وزیر اعظم شہباز شریف کے خطاب کے چرچے
أج کا اداریہ
وزیرِاعظم شہباز شریف کی شرم الشیخ میں امن سربراہ اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں۔باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا تاھم امن کانرنس سے خطاب کے ھر طرف چرچے ہیں
وزیراعظم کی آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ملاقات ہوئی، دونوں رہنماؤں نے غزہ جنگ بندی پر اظہار اطمینان کیا، اس موقع پر آرمینیا کے وزیراعظم نکول پاشنیان بھی ملاقات و گفتگو میں شریک ہوئے۔
اردن کے شاہ عبداللّٰہ دوئم، بحرین کے شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ سے بھی وزیراعظم کی ملاقات ہوئی، جبکہ وزیراعظم کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی ملاقات ہوئی۔
وزیراعظم کی انڈونیشیا کےصدر پربوو صوبیانتو، جرمن چانسلر فریڈرک مرز، اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز، اٹلی کی وزیراعظم جیورجیا میلونی سے بھی ملاقات ہوئی۔
وزیراعظم کی سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آلسعود سے بھی ملاقات ہوئی، ملاقاتوں میں خطے میں امن کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا، وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور ان کی سفارتی و اخلاقی مدد جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔فلسطین کے صدر محمود عباس سے ملاقات ہوئی، بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ بھی ملاقات و گفتگو میں شریک تھے۔
وزیراعظم نے اہل غزہ کو ہمت و بہادری سے صعوبتیں برداشت کرنے پر خراج تحسین پیش کیا، دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
تاہم وزیر اعظم شہباز شریف کے مختصر خطاب کی دنیابھر میں دھوم مچ گئی ھے۔سیاسی ماہرینِ نفسیات اس رویے کو ’خود پسند انعامی دائرہ‘ (narcissistic reward loop) کہتے ہیں جوکہ ایک ایسا ذہنی عمل ہے جس میں تعریف تعاون کو مضبوط بناتی ہے، چاہے اس کا کوئی حقیقی مطلب ہو یا نہ ہو۔ اس لمحے میں ہو سکتا ہے کہ وزیرِاعظم نے پاکستان کے اسٹریٹجک مفادات کو آگے نہ بڑھایا ہو لیکن انہوں نے ایک اور مؤثر کام ضرور کیا جو یہ تھا کہ انہوں نے خود کو اور بالواسطہ طور پر پاکستان کو، ٹرمپ کی امن کی کہانی کا حصہ بنایا۔ یوں تقریر کا غیرمعقول ہونا ہی اُس کی کامیابی کا ذریعہ بنا۔
مصر میں جو کچھ ہوا اسے اسپیچ تھیوری میں ’Perlocutionary misfire‘ کہا جاتا ہے یعنی جب کوئی شخص جو کہتا ہے اس کا نتیجہ اس کی منصوبہ بندی سے مختلف ہوتا ہے لیکن پھر بھی یہ مثبت اثرات مرتب کرتا ہو۔ شہباز شریف شاید اپنے میزبان کی تعریف کرنا چاہتے تھے اور مصروف اجلاس میں تھوڑی توجہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔ لیکن اس کے بجائے، وہ اس جغرافیائی سیاسی تقریب میں سب سے زیادہ چرچا کیے جانے والے رہنما بن گئے۔ جہاں مبصرین نے ان کا مذاق اڑایا وہیں وہ ٹرمپ کی نظروں میں آگئے۔
جسے باقی دنیا نے خوشگوار حیرت کے ساتھ دیکھا، ٹرمپ کے نزدیک ان کے الفاظ میں ان کے لیے حمایت نظر آئی۔ اور ایک ایسی دنیا جہاں سفارت کاری باہمی ھم أھنگی پر مبنی ہے، یہی فرق سب سے زیادہ اہم ہے۔
ایسا رویہ کہ جس میں بات کا مطلب غلط سمجھا جائے لیکن نتیجہ پھر بھی مثبت نکل آئے، تعلقات عامہ کی دنیا میں ’فائدہ مند غلط فہمی‘ کہلاتا ہے۔ اس میں مقرر کا ارادہ اور سامعین کا تاثر مختلف ہوتا ہے لیکن یہ غلط فہمی اصل میں تقریر کرنے والے کو زیادہ توجہ یا حمایت حاصل کرنے میں مدد کرتی ہے۔ یہ میڈیا کے دور میں غلط پیغام رسانی کی ایک عجیب لیکن کامیاب شکل ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف کی تقریر نے شاید پالیسی ساز حلقوں کو قائل نہ کیا ہو لیکن یہ ضرور ہوا کہ اُن کے الفاظ خبروں کی شہ سرخیاں بن گئے خاص طور پر پڑوسی ملک بھارت میں۔۔۔ یہ ایک ایسا منفرد لمحہ تھا کہ جب ایک ایسی سربراہی اجلاس جس میں امریکا اور مصر کی سیاسی حکمتِ عملیوں کا غلبہ تھا، پاکستان خود کو نمایاں بنا گیا۔
بہت سے مبصرین کے لیے یہ لمحہ تجسس أمیز تھا کہ ایک جوہری طاقت رکھنے والے ملک کا وزیر اعظم ایک ایسے صدر کی تعریف کررہے تھے جو دنیا میںامن کے داعی کے طور پر ابھر کر سامنے أئے ہیں
لیکن سیاست بالخصوص 21ویں صدی کے میڈیا کے دور میں، اب پرانی شائستگی اور روایتی اصولوں کی پابند نہیں رہی۔ اب نیت سے زیادہ تاثر اہم ہوتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے شخص ہیں جن کی خود پسندی ان کی نظریات سے بھی بڑی ہے، انہوں نے ایک ریاست کے سربراہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک مشہور شخصیت کے طور پر ردِعمل دیا جو تعریفوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ وہ مسکراتے رہے، مذاق کرتے رہے اور اشارے سے گویا کہہ دیا کہ اب کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ گویا دنیا تقریر سے محظوظ ہوئی اور ٹرمپ نے اسے غور سے سنا۔
اور یہیں اصل تضاد ہے۔ وہی غیرسنجیدگی اور مبالغہ آرائی جس نے وزیرِاعظم شہباز شریف کو روایتی سفارت کاروں سے دور کر دیا تھا، اُسی نے اگر صرف چند وقت کے لیے ہی سہی لیکن ایک بار پھر انہیں ٹرمپ کی جذباتی دنیا سے ہم آہنگ کر دیا ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں رقابت کی جگہ پسندیدگی جبکہ دوری کی جگہ منظوری کی خواہش نے لے لی ہے۔
جو بظاہر ایک سفارتی غلطی لگ رہی تھی، وہ نفسیاتی اعتبار سے ایک حکمتِ عملی پر مبنی کامیابی کی طرح معلوم ہوئی۔ ان کا اندازِ خطاب ایک ہمہ جہت شخصیت کی توثیق کی خواہش کے عین مطابق تھا۔
یہ واقعہ موجودہ دور کی نمائشی سفارت کاری کے ایک بڑے مسئلے کو ظاہر کرتا ہے۔ جدید دور کی بین الاقوامی کانفرنسسز نتائج سے زیادہ دکھاوے پر مرکوز نظر آتی ہیں۔ رہنما ایک دوسرے سے کم اور عوام سے زیادہ مخاطب ہوتے ہیں جبکہ بعض اوقات وہ صرف ایک شخص کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنے کے لیے بولتے ہیں۔
ایک حقیقت پسندی پر مبنی گفتگو جو قائل کرنے کا ایک ناپسندیدہ طریقہ ہوا کرتی تھی، اب توجہ حاصل کرنے کے لیے اس کا کھلے عام استعمال کیا جاتا ہے۔ اس قسم کی دنیا میں ایک تقریر جو چونکا دینے والی لگتی ہے، کامیاب ہو سکتی ہے، اگر وہ لوگوں کی توجہ حاصل کرپائے اور سرخیوں کی زینت بن جائے۔ مواد بےمعنی جبکہ تماشا اہم ہوچکا





