وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی جانب سے صوبے میں کئے جانے والے انقلابی اقدامات نے ثابت کردیا ہے
تحریر۔۔۔۔۔۔خضر بٹ
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی جانب سے صوبے میں کئے جانے والے انقلابی اقدامات نے ثابت کردیا ہے کہ وہ نوازشریف کی بیٹی ہیں ان کے والد میاں نواز شریف نے بطور وزیر اعلی پنجاب اور تین بار پاکستان کی وزارت عظمی کے دوران ملک وقوم کی تعمیروترقی کیلئے جس طرح اقدامات کئے انہیں ان کے مخالف سیاستدان بھی سراہتے ہیں آج پنجاب میں 80 سے زائد پراجیکٹس جو پنجاب کی عوام کی فلاح وبہبود کے ضامن اور تعمیروترقی و خوشحالی کے نئے دور سے روشناس کرارہے ہیں صحت تعلیم امن وامان اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ہونے والی ترقی کی ماضی میں مثال نہیں ملتی سی سی ڈی اور پیرا فورس نے پنجاب حکومت کو جن کامیابیوں سے نواز ہے اسی طرح اپناگھر سکیم بھی کامیابی سے بے گھروں کو چھت فراہم کرنے میں پیش پیش ہے قرضہ سکیم سے ملنے والے قرض کو کاروبار کے آغاز کیلئے استمعال کرنے والے خود بھی معاشی طور پر خودکفیل ہورہے ہیں جبکہ وطن عزیز کی معیشت کو بھی استحکام مل رہا ہے خواتین کی ترقی نے پنجاب کو دنیا کے جدید ممالک کی صف میں کھڑا کردیا ہے سکوٹی پر سفر کرنے والی خواتین مریم نواز کے دور حکومت میں خواتین کے تحفظ وترقی کی واضح مثال ہیں پنجاب میں محکمہ جاتی امور بھی جدید و فعال انداز میں عوام کی خدمت پر مامور ہوچکے ہیں
تاریخ میں پہلی بار وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی جانب سے 65 ہزار آئمہ مساجد کے لیے وظیفہ مقرر کرنے کا انقلابی فیصلہ، امام مسجد معاشرے کا قابل تکریم فرد ہے اس کی معاشی معاونت اب حکومت کی ذمہ داری ہو گی، محلے کے چندے پر انحصار غیر مناسب تھا، مساجد کی تعمیر و مرمت کے پراجیکٹس سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہےپنجاب کی تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں سموگ سیزن کے دوران سٹبل برننگ کے مسئلے پر عملی اقدام اٹھایا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے 5000 سپر سیڈرز پہلی مرتبہ فیلڈ میں کام کر رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے آج کوئی لاک ڈاؤن نہیں لگا ,کوئی ریسٹورنٹس , کوئی سکول کوئی کنسٹرکشن سائٹ بند نہیں ہوئی ,یہ سب وزیراعلیٰ مریم نواز کی کاوشوں کی بدولت ممکن ہوا ہے۔حکومت ہر سطح پر ناحولیاتی آلودگی کے خاتمے کیلیے اقدامات کررہی ہے۔تو اب وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کو چاہیے کہ وہ محکمہ پنجاب پبلک پراسیکیوشن پر بھی توجہ دیں کیونک امن وامان کے قیام میں اس محکمہ کا کردار انتہائی اہم ہے محکمہ پراسیکیوشن کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کا اہم تقاضہ ہے یہ محکمہ بہتر ہوگا تو عام آدمی کو انصاف کے حصول میں آسانیاں ہوں گی جرائم میں کمی سے معاشرہ محفوظ ہوگا تو ریاست بھی مظبوط ہوگی اگر سی سی ڈی کی طرز پر محکمہ پراسیکیوشن پر خاص توجہ دی جائے تو پائیدار امن کا قیام یقینی ہوگا جرائم کرنے والوں کو بروقت سزائیں ملنے سے معاشرتی سطح پر اسکے مثبت اثرات مرتب ہوں گے پراسیکیوٹرز کیلئے ماڈل ٹریننگ اکیڈمی ہونی چاہیے، محکمہ پراسیکیوشن میں سروس سٹرکچر بنانا انتہائی ضروری ہے پراسیکیوٹرز کو جوڈیشری کے مساوی سہولیات فراہم کی جانا چاہیے، پراسیکیوٹرز کو مختلف محکموں میں ڈیپوٹیشن پر بھجوا کر ان سے استفادہ حاصل کیا جائے، پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کو تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کیساتھ محکمہ جاتی سطح پر تعاون بڑھانے کیلئے ایک وسیع کوارڈینیشن سسٹم بنانا چاہیے تاکہ دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے لیگل ٹریننگ بھی حاصل کرتے رہیں جیسے پیرا فورس کی لیگل ٹریننگ پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ سے ہوئی ہے سی سی ڈی کے اقدامات قابل ستائش ہیں لیکن دیرپا امن کے قیام کیلئے اور معاشرتی سطح پر اسکے اثرات کیلئے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اور وہ محکمہ پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ پر توجہ دیئے بغیر ممکن نہیں ۔جرائم کے خاتمے کیلئے پولیس، پراسیکیوشن اور عدلیہ کا مشترکہ کردار بہت اہم ہے۔ ملک کی معاشی، سماجی، سیاسی اور ثقافتی ترقی کا دارومدار محفوظ معاشرے کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔ ہر مہذب معاشرے میں مجرموں کو قرار واقعی سزا کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے تاکہ جرائم کی شرح میں کمی ہو سکے۔ کسی بھی فوجداری مقدمے کی بنیاد تفتیش پر ہوتی ہے اگر تفتیشی ادارے اپنی ذمہ داری ایمانداری سے پوری نہیں کریں گے اور جدید تقاضوں کے مطابق تفتیشی طریقہ کار کو نہیں اپنائیں گے تو مجرموں کو سزا ہونے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ اسی طرح عدالتوں میں مقدمات چالان پیش کرنے سے لیکر شواہد اور گواہوں کی دستیابی کی ذمہ داری پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ پر عائد ہوتی ہے اور دستیاب شواہد و گواہان کی روشنی میں جلد اور معیاری انصاف کی فراہمی عدلیہ کا کام ہے۔ کسی بھی مقدمے میں غیر ضروری التواء مقدمے پر بری طرح اثرانداز ہوتا ہے۔ اگر ہم محفوظ، خوشحال اور ترقی کرتا ہو پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں تو ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے، آئین اور قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے اور اس میں حائل رکاوٹوں کو دور کرکے ماڈرن تکینیکی بنیادوں پر سسٹم کو اپ گریڈ کرنا ہے اسلئے لازمی ہے کہ اب محکمہ پراسیکیوشن پر توجہ دی جائے،






