#کالم

میں ٹھیک ہوں!!!

Untitled 14

جمع تفریق۔۔۔ ناصر نقوی
الحمدللہ۔۔ میں ٹھیک ہوں، مالک کائنات سے طالب دعا ہوں کہ آ پ سب میرے ملنے جلنے والے، دوست احباب اور عزیز و اقارب سب ٹھیک ہی رہیں، صحت و تندرستی والی زندگی ہی حقیقی نعمت ہے ورنہ زندگی سے بڑا بوجھ کوئی دوسرا نہیں ،ایسا وہ جو سہارے نہ سہے اور اتارے نہ اترے، کسی کے خاندان، دوست، رشتہ دار یا ایسے محلے دار کے گھر اور زندگی کا تجزیہ کریں جس کے ہاں کوئی بیمار اور معذور ہو، یقین جانیے۔۔ پورا گھر ،خاندان ہی نہیں، دوست رشتےدار، ملنے والے بھی انتہائی پریشان ملیں گے کیونکہ کسی کی دیکھ بھال، روٹی پانی کپڑا اور دنیاوی معاملات کو ایک ساتھ چلانا انتہائی مشکل کام ہے ،میں ہی نہیں آ پ نے بلکہ سب نے ایسے درجنوں لوگ دیکھے ہوں گے جو ماں باپ کی بدولت آ ج کچھ بن چکے ہیں ، آ ج ان کے پاس اس جہان فانی کی مصروفیات کے باعث وقت نہیں لیکن انہیں یہ خیال کبھی نہیں آ تا کہ اگر ان کے والدین اللہ کے عطا کردہ وقت میں سے ان کے لیے وقت نکالنے کی بجائے صرف اپنے مفادات اور زندگی کے لیے فکر مند ہوتے تو آ پ وہ کبھی نہ ہوتے جو آ ج ہیں، پھر ان کا خیال کیوں نہیں؟ صرف اس لیے کہ ٫٫میں ٹھیک ہوں،، دین حق اسلام اور کلمہ گو کو حکم حاکم ہے کہ سب بھائی بھائی ہیں ایک دوسرے کی فکر کریں بلکہ اپنے لیے جو پسند کرتے ہو، وہی دوسرے بھائی کے لیے پسند کرو، ماں باپ کی تعظیم کرو، بچوں سے شفقت کرو لیکن ہم سب جانتے ہیں مانتے ہیں پھر بھی عمل در آ مد کے قائل نہیں ،اس لیے کہ اپنے اور بچوں کے مستقبل کے لیے بھاگ دوڑ کریں کہ گزرے وقت ٫٫ماں باپ،، کا رونا دھونا دیکھیں، مہنگائی اور جدید حالات میں مقابلے کا رجحان اس قدر بڑھ گیا ہے کہ سب کچھ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتے، میں نے ایک دوست سے پوچھا ٫٫ یہ سب کچھ کیا ہے؟،،
فرمانے لگے٫٫ میں اپنے ماں باپ سے بہت پیار کرتا ہوں ان کی دعاؤں سے ہی تو مجھے دنیا میں پہچان عزت و احترام ملا، میں نے جیسے ہی نئی گاڑی خریدی سب سے پہلے اس پر لکھوایا٫٫ یہ سب کچھ میری ماں کی دعا ہے،،
میں نے کہا٫٫ اور باپ؟؟؟،،
کہنے لگے٫٫ جناب باپ تو باپ ہے وہ تو بیٹوں کو دیکھ کر ھی خوش رہتا ہے، مائیں ذرا زیادہ احساس ہوتی ہیں انہیں حوصلہ دینا پڑتا ہے، والد تو صرف ایک ہی سوال کرتے ہیں ٫٫میں ٹھیک ہوں،، والدہ تو شکل دیکھ کر سوال پر سوال داغ دیتیں ہیں، یہ بالکل نہیں دیکھتیں کہ میرے ساتھ بیوی بچے ھیں، میں ذمہ داری سے دوسرے تیسرے دن ان کا حال چال پوچھنے جاتا ہوں بیمار نہیں ہیں، بس بڑھا پا خود ہی بڑی بیماری ہوتا ہے، قریب ہی رہتے ہیں ایک نوکرانی بھی میں نے کام کاج کے لیے رکھ کر دی ہے، پھر بولے٫٫ آ پ نہیں جانتے ماں باپ کو سنبھالنا کس قدر مشکل ہوتا ہے، آ پ خوش قسمت ہیں کہ آ پ کے ماں باپ جلدی چلے گئے ،میں نے ایک سسٹم بنایا ہے اور٫٫ میں ٹھیک ہوں،،
میں نے غصے میں کہا٫٫ میں ٹھیک ہوں تم ٹھیک نہیں؟،،
فورا بولے٫٫ کیوں کیسے؟،،
میں نے کہا٫٫ جن کے ماں باپ رخصت ہو گئے وہ تمنا کرتے ہیں کہ کاش آ ج وہ زندہ ہوتے ان کے سروں پر بھی رحمت کا سایہ ہوتا ان کے لیے بھی دعاؤں کے دروازے 24 گھنٹے کھلے رہتے کیونکہ ماں باپ بچے خواب کیسے ہی کیوں نہ ہوں، صرف ترقی اور خوشحالی کی دعا دیتے اور غلطی کوتاہیوں کو درگزر کر دیتے ھیں،،
کہنے لگے پالنے والا وہی ہے جو دو جہانوں اور جانوں کا مالک ہے ہماری کیا اوقات کہ ہم ماں باپ کو پال سکیں یہ جذبہ مادر پدر ہی ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی نعمت کو پال لیتے ہیں یہ جذبہ بچوں میں ہرگز نہیں ہوتا، مجھے بیوی بچوں کے لیے سارا سارا دن پاپڑ بیلنے پڑ ھیں، پھر بھی وہ خوش نہیں ہوتے ان کی ضروریات اور ڈیمانڈ پوری کرتے کرتے تھک گیا ہوں جبکہ ماں باپ٫٫ میں ٹھیک ہوں،، کی رپورٹ سن کر خوش ہو جاتے ہیں
میں نے مسکراتے ہوئے کہا ٫٫نہیں آ پ ٹھیک نہیں،، ام آ پ والدین کا حق ادا نہیں کر رہے، بزرگ والدین اللہ کے مہمان ہیں آ پ کے پاس، کبھی اس نظریے سے ان کی خدمت کرو، جو کچھ بیوی اور بچوں کے لیے کر رہے ہو وہ تمہارا فرض ہے لیکن اس آ ڑمیں والدین سے غفلت برتو گے تو پکڑے جاؤ گے ،پہلو تہی نہ کرو ،میری باتیں شاید تمہارے لیے قابل ہضم نہ ہوں لیکن حقیقت یہی ہے کہ اولاد ماں باپ کا قرض ادا ہی نہیں کر سکتی٫٫ میں ٹھیک ہوں ،، یہ بیماری ہمارے معاشرے میں عام پائی جاتی ہے اسی وجہ سے ہم باصلاحیت قوم ہونے کے باوجود ایسے مثبت نتائج حاصل نہیں کر سکے جن کی ضرورت تھی، چپڑاسی کہتا ہے٫٫ میں تو اس محکمے میں 20 سال سے خدمت انجام دے رہا ہوں دراصل افسران اور وزراء بدلتے رہتے ہیں انہیں کیا پتہ محکمہ کیسے چلانا ہے ؟ اگر یہی سوال کسی افسر اعلی سے پوچھ لیں تو جواب ملے گا٫٫ میں تو ٹھیک ہوں محکمہ حرامخوروں سے بھرا پڑا ہے، کوئی کام ہی کرنے کو تیار نہیں ،اپ یہی بات وزیر صاحب سے کر کے دیکھیں، پہلا جواب بھی یہی ملے گا کہ٫٫ میں ٹھیک ہوں،، برسوں کی خرابی اچانک میرے آ نے سے درست نہیں ہو سکتی حالانکہ محکمے میں چپراسی کے علاوہ سب آ تے جاتے اور تبدیل ہوتے رہتے ھیں اور ان کا دعوی بھی یہی ہے کہ٫٫ میں ٹھیک ہوں،، باقی سب گڑبڑ ھےاسی لیے نہ محکماتی حالات تبدیل ہوتے ہیں اور نہ ہی معاملات پھر چپڑاسی نے ایک آ ہ بھری اور ارشاد فرمایا ٫٫ اب چند برسوں میں ہماری بھی ریٹائرمنٹ ہو جائے گی پھر محکمہ جانے اور محکمے والے ٫٫ھسنا منع ہے کیونکہ ہر ذمہ دار شعبے کی

میں ٹھیک ہوں!!!

01/11/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے