برطانیہ کی ڈیجیٹل بقا کا امتحان
تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
دنیا ایک نئی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے، مگر یہ جنگ گولیوں سے نہیں لڑی جا رہی۔ یہ ایک ایسی خاموش جنگ ہے جس کے سپاہی نامعلوم ہیں، ہتھیار نظر نہیں آتے، اور میدان جنگ ہمارے لیپ ٹاپ، موبائل فون، اور سرورز ہیں۔ برطانیہ اس وقت اسی ڈیجیٹل جنگ کے بیچوں بیچ کھڑا ہے جہاں دشمن ہر لمحہ نظاموں میں داخل ہونے کے نئے راستے تلاش کر رہا ہے۔
نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر (NCSC) کی تازہ رپورٹ نے حکومتی اور صنعتی حلقوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، صرف ایک سال میں ملک میں انتہائی سنگین سائبر حملوں میں پچاس فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ وہ حملے ہیں جو معیشت، صحت، توانائی، اور دفاعی ڈھانچے کو براہ راست متاثر کر سکتے ہیں۔
حیران کن طور پر، ان میں سے بیشتر حملے منظم ریاستی گروہوں اور بین الاقوامی ہیکنگ نیٹ ورکس سے منسلک پائے گئے۔ ان گروہوں کا مقصد صرف ڈیٹا چرانا نہیں، بلکہ خوف، عدم اعتماد اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب دشمن کے پاس بموں کی جگہ وائرس ہیں، اور محاذوں کی جگہ ڈیٹا سینٹرز۔ ایک غلط کلک، ایک کمزور پاس ورڈ، یا ایک غیر محفوظ سرور کسی پورے ادارے کو زمین بوس کر سکتا ہے۔
برطانوی معیشت میں ڈیجیٹل نظام کی جڑیں گہری ہیں۔ بینکنگ، ٹرانسپورٹ، صحت، توانائی اور دفاع — سب کچھ آن لائن جڑا ہوا ہے۔ یہی جڑت آج کمزوری بن چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے دوران برطانیہ میں 429 سائبر حملے ہوئے، جن میں سے 204 "انتہائی سنگین” نوعیت کے تھے۔ ان حملوں نے نہ صرف لاکھوں صارفین کا ڈیٹا متاثر کیا بلکہ کئی اداروں کی ساکھ بھی دائو پر لگا دی۔
ان حملوں کے پسِ پردہ گروہ جدید ترین ہیکنگ ٹولز استعمال کر رہے ہیں۔ “رینسم ویئر از اے سروس” جیسے پلیٹ فارم اب آن لائن دستیاب ہیں، جہاں حملہ آور باقاعدہ کرائے پر سافٹ ویئر لے کر اداروں کو یرغمال بناتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق، صرف پچھلے سال برطانوی معیشت کو 27 ارب پاؤنڈ سے زائد کا نقصان ہوا، جو کئی چھوٹے ممالک کے بجٹ کے برابر ہے۔
یہ محض مالی نقصان نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اگر بجلی کے نظام یا ہیلتھ سروس پر بڑا حملہ ہو جائے تو ملک کا نظام مفلوج ہو سکتا ہے۔
اسی لیے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر کی ڈائریکٹر لنڈی کیمرون نے واضح پیغام دیا: “سائبر سکیورٹی اب محض آئی ٹی کا مسئلہ نہیں، یہ قومی دفاع کا مسئلہ ہے۔”
کاروباری رہنماؤں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر وہ اپنے ڈیجیٹل نظاموں کو محفوظ نہیں بنائیں گے تو ان کی کمپنیوں کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
ایک چھوٹی کمپنی کے مالک مارک ہیوز نے بتایا کہ ان کی کمپنی کو ایک معمولی ای میل سے ایسا حملہ ہوا جس نے پورا ڈیٹا سسٹم جام کر دیا۔ “ہم نے دو ہفتے بعد سمجھا کہ جنگ اب ہتھیاروں سے نہیں بلکہ معلومات سے لڑی جا رہی ہے۔”
یہی وہ حقیقت ہے جس سے اب دنیا غافل نہیں رہ سکتی۔ ڈیجیٹل طاقت ہی اصل طاقت ہے۔ اور اسی حقیقت کی طرف قرآن مجید میں اشارہ ہے،
“اور تم اپنے مقابلہ کے لیے جس قدر طاقت جمع کر سکتے ہو تیار رکھو۔”
(سورہ الانفال، آیت 60)
آج کی طاقت بندوق نہیں، بلکہ ڈیٹا کی حفاظت، ٹیکنالوجی پر عبور، اور سائبر دفاع کی مہارت ہے۔
اسی طرح رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا،
“عاقل وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور مرنے کے بعد کے لیے تیاری کرے۔” (ترمذی)
یہ حدیث نہ صرف روحانی زندگی کے لیے بلکہ دنیاوی بقاء کے لیے بھی رہنمائی دیتی ہے۔ وہ قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو آنے والے خطرات کو پہچانتی اور ان کے خلاف تیاری کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، برطانیہ کے 45 فیصد چھوٹے کاروباروں نے گزشتہ سال کم از کم ایک سائبر حملہ برداشت کیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کے پاس کوئی بیک اپ یا حفاظتی نظام موجود نہیں تھا۔
برطانوی حکومت اب ایک نیا سائبر پروٹیکشن ایکٹ لانے جا رہی ہے، جس کے تحت ہر کمپنی کو سائبر حملے کی اطلاع 72 گھنٹوں کے اندر دینا لازمی ہوگی۔ خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور قانونی کارروائیاں ہوں گی۔
ساتھ ہی “سائبر ریزیلینس فریم ورک” کے تحت اسکولوں، یونیورسٹیوں اور دفاتر میں سائبر آگاہی کی تربیت بھی لازمی کی جا رہی ہے تاکہ عوام اپنی ڈیجیٹل زندگی کو محفوظ بنا سکیں۔
یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب برطانیہ اس جنگ کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ کافی ہیں؟ کیونکہ دشمن دکھائی نہیں دیتا، مگر نقصان تباہ کن ہوتا ہے۔
برطانیہ کے صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں گولیوں کی آواز نہیں ہوگی، صرف سرورز کی خاموشی سنائی دے گی۔
ایک مشہور ماہرِ سکیورٹی نے کہا: “ڈیجیٹل دنیا میں ایک چھوٹا وائرس پورے ملک کو روک سکتا ہے، جیسے ایک چنگاری جنگل جلا دیتی ہے۔”
یہ خاموش جنگ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ ہم جب بھی آن لائن بینکنگ کرتے ہیں، جب بھی کوئی ای میل کھولتے ہیں، جب بھی کوئی ایپ انسٹال کرتے ہیں، ہم اس میدان میں قدم رکھتے ہیں۔
ڈیجیٹل دور کا اصول سادہ ہے، جو محفوظ ہے وہ زندہ ہے، جو غافل ہے وہ مٹ جائے گا۔
اگر برطانیہ نے اس وقت درست اقدامات کیے، تو یہ بحران موقع میں بدل سکتا ہے۔ برطانیہ دنیا میں سائبر سکیورٹی کے میدان کا رہنما بن سکتا ہے۔
لیکن اگر لاپرواہی جاری رہی تو یہ خاموش دشمن قوم کے اعتماد، معیشت اور اداروں کو اندر سے کھوکھلا کر دے گا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم بیدار ہو، ادارے سنجیدہ ہوں، اور قیادت اس جنگ کو حقیقی خطرہ سمجھے، کیونکہ اب جنگ زمین پر نہیں، بلکہ ڈیٹا کی دنیا میں لڑی جا رہی ہے۔





