سو لفظوں کی کہانی عمل
اوورسیز ہیں ہم خصوصی درجے کے حقدار ہیں بھئی،،،
پاکستان کے سفیر ہوتے ہیں بیرون ملک،
سرکاری ادارے ہوں یا پھر کارپوریٹ کلچر،
عوامی فلاح کے مراکز ہوں،
یا مختلف پبلک مقامات،
کوئی فیکٹری ہو یا پھر کارخانہ ہو،
دوسو ہر جگہ اوورسیز کارڈ چلا لیتا، یہی تو پاکستان کے مزے ہیں،
وہ کروفر سے ہمیشہ یہی کہتا۔۔۔۔
میرا اسی ملک جانا ہوا جہاں دوسو تھا،،،،،،،
اسے قطار میں کھڑا بھی دیکھا،
اور صبر سے اپنی باری کا انتطار کرتے ہوئے بھی۔۔۔
یہ کیا ماجرا ہے بھئی؟ میں نے پوچھا۔۔۔
یہ پاکستان تو نہیں ہے نا،
وہ کھسیانا سا بولا۔






