#کالم

وقت کے قدموں کے نشان

ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

بعض اوقات ایک معمولی سی چیز بھی دل کو ایسے چھو جاتی ہے کہ یادوں کا در کھل جاتا ہے۔ کل سوشل میڈیا پر باٹا کے وہ پرانے سلیپرز دیکھے جو ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ہر گھر کے بزرگوں کی پہچان ہوا کرتے تھے۔ میرے والد صاحب بھی ان ہی سادہ مگر پیارے جوتوں کے دلدادہ تھے۔ پٹی ٹوٹ بھی جاتی تو نیا لینے کے بجائے بار بار موچی کے پاس مرمت کراتے۔ ہم بچے ضد کر کے نیا لاتے تو پہلے ڈانٹ پڑتی، پھر آہستہ آہستہ وہ بھی قبول کر لیتے۔ وہ جوتے صرف چپل نہیں تھے، بلکہ وقت کے قدموں کے نشان تھے۔

یہ منظر ذہن میں آیا تو اور بہت کچھ یاد آ گیا۔ وہ زمانہ جب صبح اخبار آتا تو والدین خبروں کے حصے میں کھو جاتے اور بچے اپنے "بچوں کا صفحہ” شوق سے پڑھتے۔ گھروں میں ریڈرز ڈائجسٹ، اردو ڈائجسٹ اور تعلیم و تربیت جیسے رسالے باقاعدگی سے آتے۔ بڑی بہنوں کے لیے "حور” اور "زیب النسا” جیسے رسالے۔ گویا ہر نسل کے لیے علم، ذوق اور تربیت کا سامان موجود تھا۔

صبح اماں ناشتے کی تیاری کرتیں اور ہم نو بہن بھائی دائرہ بنا کر ناشتہ کرتے۔ پھر سب اسکول روانہ ہو جاتے بھائی اپنی سائیکلوں پر اور بہنیں ٹانگے میں۔ یہ منظر کسی تہوار سے کم نہ لگتا تھا۔ شام ڈھلے صحن میں چارپائیاں بچھ جاتیں، ایک قطار میں سب کے سامنے پیڈسٹل فین چلتا، رات کو مچھر دانیوں کا اہتمام ہوتا۔ سردیوں میں لحاف اور مونگ پھلی، چلغوزے اور ریوڑیاں گویا زندگی کی سب سے بڑی خوشیاں تھیں۔

گھروں میں فریج نہیں تھا تو برف کو جلدی پگھلنے سے بچانے کے لیے گائے کے چارے میں دبا دیا جاتا۔ سردیوں کی شاموں میں دالوں کے حلوے بنتے، اور اگر بیسن کی کڑھی یا کوئی خاص ڈش تیار ہوتی تو پڑوس میں بھیجنا لازم تھا۔ رشتہ دار اچانک آ دھمکتے تو گویا عید ہو جاتی۔ سب لپٹ جاتے، خوشی بانٹی جاتی اور مل کر اصرار کیا جاتا کہ کچھ دن اور رکیں۔ شادی بیاہ پر رشتہ دار کئی کئی دن قیام کرتے اور گھروں کی رونق دوبالا ہو جاتی۔ یہ سب بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں تھیں مگر دراصل زندگی کی اصل خوشیاں یہی تھیں۔

لیکن آج منظر یکسر بدل گیا ہے۔ جوائنٹ فیملی سسٹم جو کبھی والدین کی زندگی تک قائم رہتا تھا، اب قصۂ ماضی ہے۔ ہر کوئی پرائیویسی چاہتا ہے۔ بھائی بہن جو کبھی روز ساتھ بیٹھتے تھے، اب مہینوں تک نہ ملنے پر بھی کوئی خلش نہیں ہوتی۔ کزنز جو کبھی خاندان کا جزو سمجھے جاتے تھے، اب محض رسمی رشتے رہ گئے ہیں۔ شادی بیاہ میں رشتہ داروں کا کئی کئی دن قیام ختم ہو گیا، اب سیدھا پیغام دیا جاتا ہے کہ براہِ راست شادی ہال پہنچیں۔ چند گھنٹوں کا رسمی میل جول اور پھر سب اپنی راہ۔

مہمان آ جائیں تو پہلے جیسی خوشی نہیں رہتی، اکثر سوچا جاتا ہے کہ آیا ان کے آنے سے کوئی فائدہ ہے یا نہیں۔ اگر کاروبار یا اسٹیٹس بڑھانے کا سبب ہوں تو خیر مقدم، ورنہ سردمہری۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب سگے بہن بھائی بھی مدتوں ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔

سوشل میڈیا نے بھی تعلقات کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ اب لوگ ایک دوسرے کے حال سے زیادہ اپنی نمائش اور دکھاوے میں لگے ہیں۔ لائکس اور کمنٹس نے محبت اور قربت کی جگہ لے لی ہے۔ دولت اور شہرت کی دوڑ نے بھائی کو بھائی سے اور بہن کو بہن سے دور کر دیا ہے۔

ہماری نسل نے وہ سنہرا دور دیکھا جب محبت، اپنائیت اور خلوص ہی زندگی کا اصل سرمایہ تھے۔ مگر آنے والی نسلیں، جنہوں نے یہ سب دیکھا ہی نہیں، ان کے لیے خاندان اور رشتے شاید صرف ایک رسمی دائرہ بن کر رہ جائیں گے۔

یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سب قصے نہیں بلکہ "وقت کے قدموں کے نشان” ہیں۔ یہ ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ اصل خوشی مہنگی چیزوں یا سوشل میڈیا کے چرچے میں نہیں بلکہ اپنوں کے ساتھ بیٹھنے، بانٹنے اور جینے میں ہے۔ اگر ہم نے پھر سے رشتوں کی قدر نہ کی تو آنے والے وقت میں یہ نشان صرف تاریخ کی کتابوں میں رہ جائیں گے، دلوں میں نہیں۔

اللہ کرے ہم اپنی آنے والی نسلوں کو وہی سادگی، محبت اور اپنائیت منتقل کر سکیں جو ہمارے بزرگوں نے ہمیں دی تھی۔ کیونکہ اصل سرمایہ دولت نہیں، بلکہ رشتوں کا سکون اور اپنوں کی مسکراہٹ ہے۔

وقت کے قدموں کے نشان

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے