ٹکی رام کی دال
جاویدایازخان
ہر شہر اپنی تہذیب ،اپنے لوگوں اور اپنی اپنی روایات کی خوشبو سے پہچانا جاتا ہے۔مگر اکثر کسی ایک ذائقے کو ایسی مقبولیت مل جاتی ہے کہ وہ پورے شہر کی شناخت بن جاتا ہپے۔کہیں مٹھاس شہرت پاتی ہے جیسے صادق آباد کے کیفے سجاول کی مٹھائی ،جالندھر سویٹ رحیم یارخان کی برفی یا ملتان اور اوچشریف کا سوہن حلوہ یا خانپور کے پیٹرے،بہاولپور کے سری پاے ،اور کہیں کے کباب ، کڑاہی گوشت اور قہوہ اور کہیں ایک سادہ سی دال بھی لوگوں کے دلوں پرایسا راج کرتی ہے لوگ شہر کا نام سنتے ہی اس ذائقے کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ایسے ہی رحیم یارخان کی ایک مشہورسوغات ٹکی رام کی دال ہے۔جس کا نام سنکر بڑا عجیب سا ضرور لگتا ہے مگر آج یہ اس علاقے کا ایک ہردلعزیز برانڈ بن چکا ہے۔جو ہر غریب اور امیر کی پسند ید ہ صرف زائقہ کی لحاظ سے نہیں بلکہ اپنے مناسب قیمت ہونے کی وجہ سے بھی ہے۔میری بنک ملازمت کے دوران ہمارے دوپہر کا لنچ اکثر اس ذائقہ دار دال سے ہی ہوتا تھا۔ کہتے ہیں کہ اللہ جب کسی کو عزت، دولت اور شہرت سے نوازنے کا فیصلہ کرتا ہے تو دنیا کے پیمانے، لوگوں کے اندازے اور حالات کی رکاوٹیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ وہ نہ حسب نسب دیکھتا ہے، نہ ظاہری حیثیت، نہ لوگوں کی پسند و ناپسند؛ بس اپنے کرم سے نواز دیتا ہے تو محرومیاں راستہ چھوڑ دیتی ہیں، بند دروازے کھلنے لگتے ہیں اور قسمت کے صفحے پر وہ کچھ لکھ دیا جاتا ہے جس کا انسان نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔ وہ جسے چاہے اور جیسے چاہے نوازتا دیتا ہے۔میرے ایک بینک کے ایگزیکٹیو جو اب ایک کمرشل بینک کے صدر بن چکے ہیں۔جب بھی رحیم یارخان تشریف لاتے تو ان کی فرمائش ہوتی کہ انہیں ٹکی رام کی دال اس کے لکڑی کے بینچوں پر بیٹھ کر کھلائی جاے ۔اس لیے ہم رات کے پچھلے پہر وہاں پہنچتے مگر اس کے باوجود وہاں موجود رش میں بیٹھ کر ٹکی رام کی دال ضرور کھاتے۔ایک مرتبہ کراچی کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں بڑا پر تکلف کھانا کھاتے ہوے مجھے دیکھا تو بےاختیار انہیں ٹکی رام کی دال یاد آگئی۔کہنے لگے یار ! ٹکی رام کی دال کا مقابلہ ان کھانوں سے نہیں کیا جاسکتا۔ہمارے اکثر افسران اور خصوصی آڈیٹر صاحبان تو اس دال کے دیوانے ہوا کرتے تھے اور دوپہر کو منگوا کر کھاتے تھے مگر جو مزاوہاں پھٹوں والی بینچوں (آجکل بیٹھنے کےلیے کرسیاں اور میز بھی موجود ہے )پر بیٹھ کھانے کا ہوتا تھا وہ منگواکر کھانے میں نہ آتا تھا۔اس لیے رات کو اس ڈھابے پر جانا پڑتا تھا۔فائیو اسٹار ہوٹل میں بھی ٹکی رام کا تذکرہ اس کی شہرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔درحقیقت چنے کی دال اور مکھن سے بنی ٹکی رام کی دال رحیم یارخان کا ایک مقبول ترین برانڈ بن چکا ہے۔ایک ایسا برانڈ جو غریب اور امیر سب کے لیے پسندیدہ اور کم خرچ ہے۔ ملازمت کے دوران رحیم یارخان شہر سے میری وابستگی تقریبا” ایک دھائی سے زیادہ عرصہ پر مشتمل رہی ہے۔ کچھ شہر اپنی عمارتوں اور کلچر سے پہچانے جاتے ہیں، کچھ اپنی تاریخ اور روایات سے، کچھ محبتوں اور تعلقات سے اور کچھ اپنے ذائقوں سے دلوں میں گھر کر لیتے ہیں۔ ٹکی رام کی دال بھی رحیم یارخان کی ایسی ہی ایک خوشبو ہے جو صرف بھوک نہیں مٹاتی بلکہ یادوں، محبتوں اور اپنے پن کا احساس جگاتی ہے۔ رحیم یار خان کی سرزمین پر ڈھابے نما دوکان پر پکنے والی یہ دال محض ایک کھانا نہیں بلکہ برسوں پر محیط روایت، مہمان نوازی اور ذائقے کی ایسی داستان ہے جس نے ذائقہ شناس مہمانوں اور مقامی لوگوں کی محفلوں کو یکساں طور پر معطر کیا۔ جب دیسی گھی کے تڑکے اور مکھن کی ٹکیہ کی مہک فضا میں پھیلتی ہے تو وہاں کے بینچوں پر بیٹھے لوگوں کو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وسیب اپنی تمام محبت ایک دیگ میں سمیٹ کر مہمان کے سامنے رکھ رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ٹکی رام کی دال آج بھی ایک سوغات، ایک شناخت اور ایک ذائقہ دار روایت بن کر دائم وقائم ہے۔سادگی میں لذت ،خوشبو میں اپنائیت اور ذائقے میں خالص پنجابی وسرائیکی تہذیب کی جھلک اور گرما گرم تندور کی روٹی ہی ٹکی رام کی دال کی اصل پہچان ہے جسے مکھنی دال بھی کہتے ہیں۔یہ پاکستان کے شہر رحیم یارخان کی ایک منفرد گلی میں موجود ایسا ڈھابہ ہے جہاں صرف دال ہی بنتی تھی۔ دوران ملازمت میرے دیرینہ دوست اور بینک کے ساتھی مرحوم خالدمسعود جلالی اور میری بےشما ریادیں اس ڈھابے سے منسوب ہیں۔ہوٹل کے مالک ارشاد صاحب کہتے ہیں کہ دال کا یہ قصہ تقریبا” ستر سال پرانہ ہے۔جب ایک پلیٹ چار آ?نے کی ہوا کرتی تھی۔ٹکی دراصل دال کی پلیٹ کو کہتے تھے۔ٹکی رام کسی ہندو کا نام نہیں تھا۔ایک دوست دال بنانے والے کو ٹکی رام کہا کرتے تھے اس کی دیکھا دیکھی وہ اسی نام سے مشہور ہو گیا۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پلیٹ میں دال پر رکھ کر پیش کی جانے والی مکھن کی ٹکیہ کی وجہ سے یہ نام پڑا تھا۔اس ڈھابے کے مالکان کی یہ چوتھی پشت ہے جو اس ذائقہ کی روایت کو برقرار رکھے ہوے ہے۔کہتے ہیں کہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ جانا کمال نہیں ہوتا بلکہ بلندیوں پر ٹھہرنا اور اسے برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ یہی ٹکی رام کی دال کی خوبی ہے اور ان کی دال کے پکانے کی یہ ترکیب پچھلے سات عشروں سے برقرار ہے۔ آج بھی ٹکی رام ہوٹل میں روزآنہ تقریبا” سو کلو سے زیادہ دال تیار کی جاتی ہے جو عموما” رات کے وقت ختم ہو جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہم صرف چنے کی دال تیار کرتے ہیں جس کا معیار اور ذائقہ سب سے جدا ہوتا ہے۔جو کھانے میں اچھا لگتا ہے اور مضر صحت بھی نہیں ہوتا۔ ستر برس سے جلتی ہوئی اس دیگ کی آنچ دراصل محنت ،دیانتداری اور مستقل مزاجی کی وہ روشنی ہے جو وقت کے طوفانوں میں بھی مدہم نہیں پڑتی۔ٹکی رام کی دال اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ اگر خلوص نیت ،معیار کی پابندی اور لوگوں کے اعتماد کو اپنی پہچان بنا لیا جاے تو زمانے بدل جانے کے باوجود عزت ،شہرت اور چاہت کم نہیں ہوتی۔بہت سے ذائقے وقتی طور مقبولیت حاصل کر تو لیتے ہیں مگر صرف وہی روائتیں نسلوں تک زندہ رہتی ہیں جن کے پیچھے محنت کی سچائی اور معیار کی دیانت موجود ہو۔ٹکی رام کی دال بھی اسی تسلسل ،اعتماد اور ذائقے کی امین روایت کا ایک خوبصورت استعارہ ہے۔اللہ کی جانب سےعزت ،شہرت اور دولت سے نوازے جانے کے بعدبھی ان کا عاجز رہنا ہی دراصل ان کی خوبی ہے۔جی ہاں ! "ٹکی رام کی دال "یہ صرف کھانا نہیں بلکہ ایک تہذیبی و تاریخی حوالہ اور ایک مہمان نواز روایت اور وسیب کی محبت کا ذائقہ ہے۔جو کھانے والے کو ہمیشہ یاد رہتاہے۔






