#کالم

امتِ مسلمہ کا اتحاد اور بڑی طاقتوں کے عزائم

mohsin iqbal 1

محمد محسن اقبال

تاریخ ایک سخت گیر استاد ہے، مگر جو قومیں اس کے اسباق سے سیکھنے سے انکار کر دیتی ہیں، وہ اپنے ماضی کے المیوں کو بار بار دہرانے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ عالمِ اسلام، جسے قدرت نے بے پناہ قدرتی وسائل، تزویراتی اہمیت کے حامل جغرافیے، مشترکہ عقیدے اور ایسی تہذیب سے نوازا جس نے کبھی علم و حکمت کے چراغ سے پوری دنیا کو منور کیا تھا، بدقسمتی سے اکثر باہمی انتشار، کمزوری اور طاقت ور اقوام کے عزائم کا ہدف بنتا رہا ہے۔ غور طلب سوال یہ ہے کہ آیا یہ تمام مصائب محض ہماری داخلی کوتاہیوں کا نتیجہ ہیں یا بیرونی طاقتیں بھی اپنے تزویراتی مفادات کی تکمیل کے لیے مسلم دنیا کے اختلافات اور باہمی تنازعات سے مسلسل فائدہ اٹھاتی رہی ہیں۔قرآنِ حکیم اہلِ ایمان کو ایک ایسی تنبیہ کرتا ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ سورہ المائدہ کی آیت 51 میں ارشاد فرماتا ہے: ”اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست اور سرپرست نہ بناو¿؛ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور سرپرست ہیں۔ اور تم میں سے جو کوئی انہیں اپنا سرپرست بنائے گا، تو وہ انہی میں سے ہوگا۔ بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔“ یہ آیت مسلمانوں کو اس امر کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ وہ اپنے تعلقات اور اتحاد کے معاملات میں بیدار مغز رہیں اور ایسے اتحادوں سے محتاط رہیں جو امتِ مسلمہ کے اجتماعی مفادات اور اس کی خودمختاری کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ علاقائی رقابتوں، بیرونی مداخلتوں اور سیاسی غلط فہمیوں نے بارہا مسلم معاشروں کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا ہے۔ ستمبر 1980ءمیں عراق کے ایران پر حملے سے شروع ہونے والی ایران عراق جنگ آٹھ برس تک جاری رہی، جس میں دونوں ممالک کو انسانی جانوں اور معاشی وسائل کی صورت میں ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے بعد 1990ئ میں عراق کے کویت پر حملے نے خلیجی خطے کو ایک اور تباہ کن تصادم سے دوچار کر دیا۔ ان واقعات کے پس منظر میں مخصوص علاقائی عزائم اور سیاسی فیصلے کارفرما تھے، لیکن اس دوران بیرونی طاقتوں نے بھی پیدا ہونے والے عدم استحکام میں اپنے مفادات کی راہیں تلاش کیں۔ اس سارے المیے کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ تھا کہ مسلم ممالک ایک دوسرے کے خلاف لڑتے ہوئے اپنے وسائل کھوتے رہے، جبکہ ان کے عوام نے اپنے پیاروں کی جدائی، بے گھری اور معاشی تباہی کا بوجھ اٹھایا۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان رقابت نے بھی خطے کے سیاسی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ مسلکی اختلافات، علاقائی بالادستی کی خواہشات اور بالواسطہ جنگوں نے بیرونی مداخلت کے لیے راستے ہموار کیے۔ امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں نے خلیجی بادشاہتوں کے ساتھ وسیع تر دفاعی اور سلامتی کے تعلقات قائم کیے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی سلامتی امریکی پالیسی کا ایک مرکزی جزو رہی۔ ان انتظامات کو اگرچہ تحفظ کی ضمانت قرار دیا جاتا ہے، تاہم ان کے نتیجے میں تزویراتی انحصار بھی جنم لیتا ہے اور بیرونی طاقتوں کو علاقائی معاملات پر نمایاں اثرانداز ہونے کا موقع ملتا ہے۔ کسی بھی قوم کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ جو طاقت اس کی محافظ بننے کا دعویٰ کرتی ہے، اس کے اپنے مفادات بھی ہو سکتے ہیں، جو لازماً اس کے اتحادیوں کے مفادات سے ہم آہنگ نہیں ہوتے۔عرب سپرنگ کے بعد رونما ہونے والے واقعات نے بھی کئی تلخ اسباق چھوڑے۔ 2010ء میں شروع ہونے والی عوامی تحریکوں نے عرب دنیا کے متعدد ممالک میں برسوں سے قائم سیاسی نظاموں کو چیلنج کیا۔ مصر کے منتخب صدر محمد مرسی کو جولائی 2013ئ میں فوج نے اقتدار سے ہٹا دیا۔ لیبیا میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے میں معاون ثابت ہونے والی مداخلت کے بعد طویل بدامنی نے جنم لیا، جبکہ شام اندرونی دھڑوں اور متعدد بیرونی طاقتوں کے مابین ایک تباہ کن میدانِ جنگ بن گیا۔ دیانت داری کا تقاضا ہے کہ ان تمام واقعات کو کسی ایک مرکز سے چلائی جانے والی سازش کا نتیجہ قرار نہ دیا جائے؛ ان کے اسباب میں آمرانہ طرزِ حکومت، عوامی محرومیاں، داخلی رقابتیں اور بین الاقوامی مداخلت سب شامل تھے۔ تاہم ان کے نتائج نے اس خدشے کو تقویت ضرور دی کہ بیرونی مداخلت، خواہ اسے کتنے ہی خوش نما مقاصد کے ساتھ پیش کیا جائے، مسلم معاشروں کو پہلے سے زیادہ منقسم اور کمزور بنا سکتی ہے۔عراق اس امر کی شاید سب سے واضح مثال ہے کہ بڑی طاقتوں کی یقین دہانیوں کو آزادانہ تحقیق اور تنقیدی جائزے کے بغیر قبول کرنا کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔ 2003ئ میں امریکہ کی قیادت میں عراق پر حملے کا ایک بنیادی جواز بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کو قرار دیا گیا تھا۔ بعد کی تحقیقات میں وہ ذخائر برآمد نہ ہو سکے جنہیں جنگ کے جواز کے طور پر نمایاں کیا گیا تھا۔ اس حملے نے عراق کے موجودہ سیاسی نظام کو تباہ کر دیا، برسوں پر محیط تشدد کو جنم دیا اور ایسے نتائج مرتب کیے جن کے اثرات عراق کی سرحدوں سے کہیں آگے تک پھیل گئے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کا سبق دیتا ہے کہ طاقت ور حکومتوں کے اعلانات کو بھی تنقیدی نگاہ سے پرکھنا ضروری ہے، کیونکہ اندھے اعتماد کی قیمت بعض اوقات پوری پوری نسلوں کو ادا کرنا پڑتی ہے۔2020ء میں اعلان کردہ ابراہیمی معاہدوں نے اسرائیل اور متعدد عرب ممالک کے درمیان تعلقات کے قیام یا معمول پر لانے کے ذریعے علاقائی سفارت کاری میں ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا۔ ان معاہدوں کے حامیوں نے انہیں امن اور تعاون کے ایک نئے امکان کے طور پر پیش کیا، جبکہ ناقدین کو خدشہ تھا کہ مسئلہ? فلسطین کے منصفانہ حل کے بغیر تعلقات کو معمول پر لانے سے تنازعے کی بنیادی وجہ بدستور برقرار رہے گی۔ فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک قابلِ اعتبار پیش رفت پر سعودی عرب کا اصرار علاقائی سفارت کاری کا ایک اہم پہلو رہا ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کسی مقبوضہ قوم کے حقوق اور امنگوں کو نظرانداز کرکے پائیدار امن کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔یمن کی اذیت ناک صورتِ حال بھی ایک اہم تنبیہ ہے۔ حوثیوں، یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے درمیان تنازعے نے عام شہریوں کو شدید مصائب سے دوچار کیا اور بارہا علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالا۔ حوثیوں نے سعودی سرزمین کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا۔ یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ مقامی تنازعات، بیرونی سرپرستی اور علاقائی بالادستی کی کشمکش مل کر پوری پوری آبادیوں کی زندگی اجیرن بنا سکتی ہیں۔ اس کا حل انتقام اور جوابی انتقام کے لامتناہی سلسلے میں نہیں، بلکہ ایسے منصفانہ سیاسی تصفیے میں پوشیدہ ہے جو شہریوں کی جانوں کا تحفظ کرے اور قومی خودمختاری کا احترام یقینی بنائے۔پاکستان کو بھی اپنی سلامتی کے گرد پھیلے ہوئے خطرات سے پوری طرح باخبر رہنا چاہیے۔ بھارت کے ساتھ پیچیدہ تعلقات، افغانستان سے جنم لینے والا عدم استحکام اور سرحد پار سرگرم عسکریت پسند گروہوں کا خطرہ مسلسل چوکسی، دانش مندانہ سفارت کاری اور مو¿ثر دفاعی صلاحیت کا تقاضا کرتا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج پر ملک کے دفاع کی آئینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، لیکن دیرپا سلامتی کے لیے سیاسی ہم آہنگی، معاشی استحکام اور مسلم ممالک کے درمیان تعاون بھی ناگزیر ہیں۔ اگر انتہا پسندی کو جنم دینے والے حالات اور اسباب کا تدارک نہ کیا جائے تو محض فوجی کارروائیوں کے ذریعے عسکریت پسندی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔آج وقت کا سب سے اہم تقاضا یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کو محض نعروں کے بجائے عملی تعاون کی بنیاد پر ازسرِنو استوار کیا جائے۔ خلیجی ممالک، پاکستان، ایران، ترکیہ اور دیگر مسلم ریاستوں کو باہمی مشاورت کو فروغ دینا، معاشی شراکت داریوں کو مضبوط بنانا، اپنے تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا اور بیرونی طاقتوں کی رقابتوں کو اپنے باہمی تعلقات پر حاوی ہونے سے روکنا ہوگا۔ انہیں مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لیے مو¿ثر کردار ادا کرنا، بے گناہ انسانوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا اور یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ ایک مسلمان کا خون دوسرے مسلمان کے ہاتھوں بہایا جائے، تب بھی اس کی حرمت کم نہیں ہو جاتی۔اللہ تعالیٰ سورہ الانفال کی آیت 46 میں اہلِ ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ آپس میں اختلاف اور نزاع نہ کریں، ورنہ ان کے حوصلے پست ہو جائیں گے اور ان کی قوت جاتی رہے گی۔ یہ تنبیہ ایسے دور میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے جب باہمی انتشار امتِ مسلمہ کی تزویراتی کمزوری بن چکا ہے۔ مسلم دنیا کو اس سے پہلے بیدار ہونا ہوگا کہ بداعتمادی، بالواسطہ جنگیں اور بیرونی سرپرستی پر انحصار اس کے اجتماعی اثر و رسوخ کو مزید کمزور کر دیں۔ کسی بھی بیرونی طاقت سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ اپنے قومی مفادات پر مسلم دنیا کے مفادات کو ترجیح دے گی۔آگے بڑھنے کا راستہ ایمان کے ساتھ حکمت، عدل کے تابع قوت اور باہمی احترام سے مستحکم ہونے والے اتحاد میں پوشیدہ ہے۔ قرآنِ حکیم مسلمانوں کو تصادم پرستی نہیں بلکہ اخوت و اتحاد، اندھی دشمنی نہیں بلکہ بیداری و بصیرت، اور انتقام نہیں بلکہ انصاف کی راہ دکھاتا ہے۔ اگر مسلم ممالک دوسروں کو اپنے اختلافات سے فائدہ اٹھانے کا موقع دینے سے پہلے اپنے تنازعات خود حل کرنا سیکھ لیں تو ان کے بے پناہ وسائل تباہی اور کشمکش کا سبب بننے کے بجائے خوش حالی، ترقی اور استحکام کا وسیلہ بن سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر عالمِ اسلام کی مسلسل تقسیم ان قوتوں کے لیے ایک نعمت بنی رہے گی جو اس کے انتشار سے فائدہ اٹھاتی ہیں، جبکہ اس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔

امتِ مسلمہ کا اتحاد اور بڑی طاقتوں کے عزائم

ٹکی رام کی دال

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے