سو لفظوں کی کہانی مال
شاہد کاظمی
دونوں فریقین میں لڑائی جھگڑا تو ایک طویل عرصے سے تھا،
عدالتوں میں بھی ایک دوسرے سے مقابلہ جاری تھا،
لیکن لفظی گولہ باری کے بعد،
آج بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی تھی،
خوب ڈانگ سوٹے چلے، سر پھٹے۔۔۔۔
بابا دوسو کروڑوں کی جائیداد چھوڑ کر،
کئی دہائیاں پہلے اس دنیا سے کوچ کر گیا تھا،
اور اب دونوں پارٹیاں اس کی وراثت کی دعویدار تھیں،
جھگڑے کی بس یہی کہانی تھی۔۔۔
میرا شام قبرستان کا چکر لگا تو دیکھا،
جس دوسو کی وراثت پہ لوگ جھگڑ رہے تھے،
اس کی قبر پر لگا کتبہ بھی ٹوٹا ہوا تھا۔





