#کالم

فیلڈ مارشل سید عاصم منیرفکر و نگاہ کے سنگم پر ایک سپاہی

منشا قاضی حسب منشا

منشا قاضی حسبِ منشا

تاریخ کے افق پر جب قومیں تھکنے لگتی ہیں، جب ان کے قافلے دھند میں راستہ بھولنے لگتے ہیں، تب کسی بیدار دل رہنما کی آمد ایک نئی صبح کا اعلان بن جاتی ہے۔ کبھی کبھی تاریخ اپنے صفحات پر ایسے نام بھی کندہ کرتی ہے جو وقت کی قید سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ ان کے فیصلے محض حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک فلسفۂ حیات ہوتے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر۔۔ وہ نام جو پاکستان کے عسکری، فکری اور اخلاقی افق پر گویا ایک روشن مینار کی مانند کھڑا ہے، جو راستہ بھی دکھاتا ہے، اور آنے والے قافلوں کے لیے چراغِ رہ بھی بنتا ہے۔ عاصم منیر کی شخصیت محض ایک سپاہی کی نہیں، بلکہ ایک مفکر، ایک درویش، اور ایک نگہبان کی ہے۔ وہ جس زمین کے سپوت ہیں، وہی زمین جس کے ذرے ذرے میں شہداء کا خون بسا ہے، جہاں ہر ہوا میں قربانی کی خوشبو گھلی ہوئی ہے۔ ان کے چہرے پر استقامت کی لکیر اور نگاہوں میں یقین کی چمک اسی مٹی کا عکس ہے۔
ان کا سفر عسکری دربار سے شروع ہو کر روحانی بصیرت کی وادیوں تک پھیلا ہوا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت محض طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایمان اور اخلاق کا توازن ہے۔ انہوں نے ہمیشہ فرمایا کہ "طاقت صرف ہتھیار میں نہیں، نیت میں ہوتی ہے” — اور یہی فلسفہ ان کے ہر فیصلے میں جھلکتا ہے۔ ان کی قیادت ایک عبادت ہے، ایک خدمت ہے، ایک عہد ہے کہ وطن کی حفاظت صرف سرحدوں پر نہیں، بلکہ دلوں کے اندر بھی کرنی ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر ان رہنماؤں میں سے ہیں جو "سوچنے والے سپاہی” ہیں جن کی شمشیر عقل کی روشنی میں چلتی ہے۔ وہ امن کو کمزوری نہیں سمجھتے بلکہ ایک مضبوط قوم کی علامت مانتے ہیں۔ ان کے نزدیک جنگ صرف دشمن سے نہیں، اپنے اندر کی خامیوں، غفلتوں اور مایوسیوں سے بھی ہوتی ہے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ دفاع صرف توپ و تفنگ کا نام نہیں، بلکہ علم، اتحاد، اور یقین کا ہتھیار بھی اس سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔
عاصم منیر کی شخصیت میں روحانیت کی ایک گہری جھلک ہے۔ وہ سجدے میں جھکا ہوا ماتھا اور محاذ پر کھڑا ہوا سپاہی، دونوں کو ایک ہی عبادت سمجھتے ہیں۔ ان کی قیادت میں پاکستان کی افواج نہ صرف ایک عسکری قوت ہیں بلکہ ایک اخلاقی ادارہ بھی — جو عدل، نظم، اور قربانی کے استعارے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ ان کے فیصلے قرآن و سنت کے تناظر میں گہرے شعور کے ساتھ لیے جاتے ہیں، اور ان کی گفتگو میں ایک صوفیانہ سکون اور ایمان کی خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے۔
عاصم منیر نے جس خلوص کے ساتھ اپنی قوم کی خدمت کی ہے، وہ یادگار ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک رہنما کا اصل ہتھیار اس کی نیت اور شفافیت ہے۔ چاہے دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا سرحدوں کی حفاظت، چاہے قومی وحدت کی بحالی ہو یا سیاسی انتشار کے اندھیروں میں امید کی شمع جلانا — ان کا ہر قدم نظم و ضبط، برداشت، اور تدبر کی مثال ہے۔

یہ کہانی محض ایک سپاہی کی نہیں، بلکہ ایک ایسے مردِ مومن کی ہے جس نے قرآن کے اس پیغام کو اپنی عملی زندگی کا محور بنا لیا:
“اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمْ بُنْیَانٌ مَرْصُوْصٌ”
یعنی "اللہ اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر ایسے لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔”
اور یہی آیت اُن کے فلسفۂ قیادت اور عسکری وژن کا استعارہ بنی۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا سفر سپاہیانہ جُہد سے آغاز ہوا، مگر ان کی اصل پہچان صرف وردی نہیں، وہ ایمان، اخلاق اور نظم کے سنگم پر کھڑے ایک درویش سالار ہیں۔ اُن کی آنکھوں میں یقین کی روشنی اور دل میں وطن کی محبت کا دریا بہتا ہے۔ ان کا ہر فیصلہ، ہر حکمتِ عملی، ایک اخلاقی بنیاد پر استوار ہے — کیونکہ ان کے نزدیک قیادت عبادت ہے، طاقت ایک امانت ہے، اور وطن ایک مقدس عہد۔
ان کی زبان پر جب وطن کا نام آتا ہے، تو لہجے میں وہی حرارت جھلکتی ہے جو ماضی کے مجاہدینِ ایمان کے قلوب میں ہوا کرتی تھی۔ وہ جانتے ہیں کہ وطن کی حفاظت صرف توپ و تفنگ سے نہیں، بلکہ یقین، نظم، اور کردار کی قوت سے ممکن ہے۔

آپریشن "بنیانُ المرصوص” ۔ ایمان کی دیوار
یہ آپریشن محض ایک عسکری مہم نہیں تھی، بلکہ قوم کے دفاع کی ایک روحانی تشکیل تھی۔ "آپریشن بنیانُ المرصوص” فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حکمت، بصیرت، اور عزم کا وہ عملی مظہر ہے جس نے پاکستان کے امن کو دوبارہ مضبوطی کی بنیاد پر استوار کیا۔ اس آپریشن کے دوران وطن کے دشمن صرف بارود سے نہیں، بلکہ فریب، نفرت، اور انتشار سے بھی لڑ رہے تھے۔ مگر عاصم منیر کے وژن نے قوم کو ایک صف میں کھڑا کر دیا جیسے ایمان کے مجاہد ایک صف میں کھڑے ہو کر حق کی جنگ لڑتے ہیں۔ انہوں نے سیکیورٹی کے تصور کو صرف "دفاعِ سرحد” سے نکال کر "دفاعِ نظریہ” تک وسعت دی۔
یہ آپریشن ایک اعلان تھا کہ پاکستان کا امن اب کسی کے رحم و کرم پر نہیں بلکہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے ہاتھوں محفوظ ہے، جس کے اینٹ ایمان ہیں، جس کا مسال قربانی ہے، اور جس کی بنیاد عدل و یقین پر رکھی گئی ہے۔
عاصم منیر کی قیادت میں ایک عارفانہ سکون ہے۔ وہ نہ نعرے لگاتے ہیں، نہ خود کو نمایاں کرتے ہیں۔ ان کی خاموشی میں ایک گونج ہے — وہ گونج جو صداقت کی گہرائیوں سے ابھرتی ہے۔ ان کے فیصلے ایک فکری ضبط سے پیدا ہوتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اصل طاقت بندوق میں نہیں، بلکہ بندگی میں ہے؛ اصل عظمت فتح میں نہیں، بلکہ استقامت میں ہے۔ ان کی شخصیت میں ہمیں "سلطانِ علم و ایمان” کی جھلک نظر آتی ہے — ایک ایسا رہنما جو تلوار کو صرف اس وقت اٹھاتا ہے جب نیت پاک ہو اور

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے