درآمدی کپڑے کی یلغار اور دم توڑتی مقامی صنعت
مرزا رضوان
فیصل آباد کی کپڑے کی صنعت ہمیشہ سے پاکستان کی معاشی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی رہی ہے۔ جسے کبھی "پاکستان کا مانچسٹر” کہا جاتا تھا، آج وہ شہر اپنے صنعتی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ حال ہی میں فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں وفاقی مشیر ہارون اختر خان کی آمد کے موقع پر صدر گرے کلاتھ کارخانہ بازار، شیخ محمد آصف نے ایک نہایت تشویشناک اور ہنگامی مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا کہ "چائنا کے کپڑے کی درآ مد (امپورٹ) پر فوری طور پر پابندی لگائی جائے، ورنہ جلد ہی ملک میں ایئر جیٹ لومز (Air Jet Looms) کی جدید صنعت مکمل طور پر بند ہو جائے گی۔یہ صرف ایک تاجر کا جذبات سے بھرا بیان یا مطالبات کی روایتی فہرست کا حصہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری پر منڈلاتے ہوئے ایک بہت بڑے معاشی بحران کا الارم ہے۔ شیخ محمد آصف کی یہ پکار دراصل ان ہزاروں صنعتی مالکان، کاریگروں اور مزدوروں کی آواز ہے جن کا روزگار اس صنعت سے جڑا ہوا ہے۔پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری پچھلی کچھ دہائیوں میں روایتی پاور لومز (Power Looms) سے نکل کر جدید ترین ایئر جیٹ لومز کی طرف منتقل ہوئی۔ سرمائے کی بھاری سرمایہ کاری کی گئی، بینکوں سے قرضے لیے گئے اور جدید ٹیکنالوجی حاصل کی گئی تاکہ معیاری کپڑا تیز رفتار اور کم لاگت میں تیار کیا جا سکے لیکن افسوس کہ آج یہ اربوں روپے کی جدید صنعت شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے۔اس بحران کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ چین سے آنے والے سستے اور غیر معیاری کپڑے کی بے تحاشا درآمد ہے۔ چین اپنی وسیع پیداواری صلاحیت، صنعتی مراعات اور حکومتی سبسیڈی کی بنیاد پر انتہائی کم قیمت پر کپڑا دنیا بھر میں برآمد کرتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف، پاکستان میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بدترین چیلنجز کا سامنا ہے۔پاکستان میں کپڑے کی پیداواری لاگت (Cost of Production) دنیا کے بیشتر ممالک سے زیادہ ہو چکی ہے۔ بجلی اور گیس کے ہوشربا بل، خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، بینکوں کا بلند شرح سود اور ٹیکسوں کی بھرمار نے مقامی صنعتکاروں کے ہاتھ پاو¿ں باندھ دیے ہیں۔ جب ان نامساعد حالات میں تیار ہونے والا مقامی کپڑا مارکیٹ میں آتا ہے، تو وہ چین سے آنے والے سستے درا?مدی کپڑے کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ مقامی کارخانے ایک ایک کر کے بند ہو رہے ہیں اور گرے کلاتھ کے گودام مال سے بھرے پڑے ہیں۔اگر ایئر جیٹ لومز کی صنعت بند ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف چند مل مالکان تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس کا سب سے پہلا اور زبردست دھچکا ان لاکھوں مزدوروں اور ٹیکنیشنز کو لگے گا جو ان کارخانوں میں کام کرتے ہیں۔ فیصل آباد میں پہلے ہی بے روزگاری کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ مزید صنعتوں کی بندش سے لاکھوں خاندان نانِ نفقہ سے محروم ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں معاشرتی بے چینی، جرم اور سٹریٹ کرائمز میں اضافہ ہونا طے ہے۔دوسرا بڑا نقصان ملکی برآمدات اور زرِ مبادلہ کو ہوگا۔ جب مقامی صنعت تباہ ہو جائے گی تو پاکستان اپنی ضرورت کے کپڑے کے لیے بھی مکمل طور پر غیر ملکی درآمدات پر انحصار کرنے لگے گا۔ اس سے نہ صرف ملک کا قیمتی زرِ مبادلہ باہر جائے گا بلکہ پاکستان کی معاشی خودمختاری کو بھی شدید زد پہنچے گی۔وفاقی مشیر ہارون اختر خان اور حکومتی ایوانوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھنی ہوگی کہ وقت بہت کم ہے۔ صرف سستے درآ مدی کپڑے کی حوصلہ افزائی کرنا عارضی طور پر کچھ تاجروں یا صارف کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، لیکن طویل المدتی بنیادوں پر یہ ملکی صنعت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔حکومت کو فوری طور پر درج ذیل اضطراری اور عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ چین سے آنے والے کپڑے کی درآمد پر فوری طور پر عارضی پابندی لگائی جائے یا اس پر اتنی اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی (Anti-Dumping Duty) عائد کی جائے کہ مقامی کپڑا مارکیٹ میں مقابلے کی فضا قائم کر سکے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے بجلی اور گیس کے نرخ بین الاقوامی اور علاقائی حریفوں (مثلاً بھارت، بنگلہ دیش اور ویتنام) کے برابر لائے جائیں،کسٹم بارڈرز پر ہونے والی انڈر انوائسنگ اور سمتگلنگ پر سخت ترین چیک اینڈ بیلنس قائم کیا جائے تاکہ غیر قانونی کپڑا مارکیٹ میں نہ پہنچ سکے۔فیصل آباد کے صنعتکاروں اور ایئر جیٹ لومز مالکان کے لیے خاص نرم شرائط پر قسطوں اور ٹیکس میں چھوٹ کا اعلان کیا جائے۔اگر حکومت نے گرے کلاتھ کارخانہ بازار کے صدر اور فیصل آباد چیمبر آف کامرس کے ان جائز تحفظات کو نظر انداز کر دیا، تو ایئر جیٹ لومز کی خاموشی صرف فیصل آباد کی نہیں، بلکہ پورے پاکستان کی صنعتی معاشی موت کا مرثیہ ثابت ہوگی۔ اب وقت روایتی تسلیوں اور زبانی جمع خرچ کا نہیں، بلکہ ہنگامی اور عملی فیصلوں کا ہے۔






