شہید پاکستان حکیم محمد سعید کی نونہالوں سے محبت
حکیم راحت نسیم سوہدروی
شہید حکیم محمد سعید کا شمار ہمیشہ ان عظیم المرتبت افراد ملت میں ہوتا رہے گا جہنوں نے تعمیر واستحکام پاکستان کے لئے بے مثال کردار ادا کیا اس حوالے سے تعلیم و صحت، علم وحکمت اور سماجی بہبود ان کے میدان عمل رہے ان کی خدمات کی رائیں شہر علم وحکمت مدنتہ الحکمہ جو دور اسلامی کے احیا کی کاوش ہے جس میں کئ تعلیمی ادارے ، ہمدرد تھنیک ٹینک ( شام ہمدرد، شوری ہمدرد)
تعمیر اذہان ملت کے لئے اواز اخلاق اور سپاہ صحت کی تحریکیں تقلیل غذا کے لئے ایک ناشتہ ایک کھانا کی مہم ، علم و عالم کی قدردانی ، پندرویں صدی ہجری کی تقربیات ، کتب خانوں کی ترقی کے لئے انجمن اور اس کا مجلہ کی اشاعت ، نوجوانوں کے لئے جہاں دوست کا پلیٹ فارم ، حفظ صحت کا شعور بیدار کرنے کے لئے ہمدرد صحت کا اجرا قران و سیرت پر کانگریسوں کا انعقاد طب و صحت پر تحقیق کے لئے ہمدرد میڈئکس کی اشاعت طب و اطبا کے لئے اخبارالطب مسلمان سائنسدانوں کے شاندار کا ناموں پر عالمی سطح کے سیمینارز تذکار حکمتہ کا پلیٹ فارم ، ہمدرد کتابستان کے زیراھتمام کتابوں کی اشاعت نایاب کتابوں کی اشاعت، کوئ ایک سو سے زیادہ بیرون ملک کانفرنسوں میں شرکت کی اس طرح علم وحکمت کے میدانوں میں انمٹ نقوش چھوڑے اور وہ کام کئے جو ایک فرد کے نہیں بلکہ حکومتوں کے کرنے کے تھے ان کی عظمت ان کے کاموں سے ہویدا ہے ان کا یہ کارواں ہمدرد ان کے تعین کردہ راہوں پراج بھی رواں دواں ہے بحثیت مصلح قوم نے انہوں نے ملک وملت کی صیح راھنمائ کی اگر چہ ان کو ان کے قریبی رفقا نے مشورہ دیا کہ وہ ملک و ملت کی زبوں حالی اور حالات وطن بارے زیادہ نہ بولیں اس طرح ان کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے مگر ان کا جواب تھا کہ ،، میں بھی نہیں بولوں گا تو پھر کون بولے گا ،،
اس حوالے سے جس بے باکی سے اظہار خیال کرتے اس کا نتجہ یہ نکلا کہ ان کے حصے میں شہادت کا جام ایا
شہید حکیم محمد سعید نے تعمیر پاکستان کے لئے بہت جدوجہد کی مگر مطلوبہ نتائج برامد نہ ہوئے تو مایوس ہونے کی بجاے اپنا میدان عمل بڑھا دیا اوراپنی توجہات کا رخ نوجوانوں اور نونہالوں کی طرف کردیا یہ 1980 کی دھائ کا واقعہ ہے سال یاد نہیں رہا کہ 27 رمضان المبارک یوم قیام پاکستان کی تحریک کا اغاز اس طرح کیا کراچی راولپنڈی/ اسلام اباد لاہور کوئٹہ اور پشاور میں 27 رمضان المبارک کو بڑے بڑے اجتماعات کئے لاہور میں یہ پروگرام جناح ہال کے سبزہ زار پر ہوا یوں 27 رمضان المبارک یوم قیام پاکستان کی تحریک کا اغاز ہوا تو دوسری طرف نو نہالوں کی ذہنی تربیت کا اغاز ہوا
شہید حکیم محمد سعید کا کہنا تھا
،، 27 رمضان کو پاکستان کا،قیام کوئ اتفاق نہیں ہے بلکہ عطیہ ربانی ہے 27 رمضان المبارک کی شب جمعتہ الوداع اور نزول قران کی مبارک ساعتوں میں پاکستان کا قیام سورہ رحمن کی تفسیر ہے پاکستان کو اللہ تعالی نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے مگر ہم نے عطیہ ربانی کی قدر نہیں کی 27 رمضان کو یوم پاکستان منانا چاھئیے تا کہ ہمیں اس مبارک دن پاکستان کی قدروقمیت کا اندازہ ہو اور ہم اللہ سے کیا ہوا وعدہ ہاد رکھیں،،
اس کے بعد نونہالوں کے لئے ہمدرد نونہال اسمبلی قائم کردی سو اس طرح ہمدرد نونہال اسمبلیاں معرض وجود میں ائیں جب نونہال اسمبلیوں کا سلسلہ شروع ہوا تو راقم کو بڑی حیرت ہوئ کہ اخر بچوں کے اس پروگرام سے کیا مقاصد حاصل ہوسکتے ہیں راقم حکیم صاحب کے دورہ لاہور میں ان کے ساتھ طبیب کی حثیت سے خدمات سرانجام دیتا تھا حکیم صاحب مطب میں انے والے بعض نونہالوں کو نونہال اسمبلی کا دعوت نامہ بھی دیتے میں نے ایک موقع پر حکیم صاحب سے جاننا چاہا کہ بچوں کے پروگرام کے مقاصد کیا ہیں اور اس سے کیا حاصل ہوگا کہنے لگے ،، بھائ! میں بوڑھے طوطوں کو پڑھا کر تھک گیا تھا کوئ نتجہ نہ نکلا سوچا کیوں نہ نونہالوں پر توجہ دوں مستقبل انہوں نے سنبھالناہے ان کی تربیت کروں مجھے ان سے امید ہے کہ پاکستان کو بہتر انداز میں چلائیں گے ،، اج چار دہائیاں ہونے کو ہیں یہ اسمبلیاں کامبیابی سے ہرماہ لاہور، کراچی ، پشاور اور راولپنڈی میں باقاعدہ اجلاس کرتی ہیں کسی نئے منتخب موضوع پر نونہال اظہار خیال کرتے ہیں نونہال مقرر ہی اظہار خیال کرتے حتی کہ اسپیکر کے فرائض بھی کوئ نونہال سرانجام دیتا ان نونہالوں کو انعامات اور علمی تحائف بھی دئیے جاتے ہیں ان اسمبلیوں سے تیار شدہ مقررین اور شرکا کی بڑی تعداد عملی زندگی میں داخل ہوکر تعمیر پاکستان میں اپنا کردار بہ احسن و بخوبی ادا کررہی ہے ان میں سے کئ اہم مناصب پر ہیں نونہال اسمبلیوں نے انہیں خطابت ، خود اعتمادی، قوت فیصلہ اور قومی سوچ کے اوصاف سے مزین کردیا ہے اور حوصلہ دیا ہے
شہید حکیم محمد سعید ان تمام شہروں میں خود بھی شریک ہوتے اور اظہار خیال کرتے نونہالوں سے ان کی محبت کا یہ عالم اکثر دیکھنے میں اتا کہ اگر نونہال اسمبلی کی کرسیاں بھر جاتیں تو اسٹیج اور صف اول کے درمیان چادریں بچھا دی جاتیں تا کہ نونہال بیٹھ جائیں اور احساس کمتری کا شکار نہ ہوں کئ بار ایسا ہوا کہ حکیم صاحب اسٹیج سے اتر کر نونہالوں کے درمیان تشریف فرما ہوجاتے جس کا مقصد یہ ہوتا کہ چادروں پر بیٹھے نونہال کسی احساس کا شکار نہ ہوں یا ان کی دل ازاری نہ ہو حکیم صاحب نونہالوں کی تربیت کے لئے پروگرام وقت مقررہ پر شروع کرادیتے ایک بار گورنر پنجاب اسمبلی کے مہمان خصوصی تھے گورنر صاحب کا پیغام ایا کہ چند منٹ کی تاخیر سے پہنچ رہا ہوں مگر حکیم صاحب نے پروگرام وقت پر شروع کرادیا حکیم صاحب اکثر فرماتے کہ اپنے کردار وعمل سے نونہالوں کی ذہنی تربیت کرتا ہوں – نونہالوں کے لئے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی ادارہ صحت کے زیر اھتمام ہرسال 9 اپریل






