#کالم

ڈاکٹر اجمل نیازی۔۔۔ ایک وضع دار شخصیت

تسنیم کوثر

تسنیم کوثر
دن اور تاریخ تو مجھے یاد نہیں ۔ ہاں سال شاید ۲۰۲۰ ء تھا اور ہر طرف بے رحم کو وڈ کا دور دورہ تھا جس نے ہر طرف سراسیمگی پھیلائی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر اجمل نیازی ناسازی طبع کے باعث ہسپتال میں داخل تھے۔ میں ان کی عیادت کو ڈاکٹر ز ہسپتال کے کمرہ نمبر ۶۰۵ میں پہنچ تو گئی تھی مگر بہت آزردہ دل ہو کر وہاں سے نکلی تھی۔ ایک جی دار شخص کو یوں مشت استخواں دیکھ کر مجھے اپنے دل پر قابور ہا تھا اور نہ ہی آنکھوں پر اختیار کہ زندگی کی بے ثباتی مجھے رلا رہی تھی۔ کبھی یہ محفلوں کی جان ہوا کرتے تھے۔ لوگ ان سے ملنا، ان سے بات کرنا اپنے لیے باعث فخر سمجھتے تھے۔
میری ڈاکٹر اجمل نیازی سے پہلی ملاقات ناصر باغ چوپال میں ہوئی تھی۔ ایک ادبی محفل میں اپنے پسندیدہ کالم نگار کو دیکھ کر میری آنکھوں میں حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات ابھرے تھے کہ لفظوں کی خوشبو بکھیر نے والے ڈاکٹر اجمل نیازی میرے سامنے تھے۔ اس کے بعد ایک یاد گار ملاقات ڈاکٹر فوزیہ قسم کے گھر ایک مشاعرے میں ہوئی جہاں منیر نیازی ، ڈاکٹر کوثر محمود اور دیگر کئی شعرا کو میں نے پہلی بار دیکھا تھا۔ منیر نیازی کی پر اسرار خاموشی اور ڈاکٹر اجمل نیازی کی آنکھوں میں ان کی تکریم اب بھی یاد ہے۔ وہ منیر نیازی کو شاعری کا خان اعظم کہتے تھے اور بہت احترام سے نوازتے تھے ۔ ڈاکٹر اجمل نیازی سے میری ایک اچانک ملاقات عاصمہ جہانگیر کے دفتر میں ہوئی جہاں میں اور گوہر بٹ اپنی اخباری ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے تھے۔ تب مجھے وہاں دیکھ کر ان کی آنکھوں میں پہچان اور تجسس کے دائرے ابھر آئے تھے۔ میرے ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ہونے کا بھید بھی ان پہ کھلا تھا اور پھر اس کے بعد کبھی مشاعروں میں ، ادبی محفلوں میں ان سے بہت سی ملاقاتیں رہیں جو ان کی وفات تک جاری رہیں۔
تقریبا بیس پچیس سال پرانی بات ہے جب عائشہ مسعود اسلام آباد سے لاہور آئیں تو ڈاکٹر اجمل نیازی نے ان کے اعزاز میں اپنے گھر 6 ۔ ڈی وحدت کالونی میں ادیبوں، شاعروں کا اکٹھ کیا جس میں مجھے بھی مدعو کیا ۔ میں اپنے دفتری کاموں میں الجھے رہنے کی وجہ سے اے جی ایچ ایس لیگل ایڈ سیل سے کچھ تاخیر سے نکلی اور جب ان کی رہائش گاہ پر پہنچی تو ان کے چھوٹے سے ڈرائنگ روم میں نامور ادیبوں کی محفل بھی تھی ۔ ڈاکٹر اجمل نیازی نے اپنے مخصوص انداز میں سب سے میرا تعارف کروایا۔ شبانہ یوسف سے بھی میری ملاقات یہیں ہوئی تھی۔ محفل بہت بھر پور رہی اور ان کی بیگم رفعت کے بنائے ہوئے دہی بڑوں نے اس شام کو مزید حسین اور نمکین بنا دیا۔ اس تقریب کی روداد اور رفعت کے سگھڑاپے کی تعریف میں نے ایک خط میں ڈاکٹر اجمل نیازی کولکھ بھیجی تھی جس کا ذکر انہوں نے بہت بھر پور انداز میں اپنے کالم میں کیا تھا۔
ڈاکٹر اجمل نیازی بہت مہمان نواز تھے۔ وہ اپنی روایات سے جڑے ہوئے تھے۔ جب بھی کبھی ان کے گھر جانے کا اتفاق ہوا، وہ وقت دیتے تھے، بات سنتے تھے اور اس کا حل نکالنے کی کوشش کرتے تھے۔ جب مہمان واپسی کا ارادہ کرتے تو وہ دروازے تک انہیں چھوڑنے آتے اور جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو جائیں ، وہ وہیں کھڑے رہتے ۔ ایسے شائستہ اور مہذب لوگ اب تو نایاب ہیں ۔ عاصمہ جہانگیر کی بیٹی سلیمہ جہانگیر جن دنوں پاکستان آئی ہوئی تھی اور برن و کٹم (Burn Victim) پر کام کر رہی تھی تب

وہ میرے ساتھ ڈاکٹر اجمل نیازی سے جلائی گئی خواتین کے حوالے سے تاثرات لینے ان کے گھر گئی تھی اور ڈاکٹر اجمل نیازی کی شفقت اور مہمان نوازی کی قائل ہوگئی تھی۔ ایک بار ہم نے انہیں کسی پروگرام میں بلانا تھا مگر انہوں نے اپنی والدہ کے اعتکاف میں ہونے کی وجہ سے کچھ گھر یلو مصروفیت کا ذکر کیا تو مبارک باد دینے کے لیے میں اپنے بیٹے فرخ کے ساتھ ان کے ہاں پہنچی۔ انہوں نے بہت احترام سے اپنے عزیز و اقارب سے تعارف کروایا اور جب میں نے اپنے روٹری کلب کی طرف سے ایک مشاعرے کا اہتمام کیا تو محترم ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کو صدارت اور مہمان خصوصی کے لیے ڈاکٹر اجمل نیازی کا انتخاب کیا ۔ ڈاکٹر اجمل نیازی نے ناسازی طبع کے باوجود اس مشاعرے میں شرکت کی اور میر امان بڑھایا بلکہ گھر جا کر فون پر بھی مجھے اس کامیاب تقریب کی مبارکباد دی۔ میں نے جب کبھی انہیں صدا دی، انہوں نے میری آواز پر کان دھرے۔ میرا حقیقی بھانجا ایک حادثے کا شکار ہو کر اپنے شہر کے مقامی ہسپتال میں ڈاکٹروں کی لاپرواہی کی وجہ سے زندگی اور موت کی دہلیز پہ پہنچ گیا تھا۔ ڈاکٹر اجمل نیازی کو ہمارے اس دکھ کی خبر ہوئی تو انہوں انے ڈاکٹرز کی لاپرواہی پر کٹی کالم لکھے اور جب اسے لاہور ریفر کیا گیا تو ہسپتال کے قابل ڈاکٹروں کا بورڈ ڈاکٹر اجمل نیازی کے ایماء پر بچے کی دیکھ بھال کرتا رہا۔ یہ الگ بات کہ اس کی زندگی نے وفانہ کی مگر ڈاکٹر اجمل نیازی نے اپنی تئیں ہر ممکن کوشش کر ڈالی تھی۔ میرے لیے وہ ایک رہبر و رہنما کا درجہ رکھتے تھے۔ ڈاکٹر اجمل نیازی مخلص اور انسان دوست شخصیت تھے۔ وہ با کمال شاعر تھے، بے مثال کالم نویس تھے۔ ممکنہ حد تک دوستوں کے کام آنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کا کالم کبھی شعلہ اور کبھی شبنم کی صورت ہوا کرتا تھا۔ اپنی محبت اور ناراضی کا بر ملا اظہار اپنے کالم میں بھی کر دیا کرتے تھے۔ ڈاکٹر اجمل نیازی در اصل محبتی آدمی تھے۔ کبھی کسی بات پر وقتی غصہ آجاتا مگر جلد ہی وہ اسے بھلا کر پھر محبت سے چھلکنے لگتے تھے۔ وہ نہ تو کبھی کسی سے دبے اور نہ ہی کبھی کسی کے سامنے جھکے۔ ان کی نظر میں عہدے نہیں انسان اہم تھے علمی ادبی حوالے سے ڈاکٹر اجمل نیازی ایک قد آور شخصیت تھے۔ ان کے سر پر بھی ہوئی پگڑی ان کو اور بھی قد آور بنادیتی تھی۔ ان کی ذہانت سے چمکتی آنکھیں ان کی باطنی خوبصورتی کا پتہ دیتی تھیں اور زیر لب تبسم ان کی شگفتہ مزاجی کا مظہر تھا مگر آخری دنوں میں نہ ان کی شگفتہ مزاجی رہی تھی اور نہ وہ آنکھوں کی چمک۔ بہت دن وہ ہسپتال میں رہے پھر ڈاکٹر ز نے انہیں گھر بھیج دیا۔ ان کے آخری دنوں میں جب کبھی عیادت کے لیے جانا ہوا ، اک باغ و بہار شخص کی خامشی میرا دل برماتی رہی۔ ان کی زندگی کی شمع دھیرے دھیرے پکھلتی رہی اور ۱۸ اکتوبر ۲۰۲۱ ء کو یہ علمی ادبی چراغ ہمیشہ کے لیے گل ہو گیا ۔ ایک بھر پور زندگی جینے والا محنت سے دنیا میں اپنا مقام بنانے والا ، اپنی جفا کشی کی داستانیں سنانے والا آخر اس راہ پر چل دیا جہاں سے کبھی کوئی لوٹ کر نہیں آیا ۔ وہ اب دنیا میں نہیں ہیں مگر ان کے چاہنے والوں کے دل ان کی محبت سے بھرے ہوئے ہیں۔ میری دعا ہے رب کریم ڈاکٹر اجمل نیازی کے درجات بلند فرمائے ۔ ان کو بہشت کے باغ میں جگہ دے۔ آمین ۔

ڈاکٹر اجمل نیازی۔۔۔ ایک وضع دار شخصیت

مرتی امیدوں کا نوحہ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے