زندگی کی اٹھویں دھائی
احساس کے انداز تحریر :۔ جاویدایازخان
میرا کالم "آخری اسٹیشن ” شائع ہوا تو بے حد پسند کیا گیا ۔دوستوں اور میری تحریروں کے قارئین کے بے شمار تجزیے ،تبصرے ،اور مشورۓ موصول ہوۓجو میری سوچ کی حوصلہ افزائی کی وجہ بنے اور اب جب کے میں زندگی کی آٹھویں دھائی میں داخل ہو ا ہوں تو میں نے سوچا کہ کوئی ایسا کالم لکھا جاۓ کہ سب دوستوں اور پڑھنے والوں انفرادی اور اجتماعی طور پر تشفی ہو سکے ان کے سوالوں کا جواب انہیں میری اس تحریر سے خود بخود ہی مل جاۓ ۔جی ہاں !زندگی کی آٹھویں دھائی کو عموما” زندگی کی آخری دھائی یا آخری مرحلہ بھی شمار کیا جاتا ہے اس لیے اس سے پہلے کے لکھنے کا موقعہ نہ ملے جو دل میں ہے بیان کردیا جاۓ تو بہتر اور بروقت ہو سکتا ہے ۔زندگی کی یہ دھائی ایک ایسی نعمت ہے جو شاید ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتی یہ زندگی کی وہ مہلت ہوتی ہے جو ہمیں موقعہ دیتی ہے کہ کچھ کر لو ،کچھ کر گزرو ،جو سیکھا ہے لوگوں کو سیکھا دو ،جو کچھ سمجھا ہے دنیا کو سمجھا دو ،جو کچھ پڑھا ہے لوگوں تک پہنچا دو ۔۔لکھ سکتے ہو تو لکھ کر اور اگر بول سکتے ہو بول کر اپنی بات ضرور کر جاو ۔ ہر وہ بات کرو جو دنیا کےڈر سے اب تک دل میں لیے بیٹھے ہو ،وہ سب کچھ لکھ دو جسے بیاں کرنا ساری زندگی مشکل سمجھتے رہے ہو ہر وہ شکوہ کر دو جو ہمیشہ دل میں رکھا ہوا ہے اور ہر وہ بے چینی جو ہمیشہ دل میں کھٹکتی رہی ہو تاکہ تمہارا ،تمہاری سوچوں کا وزن کم ہو سکے اور یہ قطعی مت سوچو کہ کوئی تمہاری بات سنے گا یا ضرور پڑھے گا اور یقین بھی کرےگا ؟بلکہ یہ سوچو کہ تم نے اپنا فرض ادا کردیا ہے اور رب کی عطا کی گئی مہلت کا درست فائدہ اٹھایا ہے ۔ لیکن کوئی بات ایسی نہ ہو جو سچ تو ہو مگر لوگوں کے لیے دل آزاری اور شرمندگی کا باعث بنتی ہو ایسی سوچوں اور باتوں کو ساتھ لے جانا ہی بہتر ہوتا ہے ۔جو بات لبوں پر نہ آسکے وہ بات آنکھیں کہہ دیتی ہیں اور آنکھیں ہی سن لیتی ہیں ۔ایسی باتوں کو کہنا نہیں پڑتا وہ تو ان تک پہلے ہی پہنچ چکی ہوتی ہیں جنہیں آپ بتانا چاہتے ہیں جبکہ باقی لوگوں کے لیے ان کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔کہتے ہیں کہ ایک اچھے انسان کو زندگی بھر دو چیزوں سے لڑنا پڑتا ہے پہلی چیز غربت سے اور دوسری چیز منافق لوگوں کی سازش اور حسد سے اور اس دھائی میں یہ دونوں چیزیں بےمعنی ہو کر رہ جاتی ہیں ۔کہتے ہیں کہ جب انسان اپنے کام میں تجربہ کار اور ماہر ہو جاتا ہے تو اسکی رئٹائرمنٹ کا وقت آ جاتا ہے اور گویا جب زندگی کی سمجھ آجاتی ہے تو اسکے سفر کا آخری اسٹیشن آجاتا ہے ۔ یہی وقت ہے جب ہم بزرگوں سے محروم ہوچکے ہوتے ہیں ۔نئی نسل اپنی دنیا میں مگن اور مصروف ہوتی ہے ۔معاشرۓ کے لیے آپ بے معنی ہو جاتےہیں چاہے آپ کا ماضی کتنا ہی شاندار ہو ،آپ کتنے ہی معروف کیوں نہ رہے ہوں ۔یہی وہ دہائی ہے جہاں آپ کو تمام تر بیماریوں کا سامنایہ سوچ کر کرنا ہے کہ اب آپکا صحت کاملہ ہونے کا خواب پورا نہیں ہونے والا گویا آپ زندگی بھر کی اس جدوجہد کے بعد وہیں واپس آجاتے ہیں جہاں سے آپ چلے تھے ۔آپ دوسروں کے ہاتھوں کےسہارے اس دنیا میں آۓ تھے اور دوسروں کے ہاتھوں ہی یہ واپسی کا سفر تمام ہو گا ۔
جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ زندگی کی آٹھویں دھائی میں پہنچ کر انسان کو یوں محسوس ہوتا ہےجیسے طویل سفر کے بعد ٹرین آہستہ آہستہ اپنے آخری اسٹیشن کے قریب جارہی ہے ۔کھڑکی سے باہر کامنظر وہی ہے یعنی درخت ،پہاڑ ،دریا ۔۔مگر اب ان کی معنویت بدل چکی ہے ۔جوانی میں جو منظر ایک راستہ لگتا تھا اب منزل بن جاتا ہے ۔جو شور کبھی زندگی کی علامت تھا اب وہی خاموشی کی تمہید محسوس ہوتا ہے ۔کیونکہ انسان جب اس عمر میں پہنچتا ہے تو خواب نہیں دیکھتا بلکہ خوابوں کی تعبیریں جا ن چکا ہوتا ہے بلکہ خوابوں کی تشریح کرنے لگتا ہے ۔خواہشیں دم تو نہیں توڑتی بس تھک کر ر رفتہ رفتہ خاموش ہو جاتی ہیں ۔باہر کے منظروں سے عدم دلچسپی بڑھنے لگتی ہے ۔ دل میں ایک عجیب سکون اتر آتا ہے جیسے وقت نے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہا ہو "تمہارا سفر تمام ہوا ،تمہارا انتظار ختم ہوا ،اب آرام کرو تم نے بہت سفر کرلیا ہے "تمہارا ٹکٹ یہیں تک کا تھا ۔ اٹھو اپنا سامان باندھو تمہارا اسٹیشن آگیا ہے خالی ہاتھ دنیا میں آۓ تھے لیکن دو کپڑےساتھ لے جارہے ہو ۔ہاں یاد سے اپنی اچھائیوں اور برائیوں کی کتاب بھی ساتھ رکھ لو ابھی امیگریشن کا عمل باقی ہے ۔ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ تمہارا ٹھکانہ اب کیا اور کہاں ہوگا ؟ تب تک اس بڑے دن کا انتظار کرو جس کا میرے رب نے وعدہ کیا ہے اور جس پریقین کئے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہوتا ۔
یہ وہ عمر ہے جب آئینہ چہرہ نہیں دکھاتا بلکہ وقت کی گزری ہوئی تصویریں اور ان تصاویر میں نمائیاں چہرے کی ہر جھری ایک کہانی بن جاتی ہے ۔لاٹھی کے سہارے کھڑی جھکی ہوئی کمر ،کانپتے ہاتھوں اور لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ ساتھ جب گردن کی کھال زندگی کی تلخیوں اور پریشانیوں کے بوجھ سے لٹک جاتی ہے ۔جب دھنسی دھنسی آنکھوں کے حلقے دکھوں کے احساس سے اور بھی سیاہ اور گہرۓ ہو جاتے ہیں ۔جب آپ کی دوائیاں آپ کی خوراک سے بڑھ جائیں ۔شاید یہ تصویریں کچھ تو خوش کن ہوتی ہیں جبکہ بعض بڑی اندوہناک اور لرزہ خیز یا پھر سبق آموز اور نصیحت آموز دکھائی دیتی ہیں ۔چہرے کی ہر سفیدی اور ماتھے کی ایک ایک شکن ایک طویل تجربے کی گواہی دیتی ہے ۔انسان کو معلوم ہوتا کہ دنیا کی سب رونقیں ،سب تعلق ،سب کامیابیاں محض ایک پڑاؤ تھیں منزل نہیں تھیں ۔اور یہیں سے فکر کا ایک دوسرا دروازہ کھلتا ہے ۔دل روح سے بات کرنے لگتا ہے وہ سوال جو عمر بھر عقل سے نہیں سلجھتے کہ "یں کون ہوں ،کہاں سے آیا ہوں ،اور کہاں جاوں گا ؟اب دل کے قریب آکر جواب پانے لگتا ہے ۔روح آہستہ آہستہ کہتی ہے کہ تو مسافر ہے اور یہ دنیا ایک عارضی ریلوۓ اسٹیشن جہاں کوئی ہمیشہ نہیں رکتا "۔یہی وقت وہ تھوڑی سی مہلت ہوتی ہے جو انسان کو اپنی کمی و کوتاہی کا ازلہ اور اپنی غلطیوں ،لرزشوں پر نظر ثانی کے لیے ملتی ہے اور وہ اسی دوران اپنی اصلاح کی آخری سعی کے ساتھ ساتھ اپنے جانے ناجانے گناہوں کی توبہ اور اپنے رب سے معافی کے لیے سرتوڑکوشش کرسکتا ہے ۔یہ ادراک ابتدا میں دکھ دیتا ہے مگر پھر یہ دکھ روشنی بن جاتا ہے انسان محسوس کرتا ہے کہ جو کچھ کھویا وہ فنا نہیں ہوا وہ بس کسی اور جہان میں منتقل ہو رہا ہے ۔اس احساس کے بعد موت کا خوف زندگی کا اطمینان بن جاتا ہے ۔جیسے دریا سمندر سے ملنے سے پہلے خوفزدہ ضرور ہوتا ہے مگر جب اس میں اترتا ہے تو سمجھتا ہے کہ وہ خود سمندر ہی تو تھا ۔ دریا ختم ہوتے ہیں سمندر نہیں ،دریاوں کے سمندر میں گرنے سے سمندر کو بھلا کیا فرق پڑتا ہے ۔
زندگی آٹھویں دھائی میں آنے والا زندگی کا آخری اسٹیشن دراصل انجام نہیں آغاز ہوتا ہے ایک نئے سفر ،نئی منزل اور ایک نئے انکشاف کا خوبصورت آغاز کا ،صدیوں سے بچھڑے بہت سے اپنوں سے ملنے کی خوشی کا احساس ۔۔۔بس شرط یہ ہے کہ آپکے پاس موجود ٹکٹ کا ضمیر صاف ہو ،دل کا بوجھ ہلکا ہو اور نگاہوں میں یقین کی روشنی باقی موجود ہو ۔طویل سفر کے بعد منزل تک پہنچنا کس قدر خوشی اور اطمینان کا باعث ہوتا ہے اور دور سے ہی منزل کے نشان اور روشنیاں کس قدر حسین دکھائی دیتی ہیں یہ وہی جان سکتاہے جو سفر کے نشیب وفراز سے گزر کر اپنا سفر مکمل کر چکا ہو یا جس کی کشتی کو کسی بڑے سمندر کےطوفانوں سے گزر کر اور خوفناک بھنور سے بچ کر کوئی کنارہ نصیب ہوا ہو ۔جس کے پاوں کے چھالے پھوٹ کر سفر کے اختتام کی خبر دۓ رہے ہوں ۔
دشوار فیصلوں سے گزرجانا چاہیے
اب وقت آگیا ہے کہ گھر جانا چاہیے
کہتے رہیں گے لوگ کہ تم ناگزیر ہو
کہتا رہے کوئی کچھ بھی مگر جانا چاہیے






