سائبان تحریک و حسین مجروح -ادب کی دنیا کا سر سید احمد خاں
تحریر۔ ریاض احمد احسان
سائبان تحریک فقط ایک تنظیم نہیں بلکہ ادب کے پیکر میں روحِ تازہ کی مانند ایک تہذیبی بیداری کا نام ہے اس کے زیرِ سایہ لفظوں نے وقار پایا،خیال نے سمت پائی،مقدار نے معیار پایا اور ادیب نے اپنے وجود کی معنویت کو از سرنو دریافت کیا۔یہ تحریک اس خاموش مگر عمیق انقلاب کا نام ہے جو قلم کے وقار، فکر کی طہارت اور احساس کی لطافت کو ایک ہی صف میں جمع کر دیتا ہے۔آج کے شور،شر اور شورش زدہ زمانے میں جہاں مادّی نفع نے فن کے جوہر کو دھندلا دیا تھا وہاں سائبان تحریک نے ادب کو اس کا کھویا ہوا تقدس واپس لوٹایا ہے
اور اس روحانی و فکری قافلے کے سالار جناب حسین مجروح بجا طور پر ہمارے عہد کے ادبی سرسید احمد خاں قرار پاتے ہیں وہ مردِ دانا جنہوں نے ادب کو خواب سے حقیقت میں بدلا اور اہلِ قلم کو احساسِ ذمہ داری کا شعور دیا۔ان کی بصیرت نے کتاب کو صرف مطالعے کی چیز نہیں بلکہ معاشرتی بیداری کا استعارہ بنا دیا۔حسین مجروح کی شخصیت میں تدبر کی گہرائی، گفتار میں شائستگی اور کردار میں وہ وقار و جہدِ مسلسل ہے جو صرف بڑے دلوں اور روشن ذہنوں کا خاصہ ہوتا ہے۔
سائبان تحریک ان کی قیادت میں ادب کے لیے ایک ایسا حَرم بن چکی ہے جہاں لفظ عبادت ہیں، قلم امامت کرتا ہے اور تخلیق عشقِ صداقت کا استعارہ ہے۔ سالارِ سائبان تحریک نے ادیب کو احساس دلایا ک وہ زمانے کا صرف راوی نہیں بلکہ اُس کے ضمیر کا امین ہے۔ یہاں ہر تحریر ایک فکری عہد کا سنگِ میل ہے اور ہر ادیب ایک اخلاقی ذمہ داری کا نشان ہے
یہ تحریک اس عہد کے لیے ایک سند ہے کہ اگر ادب زندہ رہے تو تہذیب ماند نہیں پڑتی اور اگر ادیب باوقار ہو تو قوم کبھی گمنامی میں نہیں جاتی۔ سائبان تحریک نے اہلِ قلم کو وہ اعتماد، عزت اور فکری وقار بخشا ہے جو کسی بھی تہذیب کے احیاء کی پہلی شرط ہے۔
بلا مبالغہ حسین مجروح اور ان کی سائبان تحریک نے یہ ثابت کیا ہے کہ ادب جب عشقِ حق سے روشن ہو تو وہ فقط الفاظ کا گلستان نہیں رہتا بلکہ اپنے عہد کی روح بن جاتا ہے۔
جب تہذیبوں کی رفتار کمزور پڑنے لگتی ہے، جب لفظوں کے چراغ بجھنے لگتے ہیں، اور جب کاغذ پر خواب مرجھانے لگتے ہیں تب کہیں کوئی صدا اُبھرتی ہے جو انسانیت کو یاد دلاتی ہے کہ قلم ابھی زندہ ہے، کتاب ابھی جاگ رہی ہے، اور ادب ابھی سانس لے رہا ہے۔
یہی صدا ہے، یہی روشنی ہے، یہی پناہ ہے
سائبان تحریک کے زیرِ سایہ
سائبان تحریک ایک نظریہ ہے ایک ایسا نظریہ جو ادب کو فقط تحریر نہیں بلکہ تقدیر سمجھتا ہے۔
یہ تحریک کتاب سے محبت کا عہدِ جدید ہے یہ ان ہاتھوں کی گواہی ہے جو کتاب کو خرید کر فقط الماریوں کی زینت نہیں بناتے بلکہ دلوں کی روشنی بناتے ہیں۔
اس کارواں کے امام، اس قافلے کے قندیل بردار عزت مآب حسین مجروح ہیں جنہوں نے محبت کو نظریہ اور خدمت کو عبادت بنا دیا۔
جناب حسین مجروح کا نعرہ
"کتاب خریدو، پڑھو اور آگے بڑھو”
اب صرف ایک جملہ نہیں بلکہ اس عہدِ نو کا منشور ہے۔ یہ نعرہ ان کی شناخت ہی نہیں بلکہ ادب کی نئی تحریک میں ڈھل چکا ہے۔میرے حسین مجروح
نے دکھایا کہ کتاب کی حرمت لفظوں کی حد سے نکل کر انسانی وقار تک کیسے پہنچتی ہے
ادیب کی عزتِ نفس، شاعر کی انا، فنکار کی غیرت— سب کے سب سائبان تحریک کے در پر نہ صرف محفوظ ہیں بلکہ محترم بھی ہیں
یہ تحریک ان تھکے ہوئے قلمکاروں کے لیے وہ سایہ دار شجر ہے جو عزتِ نفس مجروح کیے بغیر ان کے دروازے تک رسائی رکھتی ہے
جہاں خدمت، خلوص اور احترام ایک ہی سانس میں بہتے ہیں۔
اور پھر، سائبان میگزین
یہ کوئی عام رسالہ نہیں یہ اردو ادب کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔
یہ ان عاشقانِ سخن تک رسائی رکھتا ہے جو لفظ سے رشتہ رکھتے ہیں خواہ کسی گاؤں کے کچے صحن میں بیٹھے ہوں یا کسی بڑے شہر کے تنہا کمرے میں
یہ میگزین حسین مجروح کے عزم کا زندہ ثبوت ہے کہ ادب اقتدار کے ایوانوں سے نہیں دلوں کی دھڑکنوں سے جڑتا ہے۔
حسین مجروح صاحب نے ہمیں یہ شعور دیا ہے کہ ادیب کی فلاح صرف امداد سے نہیں بلکہ احترام کے انداز سے بھی ہوتی ہے
انہوں نے بتایا کہ کتاب بیزاری نہیں بلکہ کتاب دوستی کا نام سائبان ہے۔
یہ تحریک علم کا صدقہ جاریہ ہے، سخاوتِ قلم کا تسلسل ہے اور ادب کے ہر زخمی خواب پر مرہم ہےمیں آج
تمام دنیا کے اہلِ ادب کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ
اگر آپ ادب سے محبت کرتے ہیں تو سائبان تحریک کی روشنی میں اپنی محفلیں سجائیں
اگر آپ شاعر ہیں تو اپنے اشعار سے اس تحریک کا حصہ بنیں
اور اگر آپ قاری ہیں تو کتاب اور صاحبِ کتاب کو وہ درجہ دیں جو اِن کا حق ہے کیونکہ لفظ روح کی طرح مقدس ہیں اور روح کی طرح حرف،لفظ اور کتاب کو بھی فنا نہیں جب حرف،لفظ اور کتاب کو فنا نہیں تو پھر میرا ایمان ہے کہ کتاب کی اس تحریک کو بھی فنا نہیں
میں عظیم المرتبت، اہلِ عزیمت حسین مجروح صاحب کے حضور اپنی محبت، عقیدت، اور خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں
جنہوں نے ادب کو سہارا نہیں، سایہ دیا۔
اللہ رب العزت انہیں سلامت رکھے
اور سائبان تحریک کو اُس روشن عہد تک پہنچائے جہاں ہر قلمکار باعزت، ہر قاری باشعور
اور ہر کتاب مقدس ہو۔
سائبان تحریک نے اپنے کردار سے یہ پیغام دیا ہے کہ اگر علم و فن اور ادب کو زندہ رکھنا ہے تو ادیب کو زندہ رکھنے میں معاون و مددگار اقدامات اٹھانے ہوں گے
علم و فن کے دیوانے فقط اہلِ فن کی برسیاں اور تعزیتی ریفرنس ہی نہیں بلکہ اُن کی زندگیوں میں اعترافِ خدمات کے دن مناتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین بھی پیش کرتے ہیں





