مرتی امیدوں کا نوحہ
ڈیرے دار سہیل بشیر منج
غزہ کی پٹی پر جاری خون کی ہولی
کوئی نئی کہانی نہیں بلکہ یہ ایک طویل اور المناک تاریخ کا تازہ ترین اور سب سے خوفناک باب ہے اگرچہ یہ علاقہ دہائیوں سے تنازعات کا گڑھ رہا ہے لیکن حالیہ اور انتہائی تباہ کن جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو ہوا جب حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے کے جواب میں اسرائیلی افواج نے غزہ پر ایک وسیع فوجی آپریشن شروع کیایہ تنازع اس قدر خوفناک ثابت ہوا ہے کہ اس نے ماضی کی تمام جھڑپوں کی شدت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اسے اسرائیل کی تاریخ کا طویل ترین اور سب سے زیادہ نقصان دہ فوجی تنازعہ قرار دیا جا رہا ہے
جنگ کے خوفناک نتائج کو اعداد و شمار کی زبان میں بیان کرنا بھی مشکل ہے اکتوبر 2025 تک کے اعداد و شمار ایک دل دہلا دینے والی تصویر پیش کرتے ہیں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق،67,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں یہ تعداد صرف ایک ہندسہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں گھروں کے چشم و چراغ بجھ جانے ماؤں کی گودیں خالی ہو جانے اور لاکھوں بچوں کا مستقبل تاریک ہو جانے کا ثبوت ہے ان شہداء میں ایک بہت بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے جو عالمی قوانین کے تحت ہمیشہ تحفظ کے مستحق سمجھے جاتے ہیں اس کے علاوہ، 169,000 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں اور ہزاروں اب بھی ملبے تلے دبے یا لاپتہ ہیں جن کے بارے میں بدترین خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں
دوسری جانب جنگ کے ابتدائی حملے میں 1,139 سے زائد اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کی ہلاکت ہوئی اس جنگ نے دونوں اطراف کے خاندانوں کو غم اور صدمے سے دوچار کیا ہے
لیکن غزہ میں ہونے والا نقصان محض جانی نہیں ہے اسرائیلی حملوں نے غزہ کی پٹی کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا اقوام متحدہ کی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ غزہ کی دو تہائی سے زیادہ عمارتیں بشمول رہائشی عمارات ہسپتال، تعلیمی ادارے اور بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یہ صرف مکانات کی تباہی نہیں بلکہ ایک مکمل معاشرتی اور معاشی نظام کی تباہی ہے
نتیجہ یہ ہے کہ غزہ کی 90 فیصد سے زائد آبادی بے گھر ہو چکی ہے بنیادی ضروریات زندگی جیسے صاف پانی، خوراک اور ادویات کی شدید قلت نے ایک بدترین انسانی بحران کو جنم دیا ہے غذائی قلت اور قحط کی صورتحال نے کمزور اور بیمار افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور متعدد افراد بھوک کی وجہ سے موت کے منہ میں جا چکے ہیں
یہ جنگ کسی ایک فریق کی جیت یا ہار کا قصہ نہیں ہے بلکہ یہ پوری انسانیت کی اجتماعی ناکامی اور ایک ایسے تنازعے کا نتیجہ ہے جس کا واحد حل صرف مستقل امن اور انصاف کی فراہمی میں مضمر ہے غزہ کی اذیت ناک داستان عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے اور اس کا نقصان صرف غزہ کے باسیوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے گہرے اور دیرپا اثرات پوری دنیا محسوس کرے گی
اکتوبر 2023 سے پہلے کی غزہ کی صورتحال محض غربت کی کہانی نہیں تھی بلکہ ایک منظم انسانی بحران تھا خوراک کی کمی اور نظامِ صحت کا مفلوج ہونا اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ غزہ کی آبادی ایک طویل عرصے سے بقاء کی جنگ لڑ رہی تھی اس نازک پس منظر نے آنے والی جنگ کے لیے ایک ایسی بنیاد فراہم کر دی تھی جس کے بعد انسانی نقصان کی شدت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا
ایک منظم انسانی بحران
غزہ کی پٹی جو اس وقت دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحران کا گڑھ ہے وہاں بنیادی اشیائے خور و نوش اور طبی امداد کی ترسیل ایک مسلسل اور منظم رکاوٹ کا سامنا کر رہی ہے عالمی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں متفق ہیں کہ اسرائیل اپنی ناکہ بندی اور سخت کنٹرول کے ذریعے دراصل انسانی امداد کو ایک "جنگی ہتھیار” کے طور پر استعمال کر رہا ہے جس کا مقصد علاقے کی آبادی پر اجتماعی دباؤ بڑھانا ہے
غزہ میں ہونے والی کوئی بھی جنگ بندی چاہے اسے "انسانی بنیادوں پر وقفہ” کہا جائے یا "مکمل سیز فائر”، ہمیشہ فلسطینی عوام کے لیے زندگی اور موت کا سوال رہی ہے جبکہ بین الاقوامی برادری کے لیے یہ ایک نازک سفارتی کامیابی ہوسکتی ہے سوال یہ ہے کہ کیا حالیہ جنگ بندی ایک مستقل اور دیرپا امن کی بنیاد ڈالے گی یا یہ صرف عارضی طور پر لڑائی میں تعطل لائے گی جس کے بعد تشدد کی آگ دوبارہ بھڑک اٹھے گی؟ حقائق اور زمینی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے میرا خیال ہے کہ
یہ عارضی وقفہ ہونے کا خطرہ زیادہ ہے البتہ یہ دیرپا امن کی طرف قدم بڑھانے کا ایک آخری موقع ہو سکتا ہے
سب سے بڑا خطرہ دونوں فریقین کے بنیادی سیاسی مقاصد میں پوشیدہ ہے حماس اور دیگر فلسطینی گروہ مکمل جنگ کے خاتمے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں اس کے برعکس اسرائیل کا بنیادی مقصد حماس کو مکمل طور پر ختم کرنا تمام یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانا اور اپنی سیکیورٹی فورسز کی غزہ پر کسی نہ کسی شکل میں نگرانی برقرار رکھنا ہے جب تک یہ متضاد مقاصد موجود رہیں گے کسی بھی جنگ بندی کی پائیداری پر سوالیہ نشان رہے گا
غزہ جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط ہونے کے باوجود یہ توقع رکھنا کہ اسرائیل اپنے "گریٹر اسرائیل ” یا وسیع تر سیکیورٹی اور علاقائی عزائم سے دستبردار ہو جائے گا موجودہ سیاسی حقائق کی روشنی میں ناممکن دکھائی دیتا ہے یہ معاہدہ بنیادی طور پر ایک عارضی سیکیورٹی ترتیب ہے جو یرغمالیوں کے تبادلے اور انسانی امداد کی ترسیل کے لیے طے پایا ہے اس کا اسرائیل کے بنیادی نظریاتی اور طویل المدتی منصوبوں پر کوئی خاص اثر پڑتا نظر نہیں آتا
گریٹر اسرائیل کا تصور محض ایک سیاسی بیان نہیں ہے بلکہ یہ دائیں بازو کی اسرائیلی حکومتوں اور آباد کار تحریکوں کے لیے ایک نظریاتی محرک ہے اس تصور میں مغربی کنارے (West Bank) اور ممکنہ طور پر غزہ سمیت دیگر






