کالم۔ خواتین۔ خواندگی اور سکل ڈویلپمنٹ
تحریر۔ شفقت اللہ مشتاق
خواندہ اور ناخواندہ۔ بہت بڑا فرق بلکہ بہت ہی بڑا فرق اور اس فرق کو ختم کرنے کے لئے پڑھنے لکھنے کیلئے دعوت فکر دی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں تردد کیا جاتا ہے اور ناخواندہ کو خواندہ بنانے کے لئے عملی اقدامات کئے جاتے ہیں۔ علم کی اہمیت کا اندازہ لگانے کے لئے اقرا باسم ربک الذی خلق کی تفہیم ضروری ہے۔ غزوہ بدر کے پڑھے لکھے قیدیوں سے نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا تقاضہ کرنا کہ وہ ان پڑھ مسلمانوں کو پڑھا کر آزاد ہو سکتے ہیں۔ ان پڑھ مسلمانوں کو کافر قیدیوں سے لکھنا پڑھنا سکھانے کے راز کو جاننے کی ضرورت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمانا کہ علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ چین اور عرب کا درمیانی فاصلہ اور پھر وہاں کے لوگوں کا مذہب اور رہن سہن اور اللہ کے رسول کا اپنی امت کو مذکورہ حکم دینا اس حقیقت کو جان کر ہی ان پڑھ اور پڑھے لکھے میں فرق کے کوانٹم کو جانا جا سکتا ہے یوں اس فرق کو جان کر جاننے والے مضطرب اور پریشان ہوجاتے ہیں اور ذی فہم اور ذی شعور باقاعدہ اس فرق کو ختم کرنے کے لئے برسرپیکار ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کسی بھی قوم کی تعمیر وترقی کے سلسلے میں سوئے ہوئے بخت بیدار کئے جا سکتے ہیں۔ تاہم یہ سارا کچھ کرنے کے لئے انفرادی طور پر بھی پڑھا لکھا اور اجتماعی طور پر معاشرے کا پڑھا لکھا ہونا بہت ضروری ہے۔ عقل ودانش اور فہم وفراست۔ ہمارے سامنے کی بات ہے جب عورتوں کا گھر سے نکلنا کوئی اچھی بات نہیں سمجھی جاتی تھی اور وہ پڑھنے لکھنے سے محروم رہتی تھیں لیکن ہر ماں کی ہمیشہ سے ہی خواہش رہی ہے کہ اس کی اولاد پڑھ لکھ جائے اور اس خواہش کی تکمیل کے لئے مائیں اپنے زیور تک بیچ دیتی تھیں اور ہوشمند والد اپنی جائیداد تک اس لئے فروخت کر دیتے تھے کہ ان کے بچے زیور تعلیم سے آراستہ ہو جائیں۔ جب کبھی کسی ان پڑھ سے واسطہ پڑتا ہے تو معلوم ہوتا ہے علم حاصل کرنا کتنا ضروری ہے۔
ایک وقت تھا ہمارے ہاں وسائل کی کمی تھی اور انفراسٹرکچر بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ ہر گاوں میں سکول بھی نہیں تھا اور ہر گاوں سے شہر جانے کے لئے پختہ سڑک بھی نہیں تھی۔ بجلی نہیں، پینے کا صاف پانی نہیں اور کیا کیا بتائیں کیا کیا نہیں تھا۔ کسمپرسی کا عالم تھا۔ آجا کے مسجد کا مولوی صاحب تھا اور ایک گاوں کا چوہدری اور ان دونوں کی اپنی اپنی ترجیحات تھیں باقی قاری کو خود بات سمجھ جانا چاہیئے۔ سدا حالات ایک جیسے نہیں رہتے ہیں وقت آگے بڑھتا ہے۔ سکول کالج اور بے شمار تعلیمی ادارے اور بچوں کا جوق در جوق سکولوں کالجوں میں جانا۔ بلکہ بچیوں کے حصول تعلیم کے لئے لوگوں کی سوچ میں انقلابی تبدیلی۔ پڑھی لکھی ماں، گھر کا ماحول اور بچوں کی تعلیم وتربیت۔ ویسے تو ان پڑھ ماں کے خواب بھی لاجواب تھے اور ان خوابوں کی تعبیر کی تکمیل کے لئے ان کے ہاں بھی گہرا شعور پایا جاتا تھا اور اس شعور کی بدولت ہم سب پڑھ لکھ گئے ہیں۔ ان پڑھ عورت کو اس بات کا کتنا قلق ہوتا ہے کہ اس کو بھی پڑھا لکھا ہونا چاہیئے تھا۔ اس بات کا مجھے اس وقت احساس ہوا جب میں راجن پور کے ایک گاوں میں لٹریسی ڈیپارٹمنٹ کے تحت چلنے والے ایک نیم رسمی بنیادی تعلیمی سنٹر میں گیا۔ جہاں 40/50 خواتین اپنے روایتی لباس اور اصل بودوباش میں زمین پر بیٹھی علم حاصل کررہی تھیں۔ یہ کوئی دس پندرہ سال کی بچیاں نہیں تھیں ادھیڑ عمر خواتین تھیں اور بعض کے ساتھ تو ان کے بچے بھی تھے۔ ڈاکٹر پرویز احمد خان ریٹائرڈ افسر ہیں اور میں نے دوران ملازمت ان کے ماتحت کام کیا ہے۔ آجکل وہ بطور ایڈوائزر محتسب اعلی پنجاب کام کررہے ہیں اور ان کا کام بھی اپنی نوعیت کا منفرد کام ہے۔ یعنی ریسرچ اور اس بات کی ریسرچ کہ ہمارے اداروں کی کارکردگی کی کمی بیشی کا کتنا کوانٹم ہے اور اس کا حل کیا ہے۔ ڈاکٹر مذکور بڑے درد دل رکھنے والے انسان ہیں اور وہ اس بات پر آج ہی نہیں بلکہ کئی سالوں سے پریشان ہیں کہ ہمارے ہاں سوچ میں تبدیلی کیوں نہیں آرہی ہے اور اس کی وجہ ان کے ہاں یہ بھی ہے کہ ہم معاشرے کو سو فیصد خواندہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ انہوں نے بطور سیکرٹری لٹریسی بھی کام کیا ہے۔ گذشتہ دنوں مذکورہ سنٹرز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے وہ راجن پور تشریف لائے اور یوں میں نے ان کے ساتھ مذکورہ سنٹر دیکھے اور یہ بھی دیکھا کہ زیر تعلیم خواتین کی سدھریں اور خواہشیں اور ان خواہشوں کی نوعیت۔ وہ شدت سے چاہتی ہیں ہم اب بھی کچھ نہ کچھ پڑھ لکھ جائیں تاکہ ہمیں اپنا گھر خوبصورت بنانے کا طریقہ آجائے۔ ہم اپنے بچوں کو ابتدائی چیزیں شروع سے ہی سکھا دیں تاکہ ان کی بنیاد اچھی ہو سکے۔ ان کے ہاں مہارت کی ترقی(سکل ڈویلپمنٹ) ہوجائے تاکہ وہ اپنے شوہر کی معاشی معاملات میں مدد کرسکیں۔ بعض انتہائی ذہین خواتین جن کی ارد گرد کے ماحول پر گہری نظر۔جو اچھی طرح جانتی ہیں کہ ان کے بنیادی مسائل کیا ہیں ان کے ہاں ان کا سب سے بڑا مسئلہ پینے کے صاف پانی کا نہ ہونا ہے۔ بعض علاقوں میں آج بھی بچیوں کو سکول جانے کی اجازت نہیں ہے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی ان کے ہاں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ غربت کی وجہ سے آج بھی وہ اپنے بچے پڑھا نہیں پا رہی ہیں یہ اتنے سارے رولے اور وغیرہ وغیرہ۔
سوچ بچار کرنے کی ضرورت۔ سوشل میڈیا کے بارے میں کوئی جو مرضی کہے اس کی ایک خوبی سب باتوں پر بھاری ہے اور وہ یہ کہ سوشل میڈیے نے ہم سب کو سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ زندگی کا پہیہ یقیننا بتدریج آگے بڑھتا ہے لیکن اس کو سپیڈ اپ






