"پاک سعودی دفاعی معاہدہ اور ٹرمپ کا 21 نکاتی پروگرام”
تحریر حارث نسیم سوہدروی
مولانا ظفر علی خان فاؤنڈیشن کی ہفتہ وار فکری نشست کے اس ہفتہ مہمان مقرر جناب کاشف منظور ڈائریکٹر جنرل پبلک لائبریریز پنجاب نے پاک سعودی دفاعی معاہدے اور ٹرمپ کے 21 نکاتی پروگرام پر بہت تفصیل سے روشنی ڈالی جس کے بعد فاؤنڈیشن کے چیئرمین اور صدر تقریب خالد محمود نے بہت ہی دلچسپ اور حقیقت پر مبنی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ایسے ہی ہے جیسا ایک شیر اور بکری کے درمیان کوئی معاہدہ کیا گیا جب شیر بکریوں کو کھا کھا کر تھک جاتا ہے تو پھر اسے کچھ آرام کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس وقت اس کی بھوک ختم ہو چکی ہوتی ہے اور پھر وہ کچھ وقفہ لینے کے بعد دوبارہ ان بکریوں کا شکار کرنا شروع کر دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح وہ بھی فی الحال کچھ وقفہ لینا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی تیاری بھی کر سکیں اور جب ان کی بھوک دوبارہ چمک اٹھے گی تو وہ نئے سرے سے پھر سے حملہ آور ہو جائیں۔ کسی قسم کے کسی بھی معاہدے کی قطعًا کوئی حقیقت نہیں ۔۔۔ وہ تہیہ کر چکے ہیں کہ اسرائیل ہی اس علاقے کی سب سے بڑی طاقت ہوگا۔ ایک طاقتور اور کمزور کے درمیان کیسے معاہدہ ہو سکتا ہے؟
مقرر کاشف منظور نےاپنی بات کے آغاز میں کہا کہ مسئلہ فلسطین کم از کم ایک سو تیس سال پرانا ہے لیکن اگر ہم کچھ اور پیچھے جائیں تو اس جنگ کا تصور اس وقت سے شروع ہو جاتا ہے جب نبوت بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل میں آئی اور اس حوالے سے انہوں نے اس کو قبول نہیں کیا۔ چار جولائی 1776 کو امریکہ نے اپنی آزادی کا اعلان کیااور چونکہ یہودی سود پر کام کرتے تھے اور اس وقت بھی پوری دنیا کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری پر مسلط ہونے کی کوشش کر رہے ہیں جیسا کہ اقبال نے بھی کہا تھا "فرنگ کی رگ جاں پنجۂ یہود میں ہے”۔
غزہ پر حملے کو دو سال مکمل ہونے والے ہیں وہاں پر ہر طرح کا ظلم روا رکھا گیا بلکہ یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ وہاں پر اب تک پانچ ایٹم بمبوں کے برابر بمباری ہو چکی ہے۔چودہ مئی 1948 میں اسرائیل ریاست کا قیام عمل میں آگیا اب اگر دیکھا جائے تو ہمارا سعودی عرب کے ساتھ باہمی ، دفاعی معاہدہ اور ٹرمپ کے 21 نکات! ان دونوں کا ظہور تقریبًا ایک ماہ سے بھی کم پرانا ہے پاک سعودیہ کی تاریخ بہت پرانی ہے 1947 میں پاکستان کو اولین ملکوں میں تسلیم کرنے والوں میں سعودی عرب بھی شامل ہے اس کے بعد ہمارے کئی تحریری اور زبانی معاہدے بھی ہوتے رہے جن میں سے بڑا معاہدہ 82 میں ہوا جس میں ہمارے بیس ہزار فوجی وہاں رہے اسکے علاوہ مختلف فوجی سائنسی اور تعلیمی نوعیت کے تعاون ہوتے رہے اور یوں تقریبًا سعودی عرب کے ساتھ ہماری آٹھ دہائیوں کی تاریخ ہے۔ موجودہ تعاون کا بنیادی نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر ایک ملک پر حملہ ہوا تو وہ دوسرے ملک پر بھی تصور کیا جائے گا۔ فی الحال جو صورتحال ہے اس پر رائے کی یکسانیت کم ہی پائی جا رہی ہے پاک سعودی معاہدے کے حوالے سے تو یکسوئی ہے جبکہ ٹرمپ کے 21 نکات پر رائے بٹی ہوئی ہے یہ معاہدہ ایک وقتی ریلیف کا باعث تو ہو سکتا ہے لیکن مزید تناظر میں اس کی انتہا یہ ہوگی کہ بالاخر اسرائیل کو تسلیم کر لیا جاۓ اسلامی ممالک میں پاکستان ، ترکی اور انڈونیشیا جبکہ پانچ ارب ممالک میں سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، جارڈن بحرین اور مصر ان تمام ممالک نے اپنی اپنی راۓ دی لیکن جب عین وقت پر یہ معاہدہ فائنل ہو رہا تھا تو امریکی صدر ٹرمپ کے داماد نے اس میں چھ گھنٹے کی طویل میٹنگ میں تبدیلیاں کیں اور اس کی روح کو تبدیل کر دیا اوراب اس وقت تک مسلم ممالک سے یہ بیانات آرہے ہیں کہ یہ معاہدہ ان کی طرف سے جاری کیا گیا ہے یہ ہمارا نہیں ہے لہذا فی الوقت تک اس معاہدے کے حوالے سے ہر طرف ایک غیر یقینی کیفیت پائی جا رہی ہے اس معاہدے کے نکات درج ذیل ہیں۔۔۔
1) غزہ کو غیر انتہا پسند اور دہشت گردی سے پاک خطہ بنایا جائے۔
2) غزہ کی تعمیر نو اس کی عوام کے فائدے کے لیے ہو۔
3) اسرائیل اور حماص کے اتفاق پر جنگ فوری ختم اور آئینی آئی ڈی ایف اسرائیلی ڈیفینس فورسز کا بتدریج انخلاع ہوگا۔
4) منصوبہ بندی کرنے کےاڑتالیس گھنٹوں بعد تمام زندہ اور شہید یرغمالی واپس کیے جائیں گے۔
5 ) اسرائیل کئی سو فلسطینی قیدیوں اور سترہ سو سے زائد گرفتاروں کو رہا کر دے گا۔
6) پرامن حماص اور کارکن کو عام معافی جبکہ جانے کے خواہش مندوں کو محفوظ راستہ دیا جائے گا۔
7) روزانہ کم از کم چھ سو ٹرک امداد اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے اقدامات ہوں گے۔ امداد اقوام متحدہ غیر جانبدار عالمی ادارے تقسیم کریں گے ۔
8) غزہ کو عبوری ٹیکنوکریٹ حکومت چلائے گی اور عالمی کمیٹی نگرانی کرے گی۔
9) ماہرین کی مدد سے غز ہ کو جدید شہروں کی طرز پر دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔
10) ایک اقتصادی زونگ قائم ہوگا کم نرخوں اور بہتر
تجارتی سہولتوں کے ساتھ۔۔
11) کسی کو غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا واپسی کا حق حاصل ہوگا۔
13) حماص کو حکمرانی میں کوئی کردار نہیں دیا جائے گا عسکری ڈھانچے ختم کیے جائیں گے اور حماص کو غیر مصلح کیا جائےگا۔
14) علاقے میں شراکت دار سلامتی کی ضمانت فراہم کریں گے ۔
15) بین الاقوامی استحکام فورس غزہ میں تعینات ہوگی اور فلسطینی فورس کی پولیس تربیت کرے گی۔
اسرائیل ناقبضہ کرے گا نہ الحاق۔
16) کنٹرول بتدریج بین الاقوامی فورس کے حوالے ہوگا۔
17) اگر حماص انکار کرے یا تاخیر کرے تومنصوبہ دہشت گردی سے پاک علاقوں میں نافذ ہوگا۔ 18) اسرائیل قطر پر مستقبل میں حملہ نہیں کرے گا اور دوہا کے ثالثی کردار کو تسلیم کیا جائےگا۔
19) انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے بین المذاہب مکالمہ ذہنی اصلاحی پروگرام ہوگا۔
20) فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحات مکمل ہونے کے بعد ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہوگی اور امریکہ






