذکرہ بالا فہرست میں صرف ترقی یافتہ ممالک ہی شامل نہیں ہیں ۔
اس کے علاوہ معاشی حکمتِ عملی کے بارے میں مزید سوالات کرنا بھی پاکستانی شہریوں کا آئینی حق ہے اور ایسے سوالات کا مقصد ان مسائل کے حل کے لیے دعوتِ فکر دینے کے علاوہ کچھ نہیں ۔ کیا پہلے ہی تنخواہ دار طبقے سے بہت زیادہ ٹیکس وصول کرنے کے بعد بھی وزارتِ خزانہ کے مطابق کل وصول شدہ ٹیکسوں کا بہت کم حصہ اس مد سے نہیں آیا ہے؟ کیا غیرمعمولی حد تک متموّل اور کاروباری طبقے سے ان کی “ اصل “ آمدنی کے مطابق ٹیکس لے کر ہمارا تجارتی خسارہ نمایاں حد تک کم نہیں کیا جا سکتا ؟ کیا ہمارے لیے نئے ڈیم بنانا بالکل ناممکن امر ہے ؟ کیا دیامیر بھاشا اور نیلم۔ جہلم منصوبوں کی تکمیل کے لیے ہم کسی غیبی امداد کے منتظر ہیں؟ کیا منصوبوں کی فوری تکمیل سے متوسط اور غریب طبقے کو سستی بجلی نہیں ملے گی اور کیا اس طرح لوڈ شیڈنگ کا جن قابو نہیں آ سکتا ؟ یہ اور اس طرح کے متعدد اور سوالات ہیں جو “ عام آدمی “ کے ذہن سے نکل کر لبوں تک آنے لگے ہیں اور انھیں سننے کے لیے سوشل میڈیا ہی کافی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بیرونی محاذ پر موجودہ حکومت مسلسل کامیابیاں حاصل کرنے پر داد و تحسین کی بجا طور پر مستحق ہے ۔ تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ داخلی معاملات میں اسے ابھی کئی اور اقدامات کی ضرورت ہے ۔ موجودہ مخلوط حکومت کے اتحادی ارکان کو میثاقِ جمہوریت کے بعد “ میثاقِ معیشت “ مرتب اور نافذ کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ تمام اتحادیوں کو پیہم یاد رکھنا چاہئیے کہ اپوزیشن اس وقت حکومت کی معمولی سی لغزش کو بھی تعصب اور منافرت کے عدسے سے سنگین غلطی کے طور پر دکھانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے ۔ ایسے میں اتحاد کو مزید مضبوط کرنے کی بجائے اختلافات کی فضا کو نمایاں کرنا ہرگز دانش مندانہ حکمتِ عملی نہیں ۔ دونوں بڑے اتحادیوں کو متفقہ اور غیرمتنازعہ انداز میں فوری طور پر کسی ایسی معاشی منصوبہ بندی پر کام کرنا چاہئیے جس سے “ عام آدمی “ کے لیے زندگی آسان ہو سکے ۔ وہ جو انگریزی کے محاورہ ہے کہ افعال الفاظ سے بلند تر آواز میں بولتے ہیں ، اس پر عمل کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی سطح پر ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے ساتھ ساتھ کوشش کرنی چاہیئے کہ مہنگائی کم کرنے کے لیے






