#کالم

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن(شاہد بخاری)

shaid bukhari

قسط:43

شاہد بخاری

ماہنامہ ”سفید چھڑی“ کی ادبی خدمات ۔۔۔۔
جو کچھ تحریر کیا گیا ہے اس سے مترشح ہے کہ ماہنامہ سفید چھڑی پاکستانی ادب میں ایک سنگِ میل کی حیثیت اختیار کر چکا ھے۔بے شک اس کا بنیادی مقصد نابینا و¿ں کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنا تھا اور ان کے مسائل کو اجاگر کرنا تھا لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتا تھا جب تک ہمارا رابطہ قارئین سے استوار نہ ہوتا اگر اس کے پڑھنے والے صرف نابینا حضرات ہوتے تو ذرا بھی بات نہ بنتی،نہ کوئی ادب کی خدمت ہوتی۔اس لئے دنیا کے مشاہیر کی توجہ حاصل کی اور ان سے داد و تحسین سمیٹی۔ بڑے قد آور شعرا کا کلام شائع ہو ا۔ فکر انگیز مضامین چھپے۔ صفِ اول کے افسانہ نگاروں نے اپنے افسانے ارسال کئے مختلف احباب نے اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق اپنے شعبے سے متعلق مضامین بھیجے۔ طب اور سائنس کے بارے میں مضامین شائع ہوئے۔نفسیاتی موضوعات پر بھی تحریریں آئیں۔ نقد و نظر کے حوالے سے بھی معتبر شخصیات کے تجزیاتی مضامین جریدے کی زینت بنے۔طنز و مزاح کے حوالے سے بھی مضامین شامل کئے گئے غرض اردو ادب کی ہر صنف پر تحریریں ماہنامہ سفید چھڑی میں شامل ہوئیں۔ علاوہ ازیں انگریزی میں بھی بہت سے مضامین شامل کئے گئے اور بڑی محبت کے ساتھ پنجابی کلام اور پنجابی مضامین، ماہنامہ سفید چھڑی کا حصہ بنے۔ اگر کہیں سے فارسی کلام موصول ہو اتو اسے بھی شائع کیا گیا۔یوں علمی ادبی حوالے سے ادارہ،،32 برس سے قارئین کو بتانے میں حق بجانب ہے کہ ماہنامہ سفید چھڑی سرگودہا سے شائع ہو رہاہے اور لاہور سے بھی شائع ہوتا رہا۔اس میگزین نے علم و ادب کی بے پناہ خدمت کی ہے۔ یقینا یہ کریڈٹ مدیر کو بالخصوص اور ادارت و مشاورت کو بالعموم جاتا ہے کہ ان کی کاوشوں سے جریدہ اپنے علمی ادبی اور تحقیقی شعبوں میں بھر پور کردارادا کرتا رہا ہے۔ ابھی سفر جاری ہے اور سفر جاری رہنا چاہیے۔
ماہنامہ”سفید چھڑی“ کا سلور جوبلی نمبر
ماہنامہ سفید چھڑی کے پچیس سال مکمل ہونے پر جو شمارہ شائع ہوا،اس کے اداریے میں ڈاکٹر اقبال لکھتے ہیں:”ماہنامہ سفید چھڑی اپنی زندگی کے پچیس سال پورے کر چکا ہے۔یہ اگست 1991 کی بات ہے جب ہم پہلا شمارہ شائع کرنا چاہتے تھے، شاہد اسلام دانش نے (جو اَب انگریزی کے پروفیسر ہیں)اورا ن کے ایک دوست نے مل کر ایک رات پرچے کی پیسٹنگ شروع کی اور فیصلہ کیا کہ وہ اس کو مکمل کر کے ہی دم لیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔ سفید چھڑی کے ذریعے ہم نے یہی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ معذوری مجبوری نہیں ہوتی ہاں! کچھ مشکلات ضرور پیش آتی ہیں اور وہ مشکلات اور مشکل ہو جاتی ہیں اگر معاشرتی رویے مثبت نہ ہوں، اگر کوئی شخص کسی معذوری کا شکار ہو جاتا ہے تواسے سکون اور ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے ترس کی نہیں۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جسے ہم نے ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور اس میں ملک بھر کے شاعروں ادیبوں اور قلم کاروں نے ہمارا ساتھ دیا ہے،ہماری حوصلہ افزائی کی ہے، دامے درمے قدمے سخنے ہماری اعانت فرمائی ہے۔ یہاں اس امر کا اعتراف کرتے ہوئے خوشی ہوتی ہے کہ ہماری مالی معاونت کرنے والوں میں صاحبانِ قلم و قرطاس کا بڑا حصہ ہے۔ان کے خطوط کے ذریعے حوصلے بڑھے ہیں اور ان کی مدد اور تعاون کے باعث ہم اپنے مقاصد کو حاصل کر سکے ہیں۔ان پچیس برسوں میں ماہنامہ سفید چھڑی کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ اس میں صفِ اوّل کے ادیبوں اور شاعروں نے بھی اپنی تخلیقات ہمیں روانہ کیں، ہم نے ہمیشہ ان تخلیقات کو شاملِ اشاعت کیا جو ہمارے ادیبوں اور شاعروں نے خود ہمیں ارسال کیں۔ جن اہلِ قلم نے ہم سے قلمی تعاون کیا ان کی فہرست بہت طویل ہے لیکن ہمیں خوشی ہے اور فخر بھی کہ ماہنامہ سفید چھڑی نے صحافت اور ادب کی دنیا میں اپنا کردار بحسن و خوبی انجام دیا ہے۔۔۔۔۔ماہنامہ سفید چھڑی کے پچیس سالوں میں ہم نے مقدور بھر کوشش کی ہے کہ ہم اپنے قلم کاروں اور ہر شعبہ فکر سے تعلق رکھنے والے قارئین کو اپنی کاوشوں سے آ گاہ رکھ سکیں اور ہمیں کامیابی بھی ملی ہے، ماہنامہ سفید چھڑی کا یہ بھی امتیاز ہے کہ اب مختلف یونیورسٹیز میں اس پر تحقیق کا کام بھی شروع ہو گیا ہے، ماہنامہ سفید چھڑی اپنی نوعیت کا واحد جریدہ ہے جو بے بصر حضرات کا ترجمان بھی ہے اور اصحاب بصارت کی علمی ادبی تشنگی کی تسکین بھی کرتا ہے۔ یہ ایسا جریدہ ہے جس کی اشاعت کا اصحاب قلم و قرطاس کو انتظار رہتا ہے۔بار بار فون پر استفسار کیا جاتا ہے جس کی ہمیں بہت خوشی ہوتی ہے‘ جریدے کی 25 سالہ کاوشوں کے ضمن میں اپنے مکتوب میں روحی کنجاہی لکھتے ہیں: ”سفید چھڑی کا پچیس سالہ نمبر لانے کا عزم بہت اچھا لگا۔ میں ایک عرصہ سے سفید چھڑی کا قاری ہوں۔ مجھے جب بھی پرچہ ملتا ہے میں سب سے پہلے آپ کا تحریر کردہ اداریہ پڑھتا ہوں۔ سفید چھڑی کی دوسری خوبیوں کے علاوہ اس کے اداریے ہمیشہ زندگی کوفروزاں اورحوصلہ مندی بخشتے ہیں۔ آپ نہ خود مایوس ہوتے ہیں اور نہ اپنے قارئین کو مایوس ہونے دیتے ہیں۔ سفیدچھڑی کے ہر شمارے کا حاصل آپ کا اداریہ ہوتا ہے۔ دیگر حصہ نثرو نظم بھی اعلیٰ معیار کا حامل ہوتا ہے اور کسی اچھے اور معیاری ادبی رسالے کے برابربلکہ سبھی پر حاوی ہوتا ہے“("یہ کتاب اکادمی ادبیات پاکستان کے کتابی سلسلے پاکستانی ادب کے معمار سیریز کے تحت 2022 میں شائع ہوئی تھی”جس کی تلخیص بہ اجازت چٹھی AOL بتاریخ27مئی 2025 قسط وارشائع کر رھے ہیں)

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن(شاہد بخاری)

13/10/2026 DAILY SARZAMEEN LAHORE

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے