#اداریہ

غزہ امن کانفرنس اورعالمی توقعات

أج کا اداریہ

مصر کے شہر شرم الشیخ میں منعقدہ غزہ امن سربراہی کانفرنس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ امن معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اور مصر، قطر اور ترکیہ کے سربراہان نے دستخط کر دیے۔
کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم شہباز شریف نے کی جبکہ دیگر شرکا میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر، انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو، یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز شامل تھے۔
اس کے علاوہ اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز، کویت کے وزیرِاعظم احمد العبداللہ الصباح، اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی، کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی اور عراق کے وزیرِاعظم محمد شیاع السودانی بھی غزہ امن کانفرنس میں شریک تھے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ امن بندی معاہدے پر دستخط کی تقریب کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ’اپنے پسندیدہ‘ فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت کئی عالمی رہنماؤں کا غزہ میں امن قائم کرنے کی کوششوں پر خاص طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں
کہا کہ آج غزہ کے عوام کے لیے تاریخی دن ہے، غزہ امن معاہدے میں مصر کا اہم کردار ہے، غزہ میں معاہدے کی وجہ سے امن اور ترقی ہوگی، مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن اور استحکام چاہتے ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ دوست ملکوں کے تعاون سے غزہ امن معاہدہ ممکن ہوا، غزہ امن معاہدے کیلئے سب کا شکر گزار ہوں۔
امریکی صدر نے کہا کہ اس موقع پر سب خوش ہیں، ہم اس سے پہلے بھی ’ بڑے معاہدے’ کر چکے ہیں لیکن ’ اس معاملے نے تو بالکل راکٹ کی طرح اڑان بھری ہے۔ ’
انہوں نے کہا کہ پہلے یہ پیش گوئیاں کی جا رہی تھیں کہ تیسری عالمی جنگ مشرقِ وسطیٰ سے شروع ہوگی، مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔
معاہدے پر دستخط کے بعد عالمی رہنماؤں کے ہمراہ اپنے خطاب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ وہ دن ہے جس کے لیے اس خطے اور دنیا بھر کے لوگ کوششیں اور دعائیں کررہے تھے
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج غزہ کے عوام کیلئے تاریخی دن ہے کیونکہ انتھک کوششوں کے بعد امن حاصل کرلیا گیا ہے، یہ کوششیں صدر ٹرمپ کی قیادت میں کی گئیں جو حقیقتاً امن کے علمبردار ہیں
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا تھا، اور آج میں ایک بار پھر صدرٹرمپ کونوبیل انعام دینے کے لیے درخواست کرتا ہوں کیونکہ وہ اس انعام کے حقیقی حقدار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے نہ صرف جنوبی ایشیا میں امن قائم کیا بلکہ لاکھوں کی زندگیاں بچائیں، اور آج شرم الشیخ میں غزہ میں قیام امن کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں لاکھوں زندگیاں بچائی ہیں۔
غزہ امن کانفرنس کا مقصد غزہ کی پٹی میں جنگ کا خاتمہ کرنا، مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے حصول کی کوششوں کو مضبوط بنانا اور علاقائی سلامتی و استحکام کے ایک نئے دور کا آغاز کرنا ہے، جس کے لیے امریکی صدر کے پیش کردہ غزہ امن معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی گروپ ’حماس‘ نے پیر کو جنگ بندی کے معاہدے کے بعد غزہ میں موجود تمام 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو 2 مرحلوں میں بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے حوالے کر دیا، اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے اور قیدیوں کی 38 بسیں اسرائیل سے غزہ پہنچ گئیں۔
اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حماس نے پیر کو غزہ میں موجود ریڈ کراس کے نمائندوں کے حوالے تمام 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو کر دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یرغمالیوں کو دو مراحل میں رہا کیا گیا، دوسرے مرحلے میں 13 یرغمالیوں کو جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں منتقل کیا گیا۔
ایک ر رپورٹ کے مطابق کارروائی میں شامل ایک اہلکار کے مطابق اس معاہدے کے تحت اسرائیل اپنی جیلوں سے سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہائی دینے والا ہے۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والا یہ جنگ بندی معاہدہ، جو دو سالہ جنگ کے خاتمے کی جانب سب سے بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے، ایک پائیدار امن کی راہ ہموار کرنے کی کوشش ہے۔
اسرائیل میں لوگ اسرائیلی جھنڈے لہراتے ہوئے غزہ کے قریب واقع فوجی کیمپ رئیم کے نزدیک جمع ہوئے، جہاں یرغمالیوں کو لایا گیا اور بعد ازاں انہیں ہسپتالوں منتقل کردیاگیا
جبکہ اسرائیلی قید سے رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کی 38 بسیں غزہ پہنچ گئیں، الجزیرہ کے مطابق معاہدے کے تحت 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنا ہے۔
دو سال سے جاری جنگ، جو بتدریج ایک علاقائی تنازع میں تبدیل ہو گئی تھی اور جس میں ایران، یمن اور لبنان جیسے ممالک بھی ملوث ہوئے، کے بعد یہ جنگ بندی اور یرغمالیوں و قیدیوں کا تبادلہ عمل میں آ رہا ہے، اس جنگ نے نہ صرف اسرائیل کی بین الاقوامی سطح پر تنہائی کو بڑھایا بلکہ مشرق وسطیٰ کے سیاسی نقشے کو بھی بدل کر رکھ دیا۔لاکھوں فلسطینی شہیدوزخمی اور بے گھر ہوئے ۔غزہ کھنڈرات میں تبدیل ھوچکا ۔ ایسے میں غزہ امن کانفرنس امید کی وہ کرن ہے جس سے خطے میں امن لوٹ سکتا ہے۔ عالمی برادری دوریاستی فارمولے پر متفق ھے ۔امن معاھدہ اس جانب پہلا قدم ھے جس کے مثبت نتائج برأمد ھونگے

غزہ امن کانفرنس اورعالمی توقعات

جمع کرتے ہو کیوں حریفوں کو

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے