موسم کی تبدیلی اور ہماری صحت
تحریر۔۔۔۔صفدر علی خاں
پاکستان میں جیسے ہی موسم بدلتا ہے، چاہے وہ سردیوں کی آمد ہو یا گرمیوں کی رخصتی، لوگ بڑی تعداد میں بیمار پڑنے لگتے ہیں۔ نزلہ، زکام، بخار، کھانسی، گلے کی خراش اور جسمانی کمزوری جیسے مسائل تقریباً ہر گھر میں دکھائی دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر موسم کی یہ تبدیلی انسانی صحت پر اتنا گہرا اثر کیوں ڈالتی ہے؟
درحقیقت، جب موسم بدلتا ہے تو درجہ حرارت، نمی اور فضا میں موجود جراثیم کی نوعیت بھی بدل جاتی ہے۔ ہمارے جسم کو ایک خاص درجہ حرارت اور ماحول کی عادت ہو جاتی ہے اور جب یہ ماحول اچانک تبدیل ہوتا ہے تو جسم کو خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے چنانچہ اگر ہمارا مدافعتی نظام کمزور ہو یا ہم احتیاط نہ کریں تو یہ موسمی جھٹکا بیماری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔موسم کی تبدیلی کے دوران عموماً لوگ اپنی روزمرہ عادات میں وہی تسلسل برقرار رکھتے ہیں جو پچھلے موسم میں تھا۔ مثلا” جب گرمی ختم ہو رہی ہوتی ہے تو لوگ اب بھی ٹھنڈی چیزیں کھانے یا اے سی کے نیچے بیٹھنے سے گریز نہیں کرتے یا سردیوں کے آغاز میں گرم کپڑوں کا استعمال دیر سے شروع کرتے ہیں۔ یہی لاپرواہی بیماریوں کو دعوت دیتی ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ موسم کے بدلتے ہی اپنی طرزِ زندگی میں بھی مناسب ردوبدل کیا جائے۔ جیسے کہ سردیوں کے آغاز پر ہلکے مگر گرم کپڑے پہننا، پانی کا استعمال کم کرنے کے بجائے متوازن رکھنا، نیند پوری کرنا اور جسمانی سرگرمی کو جاری رکھنا۔ اسی طرح گرمیوں میں زیادہ پانی پینا، پسینے کے ساتھ ضائع ہونے والے نمکیات کا خیال رکھنا، اور تیز دھوپ سے بچنے کے لیے مناسب احتیاط کرنا بہت ضروری ہے۔اب اگر موسمی بیماریوں سے بچاؤ کی ایک قدرتی اور مؤثر تدبیر کی بات کی جائے تو وہ موسمی پھل ہیں۔ قدرت نے ہر موسم کے مطابق ایسے پھل عطا کیے ہیں جو اسی موسم کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ مثلاً گرمیوں میں تربوز، خربوزہ، آم اور آڑو جسم کو ٹھنڈک اور پانی فراہم کرتے ہیں، جب کہ سردیوں میں مالٹا، کینو، سیب اور انار وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں جو نزلہ زکام سے بچاتے ہیں۔
موسمی پھل اس لیے بھی مفید ہیں کہ وہ تازہ، مقامی طور پر دستیاب اور غذائی لحاظ سے بھرپور ہوتے ہیں۔ یہ جسم کی قوتِ مدافعت کو مضبوط کرتے ہیں اور ماحول کی تبدیلی سے پیدا ہونے والے دباؤ کو متوازن کرتے ہیں۔ ان کا باقاعدہ استعمال نہ صرف بیماریوں سے بچاتا ہے بلکہ توانائی، جلد کی صحت اور نظامِ انہضام کے لیے بھی بہترین ہوتا ہے۔موسم کی تبدیلی کے ساتھ اگر ہم اپنی غذا، لباس، نیند اور روزمرہ معمولات کو تھوڑا سا متوازن کر لیں تو زیادہ تر موسمی بیماریاں ہم سے دور رہ سکتی ہیں۔ لہٰذا ہم سمجھتے ہیں صحت محض دوا سے نہیں بلکہ ایک متوازن طرزِ زندگی سے جڑی ہے۔ قدرت نے ہر موسم کے ساتھ اپنی رحمتیں عطا کی ہیں ۔ہمیں صرف ان سے فائدہ اٹھانے کا سلیقہ آنا چاہیے۔






