#کالم

رحمٰن فاؤنڈیشن:انسانیت، ایثار اور شفا کی الہامی تعبیر

Untitled 1

تحریر : منشا قاضی

انسان جب اپنے وجود کی حقیقت کو پہچانتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ زندگی کا مقصد صرف جینا نہیں بلکہ دوسروں کے لیے جینا ہے۔ یہی احساس، یہی وجدان، اور یہی فطری محبت اُس وقت ایک صورت اختیار کرتا ہے جب انسان اپنے وسائل، اپنے وقت اور اپنی صلاحیتوں کو خلقِ خدا کی خدمت کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ اسی روحانی احساس کی عملی شکل ہے ۔۔ رحمٰن فاؤنڈیشن، جو صرف ایک فلاحی ادارہ نہیں بلکہ انسانیت کی ازلی روح کا مظہر ہے۔
لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں قائم اس فاؤنڈیشن کا ہیڈ آفس، اور اس کے تحت چلنے والے ملک بھر کے مراکز، اس بات کی گواہی ہیں کہ اگر نیت خالص ہو تو محدود وسائل بھی لامحدود اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔ رحمٰن فاؤنڈیشن کا قیام اُس وقت عمل میں آیا جب انسانیت کی خدمت کا چراغ، ڈاکٹر وقار احمد نیاز کے دل میں روشن ہوا۔ وہ صرف ایک ماہرِ جڑی بوٹیاں نہیں بلکہ ایک مفکر، ایک فلسفیِ طب، ایک انسان دوست راہنما اور درد شناس معالج ہیں۔ ان کا ایمان ہے کہ ’’خدمتِ انسانیت سب سے بڑی عبادت ہے‘‘ اور یہی ایمان آج ہزاروں زندگیوں میں امید، شفا اور سکون کی صورت میں جلوہ گر ہے۔
گردوں کے امراض دنیا کے مہلک ترین مسائل میں سے ہیں۔ پاکستان میں لاکھوں مریض ایسے ہیں جو ڈائیلاسس کے مہنگے علاج کی سکت نہیں رکھتے۔ جہاں علاج ایک خواب بن جائے، وہاں رحمٰن فاؤنڈیشن حقیقت کا روپ دھار کر سامنے آتی ہے۔ روزانہ سینکڑوں مریض مختلف شہروں کے مراکز میں مکمل طور پر مفت ڈائیلاسس کی سہولت حاصل کرتے ہیں۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد، جہلم، فیصل آباد، سیالکوٹ، پنسرہ اور سرائے عالمگیر میں قائم مراکز اُن افراد کے لیے زندگی کا تحفہ ہیں جن کے گھر غربت کے بوجھ تلے دبے ہیں۔
یہ ادارہ صرف علاج نہیں دیتا، بلکہ احترام، محبت، اور وقار بھی عطا کرتا ہے۔ یہاں مریض کو یہ احساس نہیں ہونے دیا جاتا کہ وہ محتاج ہے، بلکہ یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ عزت اور توجہ کا مستحق انسان ہے۔ یہاں مشینوں کی آوازوں کے ساتھ ساتھ دعاؤں کی سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں، اور ہر چہرے پر شکرگزاری کی روشنی جھلکتی ہے۔
ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی شخصیت ایک سادہ انسان میں پوشیدہ روحانی رہنما کی مانند ہے۔ وہ خدمت کو محض ایک سماجی فریضہ نہیں بلکہ روحانی عمل سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان کا اصل وقار اسی میں ہے کہ وہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ ان کی گفتگو میں علم کی روشنی، ان کے عمل میں ایثار کی خوشبو، اور ان کی قیادت میں شفافیت کی جھلک نمایاں ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ طب صرف جسم کا علاج نہیں بلکہ روح کی تطہیر کا ذریعہ بھی ہے۔
انہوں نے جڑی بوٹیوں کے علم کو جدید سائنسی اصولوں سے جوڑ کر قدرتی علاج کو ایک باوقار اور مستند حیثیت عطا کی۔ ان کے تحقیقی و اصلاحی لیکچرز، سیمینارز اور علمی مجالس میں انسان دوستی، صحتِ عامہ، اور معاشرتی فلاح کے موضوعات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا ہر لفظ اس عقیدے سے جڑا ہوتا ہے کہ اگر ایک انسان کسی دوسرے انسان کے درد کو کم کرے، تو وہ دراصل خالقِ کائنات کی رضا کے قریب ہوتا ہے۔
رحمٰن فاؤنڈیشن کسی حکومتی یا سیاسی سرپرستی کے بغیر، مکمل طور پر مخیر حضرات، عوامی عطیات، صدقات اور زکوٰۃ سے چل رہا ہے۔ یہاں ہر عطیہ ایک امانت سمجھا جاتا ہے۔ فاؤنڈیشن کا انتظامی ڈھانچہ شفافیت، نظم و ضبط اور دیانت داری کی بنیاد پر استوار ہے۔ ہر مریض کی فائل، ہر عطیہ کا حساب، اور ہر علاج کی تفصیل باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ ہوتی ہے۔
یہ ادارہ اعتماد کے اس اصول پر قائم ہے کہ عطیہ دینے والا مطمئن ہو کہ اس کا دیا ہوا ایک روپیہ کسی کی زندگی میں نئی سانس بن رہا ہے۔ فاؤنڈیشن کے تمام مراکز میں جدید ترین مشینیں، تربیت یافتہ عملہ، اور ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم دن رات مصروفِ خدمت ہے۔ عملے کے رویے سے لے کر علاج کے معیار تک، ہر شے میں انسان دوستی کی روح بولتی ہے۔
رحمٰن فاؤنڈیشن نے صرف علاج تک اپنے دائرے کو محدود نہیں رکھا۔ یہ ادارہ عوامی شعور کی بیداری کے لیے مختلف مہمات چلاتا ہے۔ گردوں کے امراض کی وجوہات، پانی کے استعمال، صفائی، متوازن غذا، اور طرزِ زندگی پر آگاہی پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں۔ اسکولوں، کالجوں اور عوامی مقامات پر سیمینارز، واکس اور لیکچرز کے ذریعے نوجوان نسل کو صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
یہ ادارہ خون کے عطیات کی تحریک، ماحولیاتی آگاہی، اور اخلاقی تربیت کے میدانوں میں بھی فعال ہے۔ کیونکہ اس کا فلسفہ ہے کہ صحت اور اخلاق، دونوں مل کر ایک مضبوط معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔
رحمٰن فاؤنڈیشن کو اگر محض ایک ادارہ کہا جائے تو یہ اس کی معنویت کو محدود کرنا ہوگا۔ یہ دراصل ایک ’’تحریکِ انسانیت‘‘ ہے — ایک ایسا کارواں جو جسموں کے ساتھ ساتھ روحوں کا بھی علاج کرتا ہے۔ یہاں خدمت عبادت ہے، اور عبادت محبت۔ یہاں مریض محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک انسانی کہانی ہے جس میں دکھ، امید اور شفا کے رنگ بستے ہیں۔
ڈاکٹر وقار احمد نیاز اور ان کی ٹیم نے ثابت کیا ہے کہ خدمت کے جذبے کے سامنے کوئی رکاوٹ دیرپا نہیں رہتی۔ انہوں نے ایک ایسی مثال قائم کی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کے نزدیک کامیابی اُس لمحے میں پوشیدہ ہے جب کسی بیمار کے چہرے پر مسکراہٹ لوٹ آئے، جب کسی ماں کے آنسو رک جائیں، اور جب کوئی بےبس انسان خود کو اکیلا محسوس نہ کرے۔
رحمٰن فاؤنڈیشن کا یہ پیغام ابدی ہے کہ انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب ہے، اور مسکراہٹ سب سے بڑی عبادت۔
ہر مرکز میں جدید ڈائیلاسس مشینیں، تربیت یافتہ عملہ، ماہر ڈاکٹرز، اور حفظانِ صحت کے عالمی معیار پر مبنی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ لیکن اصل طاقت، اصل معجزہ، ان لوگوں کے دلوں میں ہے جو یہاں کام کرتے ہیں۔ وہ صرف مریضوں کا علاج نہیں کرتے، بلکہ ان

رحمٰن فاؤنڈیشن:انسانیت، ایثار اور شفا کی الہامی تعبیر

سو لفظوں کی کہانی راز

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے