#کالم

"علامہ مہر محمد خان ہمدمؒحیات و خدمات”

ارشد جاوید مصطفائی

تحریر: ارشد جاوید مصطفائی

aaaa

کائنات کے اس گردشِ لیل و نہار میں ہر روز لاکھوں انسان جنم لیتے ہیں اور ہزاروں اپنی حیاتِ مستعار کا سفر تمام کر کے ابدی آرام گاہ کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔ مگر ربِ کائنات بعض ایسے نابغۂ روزگار بندگانِ خاص پیدا فرماتا ہے جن کی ذاتِ گرامی انسانیت کے لیے رحمت، دینِ متین کے لیے نعمت، اور ملتِ اسلامیہ کے لیے سرمایۂ حیات بن جاتی ہے۔ ان کے جانے کے بعد بھی ان کی علمی، روحانی اور ملی خدمات تاریخ کے اوراق پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتی ہیں۔ انہی ہستیوں میں ایک درخشاں نام حضرت علامہ الحاج ابوالعانی عبدالمصطفیٰ مہر محمد خان ہمدمؒ کا ہے۔

"ابتدائی زندگی اور تعلیم”
آپ 1916ء میں ریاست پٹیالہ (ہند) کے معروف شہر سنور شریف کے محلہ افغاناں میں ایک متقی و درویش منش شخصیت الٰہی بخش خان کے گھر پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم محلے کی جامع مسجد "مینار والی” کے خطیب مولانا رحیم بخش سے حاصل کی۔ بعد ازاں مدرسہ حفظ القرآن پانی پت سے قاری حفیظ الدین کی نگرانی میں قرآنِ مجید حفظ کیا اور تجوید و قراءت کی اسناد حاصل کیں۔اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے آپ نے مرکزی دارالعلوم حزب الاحناف لاہور کا رخ کیا، جہاں استاد المحدّثین حضرت سید ابو البرکات احمد شاہ قادری کی شاگردی اختیار کی۔ آپ نے نہایت محنت و شوق سے دورۂ حدیث مکمل کیا اور علومِ دینیہ میں کمال حاصل کیا۔ حزب الاحناف کے دورِ تعلیم میں آپ کے ہم سبق علما کرام میں شیخ القرآن علامہ غلام علی اکاوڑی، مفتی محمد عبداللہ قصوری، مفتی حسن علی برکاتی، فقیہِ اعظم مولانا محمد نوراللہ نعیمی اور شیخ الحدیث علامہ عبدالغفور ہزاروی جیسے اجلّہ علما شامل تھے۔
"تحریکِ پاکستان میں کردار”
1934ء تا 1938ء حزب الاحناف سے فراغت کے بعد آپ نے میدانِ عمل میں قدم رکھا۔ جب تحریکِ پاکستان کا آغاز ہوا تو آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور ضلع ہوشیارپور کے صدر کی حیثیت سے مختلف قصبات و دیہات کا دورہ کیا۔ آپ نے علما، مشائخ، مریدین اور طلبہ کو مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر جمع کیا اور قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کیا۔آپ نے امیرِ ملت پیر سید جماعت علی شاہ علیپوریؒ، صدر الافاضل علامہ نعیم الدین مرادآبادیؒ، خواجہ قمرالدین سیالویؒ، علامہ عبدالحامد بدایونیؒ، سید ابوالحسنات قادریؒ اور مجاہدِ ملت علامہ عبد الستار خاں نیازیؒ جیسے اکابرِین اہلِ سنت کے شانہ بشانہ تحریک میں حصہ لیا۔آپ کے خطابات اور تنظیمی کوششوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد تحریکِ آزادی سے وابستہ ہوئے۔ بالآخر 27 رمضان المبارک 1366ھ (14 اگست 1947ء) کو وہ مبارک دن آیا جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔
"تحریکِ ختمِ نبوت اور نظامِ مصطفیٰ ﷺ”
1953ء کی تحریکِ ختمِ نبوت میں آپ کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ جب مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے دعوئے نبوت کے خلاف علما و عوام سڑکوں پر نکلے تو آپ بھی مسجد وزیر خان لاہور میں مولانا ابو الحسنات قادریؒ کی قیادت میں صفِ اوّل میں شریک تھے۔آپ کو دو سو سے زائد علما و کارکنان کے ساتھ گرفتار کر کے شاہی قلعہ کی جیل میں قید کر دیا گیا۔ فوجی عدالت نے جب سزائے موت سنائی تو آپ نے مسکراتے ہوئے کہا:
⁠“کروں تیرے نام پہ جاں فدا،
نہ بس ایک جہاں، دو جہاں فدا،
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا،
کروں کیا کروڑوں جہاں فدا!”
بعد ازاں آپ نے تحریکِ نظامِ مصطفیٰ ﷺ میں بھی بھرپور شرکت کی اور عشقِ رسول ﷺ کے پیغام کو عام کیا۔

"علمی و تصنیفی خدمات”
آپ چالیس برس تک مرکزی جامع مسجد حنیفہ رضویہ چھانگا مانگا میں خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ وعظ و نصیحت کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کا بھی شاندار سلسلہ قائم رکھا۔آپ کی تصانیف کی تعداد پچاس سے زائد ہے،جن میں سے کئی اردو ادب اور اسلامی فکر کے نایاب ذخیرے ہیں۔آپ کی مشہور کتب میں شامل ہیں جن میں
 1.⁠ ⁠شاہنامۂ اسلام (چار جلدیں)
 2.⁠ ⁠شانِ مصطفیٰ ﷺ
 3.⁠ ⁠نورِ مصطفیٰ ﷺ
 4.⁠ ⁠شانِ قرآن
 5.⁠ ⁠امتِ مصطفیٰ ﷺ
 6.⁠ ⁠شانِ اسلام
 7.⁠ ⁠معجزاتِ مصطفیٰ ﷺ
 8.⁠ ⁠معجزاتِ انبیا
 9.⁠ ⁠شانِ خلفا
10.⁠ ⁠شانِ صدیقؓ
11.⁠ ⁠شانِ فاروقؓ
12.⁠ ⁠شانِ عثمانؓ
13.⁠ ⁠شانِ علیؓ
14.⁠ ⁠شانِ فاطمہؓ
15.⁠ ⁠شہیدِ کربلاؓ وغیرہ ہیں۔

"انجمنِ طلبہ اسلام کی سرپرستی”
حضرت علامہ مہر محمد خان ہمدمؒ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک مختلف سنی تنظیموں کے ساتھ بلا تفریق تعاون فرمایا۔بالخصوص فروغِ عشقِ رسول ﷺ کی عالمگیر تحریک “انجمنِ طلبہ اسلام” کے نوجوانوں کی خصوصی تربیت فرماتے تھے۔آپ نوجوانوں کو علم، عمل اور کردار کی بنیاد پر امت کا فخر بننے کی تلقین کرتے ہر مشکل گھڑی میں طلبہ کے حوصلے بلند کرتے اور فرمایا کرتے تھے “نوجوان اگر عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں ڈھل جائیں تو امت کو کوئی طاقت کمزور نہیں کر سکتی۔انجمنِ طلبہ اسلام کے ذمہ داران بھی آپ کو اپنا روحانی سر پرست مانتے تھے اور اکثر اجتماعات میں آپ کی دعاؤں سے فیض یاب ہوتے۔
"روحانی فیوض و برکات”
علامہ ہمدمؒ سلسلہ نقشبندیہ میں سائیں توکل شاہ انبالویؒ کے خلیفہ مجاز تھے جبکہ سلسلہ قادریہ میں انہیں فیض حضرت علامہ ابو البرکات احمد شاہ قادریؒ سے حاصل ہوا۔آپ حضرت مہر محمد صوبہؒ کے دستِ حق پر بیعت تھے۔ آپ کا فیضِ روحانی دور و نزدیک تک پھیلا ہوا ہے۔علامہ مہر محمد خان ہمدمؒ کی زندگی علم، عمل، عشقِ رسول ﷺ اور خدمتِ دین کا حسین امتزاج تھی۔آپ نے نہ صرف درس و تدریس کے ذریعے نسلوں کو منور کیا بلکہ دینی تحریکوں میں بھی اپنی جراتمندانہ جدوجہد سے تاریخِ میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔
"وصالِ پرملال”
28 اپریل 1983ء کو آپ اپنے مرید پیر رانا ذکاء الدین ہمدمی کے گھر بھٹہ کوہاڑ میں محفلِ میلاد النبی ﷺ میں تشریف فرما تھے۔جب عشاء کی اذان ہوئی تو آپ نے شرکائے محفل کے ساتھ
“یا رسول ﷺ، یا نبی ﷺ”
“یا رسول ﷺ، یا نبی ﷺ”
کا ورد کرتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

"سالانہ عرسِ مبارک”
آپ کا سالانہ عرس مبارک ہر سال اسوج کے آخری ہفتے کو منعقد ہوتا ہے۔ اس سال 42 واں عرس مبارک 11 اکتوبر 2025 بروز ہفتہ کو مرکزی دارالعلوم ہمدمیہ چھانگا مانگا میں منعقد ہوگا،جس میں ملک بھر سے ہزاروں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے