ایثار وخلوص کے عظیم پیکرقائد ملت لیاقت علی خان شہید
تحریر ۔پیر مشتاق رضوی

شہید۔ملت خان لیاقت علی خان یکم اکتوبر 1895ء کو کرنال (موجودہ بھارت) کے امیر نواب خاندان میں پیدا ہوئے۔انہوں نے گھر پر ابتدائی تعلیم حاصل کی، پھر ایم اے او کالج علی گڑھ سے تعلیم لی اور بعد میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔قائد ملت لیاقت علی خان نے کم عمر ہی میں سیاست میں قدم رکھا اور 1923 میں مسلم لیگ سے وابستہ ہو گئے مسلم لیگ میں شمولیت کے ساتھ انکی سیاسی زندگی کا آغاز ہوا۔ یو پی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1926ء سے 1940ء تک انڈیا کی پارلیمنٹ میں مسلم حقوق کے لیے لڑے۔ بانئ پاکستان محمد علی جناح کے شانہ بشانہ تحریک پاکستان کی قیادت کی۔قائد ملت لیاقت علی خان نے قائد اعظم کے دست راست کے طور پر نمایاں خدمات انجام دیں: مسلم لیگ کی تنظیم مضبوط کی اور قیام پاکستان کے لیے سیاسی اتحاد بنایا۔ مسلمانوں کے حقوق کے لیے مذاکرات میں قائد اعظم کا ساتھ دیا۔تحریک پاکستان کی مالی اورسیاسی سمت سنبھالی مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کو بڑھانے میں مدد کی۔
قائد ملت لیاقت علی خان نے تحریک پاکستان میں زبردست کردار ادا کیا مسلم لیگ کو منظم کیا اور مسلمانوں میں اتحاد پیدا کیا۔سیاسی مذاکرات میں قائد اعظم کا ساتھ دیا اور قراردادِ پاکستان پاس کروائی۔
اپنے خطبات اور تقریروں سے عوام کو تحریک میں جوش دلایا۔ مالی اور سیاسی وسائل فراہم کر کے تحریک کو مضبوط کیا۔ قائد ملت لیاقت علی خان نے 1946ھ میں متحدہ ہندوستان کی عبوری حکومت میں وزیر خزانہ کے طور پر پہلا بجٹ پیش کیا جو "غریب عوام کا بجٹ” کہلاتا ہے۔ اس بجٹ میں بڑے تاجروں پر سخت ٹیکس لگائے گئے، غریبوں کی فلاح کے لیے سہولیات بڑھائی گئیں، اور آمدنی کی تقسیم میں انصاف کی کوشش کی گئی۔ یہ بجٹ کانگریس کو ناپسند آیا کیونکہ اس نے ہندو سرمایہ داروں کے مفادات کو نقصان پہنچایا۔ 1947ء میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بنے اور نئے ملک کی بنیاد رکھی۔ ۔ داخلی استحکام اور دفاعی نظام کو مضبوط کیا قائد ملت لیاقت علی خان نے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کے طور پر نمایأں اور تاریخی کارنامے انجام دیے پاکستان کے استحکام کے لیے کام کیا، تقسیم ہند کے بحران میں ملک کو سنبھالا۔ اس موقع پر سرد جنگ میں مغربی بلاک کا ساتھ دیا اور دفاع کے نظام کو مضبوط کیا۔ وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور وزیر خزانہ کے اہم عہدے بھی خود سنبھالے۔ پاکستان کے دفاع، معیشت اور صنعت کو مستحکم بنانے کی کوشش کی۔قراردادِ مقاصد 1949ء میں پیش کی،قراردادِ پاکستان کے دستور اور اسلامی جمہوریت کی بنیاد بنی جو 7 مارچ 1949 کو لیاقت علی خان نے اسمبلی میں پیش کی۔ اس میں چھ اہم اصول شامل ہیں: جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری، سماجی انصاف، اور اسلامی تعلیمات کے مطابق قانون سازی۔ قرارداد میں اقلیتوں کے حقوق، صوبوں کی خودمختاری، عدلیہ کی آزادی اور وفاق کی حفاظت کی ضمانت دی گئی، تاکہ پاکستان ایک منصفانہ، اسلامی جمہوریہ بنے۔ شہید ملت لیاقت علی خان نے پاکستان کے لیے کئی قربانیاں دیں اپنی سیاسی اور ذاتی زندگی کو خطرے میں ڈال کر تحریک پاکستان کی قیادت کی۔ انہوں نے خاندان سے دور رہ کر ملک کی خدمت کی، حتیٰ کہ اپنی صحت کا خیال کم رکھا۔ پاکستان کے قیام کے بعد امن و استحکام کے لیے سخت فیصلے کیے، جو دشمنوں کے لیے سازگار نہیں تھے۔شہید ملت
لیاقت علی خان کا مکا تاریخ میں بہت مشہور ہوا کیونکہ انہوں نے 1951ء میں بھارتی جارحیت کے خلاف مکا لہرا کر بھر پور طاقت اور جرأت ایمانی کے ساتھ بھارت کا منہ توڑ جواب دیا اس دوران قوم کو متحد کرنے کے لیے اپنے ہاتھ کا مکا فضا میں بلند کیا۔ یہ مکا یگانگت اور قومی اتحاد کی علامت بن گیا، جس نے دشمن کے حوصلے پست کر دیے اور قوم کو جیت کے جذبے سے بھرسوس کیا۔ اس کا نشان آج بھی پاکستان میں اتحاد کا مظہر سمجھا جاتا ہے۔
16 اکتوبر 1956 ء میں راولپنڈء کے لیاقت باغ میں ایک جلسے کے دوران انہیں شہید کریا گیا ،انہون اپنی جان بھی وطن پر قربان کر دی۔ شہید ملت لیاقت علی خان کی شہادت پر پوری قوم شدید سوگوار ہوئی۔ ملک بھر میں غم کا سماں تھا، جلسہ عام میں ہزاروں لوگ آنسو بہاتے دکھے، اور سرکاری سطح پر بھی سوگ منایا گیا۔ ان کی قربانی کو "شہید ملت” کا درجہ دیا گیا اور ان کی موت نے ملک میں گہرا صدمہ اور اتحاد کی ضرورت کو اجاگر کیا
شہید ملت لیاقت علی خان کے قتل کی تحقیقات کے دوران قتل کے محرکات کے تناظر میں سازش کے الزامات پر بھی روشنی ڈالی گئی، جن میں وزیر خزانہ غلام محمد، وزیر کشمیر مشتاق گورمانی، اور سیکریٹری دفاع سکندر مرزا کی سازش شامل ہے اور بھی نظریے ہیں کہ بھارت، افغانستان، یا حتیٰ کہ امریکہ نے اپنے مفادات کی خاطر اسے قتل کروایا کیونکہ لیاقت علی خان نے کشمیر پر سخت موقف اختیار کیا اور امریکہ کی بعض مانگوں سے انکار کیا۔ افغان پشتون تحریک کی پشت پناہی، قتل کے فوراً بعد قاتل کی افغان تعلقات، اور امریکی-سوویت تعلقات کا تناظر بھی زیر بحث رہے۔ قتل کے اسباب میں ذاتی فعل کے ساتھ سیاسی اور بین الاقوامی سازشوں کے الزام بھی شامل ہیں، مگر بدقسمتی سے کوئی حتمی ثبوت اور حقائق آج تک سامنے نہیں آسکی شہید ملت
لیاقت علی خان کی ہندوستان میں کافی گراں قدر جائیداد اور زمینیں تھیں، خاص طور پر کرنال اور مظفرنگر میں ان کے بڑے جاگیر دار خاندان کا عرصہ دراز کا وراثتی نظام تھا۔ مگر پاکستان بننے کے بعد انہوں نے اپنی ہندوستان میں موجود جائیداد کا کلیم یا معاوضہ لینے سے انکار کیا، کیونکہ وہ ملک اور قوم کی خدمت کو اپنی پہلی ترجیح سمجھتے تھے۔
ہندوستان میں جاگیر دار خاندان کے طور پر بڑی زمینیں اور جائیداد ان کے پاس تھیں۔
شہید ملت لیاقت علی خان نے پاکستان آنے کے بعد اپنی ہندوستان میں موجود بڑی جائیداد کا کلیم نہیں کیا کیونکہ وہ اسے اپنی سیاست اور پاکستان کی خدمت سے الگ نہیں سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ "میں طارق بن




