#کالم

☆ نامساعد حالات بھی دیکھے، مگر والدہ کی کامیاب حکمتِ عملی کی بنا پرتعلیم بھی مکمل ہوئی۔ پیشہ ورانہ مہارت اور مقام بھی حاصل ہوا۔

شاہد نسیم چوہدری ٹارگٹ

انٹرویو : شاہد نسیم چوہدری

0092-300-6668477

☆ نامساعد حالات بھی دیکھے، مگر والدہ کی کامیاب حکمتِ عملی کی بنا پرتعلیم بھی مکمل ہوئی۔ پیشہ ورانہ مہارت اور مقام بھی حاصل ہوا۔
☆مشتاق احمد یوسفی، احمد ندیم قاسمی اور ان جیسے مستند با اعتبار ہم عصر اہل علم حضرات کی محفلیں صحبتیں اور بصیرت افروز سماعتیں میسر آئیں۔
☆دو شعری مجموعے "شرحِ آرزو” اور "حسرتِ اندمال” منظر عام پر نظر آئے
☆حرف تکریم میں حمد ،نعت اور مناقب کی شاعری کی
محفلِ نعت ہے سیرت کا بیاں ہو جائے
قلبی تسکین کا دل سوز سماں ہو جائے
میں عقیدت کے وہ آداب کہاں سے لاؤں
جن سے مدحت مرے آقا کی بیاں ہو جائے

یہ ایک ایسی شخصیت کا تعارف ہے جو اپنی عملی زندگی میں خدمت، محنت اور جدت کی روشن مثال ہیں۔ کراچی ان کا جنم شہر بھی ہے اور مستقل مسکن بھی، جہاں سے انہوں نے اپنی تعلیمی و پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے ڈی جے سائنس کالج سے حاصل کی اور پھر اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے امریکہ کا رخ کیا، جہاں سے انہوں نے The International University, Missouri سے ایم بی اے کی ڈگری مکمل کی۔ وطن واپسی پر انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو حبیب بینک لمیٹڈ (HBL) میں وقف کر دیا اور مسلسل قریب چالیس برس (1975–2014) تک اپنی پیشہ ورانہ خدمات سرانجام دیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی یہ رکے نہیں بلکہ جدید تقاضوں کے مطابق بطور انفارمیشن ٹیکنالوجی کنسلٹنٹ اور ڈیجیٹل کریئیٹر اپنی مہارتوں کو بروئے کار لاتے رہے۔ یہ سفر اس بات کا عکاس ہے کہ کامیابی ہمیشہ مستقل مزاجی، علم اور عزم کے امتزاج سے جنم لیتی ہے۔
کمال یہ نہیں تصویر تو بناتا ہے
کمال یہ ہے کہ آئینہ مسکراتا ہے
مرے خلوص سے چاہت سے کھیلنے والے
بتا تو کیسے مرا نام بھول جاتا ہے
آج سرزمین کے ہیرو کے سلسلہ میں ہمارے مہمان جناب شجاع الزماں خان شاد صاحب ہیں ۔ آئیے ان سے انٹرویو کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔
🌹 شجاع الزماں خان شاد صاحب سے انٹرویو 🌹
سوال 1: سب سے پہلے آپ اپنے تعلیمی اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیے۔
جواب:
تعلیم : بی اس سی۔۔۔۔۔ ایم بی اے۔
CISM….. Certified Information Security Manager…. ISACA
Ilinois… USA.
IT Executive, served Bank at key position.
Writer/ poet….. ( Passion ).
والدین کا تعلق۔۔۔۔ علی گڑھ سے۔ شاعری کا۔شوق خاندانی ورثہ۔ ماموں جان مرحوم اچھے شاعر تھے۔
میری پیدائش کراچی میں ہوئی۔
ابتدائی تعلیم: راولپنڈی۔۔۔
سوال 2: شاعری کی طرف پہلا رجحان کب اور کس محرک کے تحت ہوا؟
جواب: چھٹی جماعت کا طالب علم تھا ۔۔۔۔
حالی کے یہ اشعار میری سوچ کو ایک نیا رخ دے گئے۔۔۔۔۔
خدا رحم کرتا نہیں اُس بشر پر
نہ ہو درد کی چوٹ جس کے جگر پر

کسی کے جو ہے آفت گزر جائے سر پر
پڑے غم کا سایہ نہ اُس بے اثر پر

کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر

مسدس حال
میں اشعار کہنے کی طرف مائل ہوا۔
حمد کاشعر جو مجھے آج بھی یاد ہے۔
اے خدا کر ہم پہ رحمت کی نظر
تو بنا دے گا تو ہم بن جائیں گے۔۔۔۔۔۔
1968.
وقت اور حالات نے مہلت نہ دی۔ بارہ سال کا تھا والد صاحب صرف 39 سال کی عمر میں رحلت فرما گئے۔۔۔۔ نامساعد حالات بھی دیکھے۔۔۔ مگر والدہ کی کامیاب حکمتِ عملی …… تعلیم بھی مکمل ہوئی۔ پیشہ ورانہ مہارت اور مقام بھی حاصل ہوا۔ آئی ٹی کے شعبے میں مہارت حاصل کی اور بیرون ملک قیام اور جانا آنا رہا۔ فکرِ معاش ترجیح رہی مگر لکھنے پڑھنے کا شوق۔۔۔ خصوصاً شاعری متاع زیست کا لازم و ملزوم رہی۔ باقاعدہ نہ سہی مگر ذمے داریوں کے ہجوم میں بھی شعری بصارتیں سپرد قلم ہوۓ بغیر نہ رہ سکیں۔
لندن قیام کے دوران افتخار عارف صاحب کا اردو مرکز ادبی ذوق و شوق کی توانائیوں اور تسکینِ قلبی کا محور رہا۔ ۔۔۔90 کی دھائی کا وہ سنہرا دور جب لندن اردو مرکز میں ۔۔۔ مشتاق احمد یوسفی، احمد ندیم قاسمی اور ان جیسے مستند با اعتبار ہم عصر اہل علم حضرات کی محفلیں صحبتیں اور بصیرت افروز سماعتیں میسر آئیں۔ دبئی میں قیام ایک عشرے سے ذیادہ پر محیط تھا۔ خوش بختی رہی کہ مرحوم سلیم جعفری کے بے مثال مشاعرے اور نامی گرامی شعرأ کے اعزاز میں جشن اسی دور میں ہوۓ۔ جو ادبی ذوق کی تسکین اور طمانیت کا سبب بنے۔ ہندو پاکستان کے سبھی نامور شعرأ کو کئی بار رو برو سننے کا موقع ملا۔
پیشہ ورانہ دور کے عروج کے بعد میں نے طے کیا کہ شہرِِسخن کو آب و تاب کے ساتھ آباد کیا جاۓ۔۔۔ میں نے برس ہا برس لکھے گئے کلام کو مجتمع کرنے کا کام شروع کیا۔ کراچی میں حلقۂ اربابِ ذوق کی نشستوں میں شرکت کی۔ اور آرٹس کونسل کراچی اور اکیڈمی ادبیات کے مشاعرے بھی پڑھنے شروع کیے۔ ادبی تنظیموں کی شعری نشستوں کے دروازے بھی کھل گئے۔
اب اپنے خیالات اور احساسات کو شعری قالب میں ڈھالنے کو ترجیحی بنیاد پر پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا کام پوری یکسوئی سے کرنا شروع کر دیا۔ شاعر حساس طبیعت کا مالک ہوتا ہے اور اپنے مشاہدات حالات اور ادوار کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ یہ عمل تا حیات جاری رہتا ہے ۔ کسب معاش کی مصروفیات کے باوجود شاعری جاری رہی۔ معاشرتی ناہمواریاں نا انصافیاں اور خواہشات کا ہجوم۔۔۔۔۔ بہت کافی تھا شعری عنوانات کے لیے۔۔۔ میں تسلسل سے کہتا رہا۔۔۔۔مگر 2010 کے بعد شاعری کو کتابی شکل دینے کی خواہش ہوئی۔ پہلا شعری مجموعہ شرحِ آرزو کے نام سے 2017 میں منظرِ عام پر آیا۔۔۔۔۔
صلائے عام سنو امن و آشتی کے لیے
کسی کا دل نہ دکھانا کبھی خوشی کے لیے
ایک اندازِ فکر یہ بھی ہے۔۔۔۔۔۔

سایا کہاں ہے دھوپ میں جلتی ہے یہ زمین
حاصل کہاں سکوں جو کبھی سائباں میں تھا۔۔۔۔۔

سوال 3: آپ کے دو شعری مجموعے "شرحِ آرزو” اور "حسرتِ اندمال” کس دورانیے اور کس کیفیت کے تحت منظرِ عام پر آئے؟
جواب:
شرحِ آرزو۔۔۔۔ میں عارض و گل لب و رخسار کی داستانیں نہیں تھیں۔۔۔ زندگی کے مختلف شیڈز ہیں۔ مایوسی میں با ہمت ہونے کی آس۔۔۔۔اور آرزو بھی ہے۔۔۔ مزاحمتی شاعری کہیں مفاہمت کے ساتھ کہیں اصلاحی پیغام کے ساتھ۔۔۔۔الفاظ کا چناؤ سادہ اور دلکش رکھنے کی کوشش رہی ہے۔
فنی دروبست نقد و نظر کے

☆ نامساعد حالات بھی دیکھے، مگر والدہ کی کامیاب حکمتِ عملی کی بنا پرتعلیم بھی مکمل ہوئی۔ پیشہ ورانہ مہارت اور مقام بھی حاصل ہوا۔

مرتی امیدوں کا نوحہ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے