جمع کرتے ہو کیوں حریفوں کو
افکارِ تازہ: خصوصی اظہاریہ
“المسلم من سلم المسلمون من اللسانہ و یدہ “
ترجمہ :مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان سلامت رہیں
اس حدیثِ مبارکہ میں دوٹوک انداز میں رسولِ امن و سلامتی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اصل مسلمان کی ایک تعریف یہ متعین فرمائی کہ اس کی زبان اور ہاتھ اپنے مسلمان بھائی کے لیے سلامتی کا وسیلہ ہوتے ہیں ۔ حیرت اور تشویش کی بات ہے کہ ان دنوں ایک مذہبی تنظیم اپنے احتجاج کا اظہار ہم وطن پاکستانی مسلمانوں کے جان و مال کو ہدف بناتے ہوئے کر رہی ہے اور ایسا کرتے ہوئے وہ تمام حدود عبور کرنے کے درپے ہے ۔ اس احتجاج کا مقصد بھی خاصا غیر منطقی ہے یعنی پاکستان نے “ غزہ امن منصوبے “ کی حمایت کیوں کی ۔ اُدھر فلسطین سمیت عرب ممالک اس منصوبے پر جشن منا رہے ہیں اور اِدھر صرف ایک مذہبی جماعت اپنے “ خصوصی اجتہاد “ سے حکومتِ پاکستان کی حمایت پر شدید غم و غصے کا اظہار کر رہی ہے
ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے
یہ بھی واضح رہے کہ اس متشدد گروہ کو مرکزی دھارے کی دیگر مذہبی جماعتوں یا تنظیموں کی حمایت حاصل نہیں ہے ۔ اس سمیت کچھ اور پہلو نہایت سنگین، اہم اور قابلِ غور ہیں کیونکہ جب وطنِ عزیز یا عالمِ اسلام کو کوئی زبردست مسئلہ درپیش ہو تو تمام مذہبی جماعتیں ( سوائے تبلیغی جماعت کے کیونکہ یہ ایک غیرسیاسی تنظیم ہے) یک جا ہو جاتی ہیں ، جیسے قادیانیت کے خلاف 1950 سے 1973 تک تمام دینی اداروں اور جماعتوں کا بلالحاظِ مسلک غیر مشروط اتحاد تھا یا جب بھٹو کے خلاف 1977 میں پی این اے اور نواز شریف کی حمایت میں آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے 1990 میں مذہبی سیاسی جماعتوں نے بے نظیر کے خلاف انتخابات میں حصہ لیا ۔ اسی طرح اکیسویں صدی کے آغاذ میں ایم ایم اے نامی ایسا آخری اتحاد ہماری تاریخ میں دیکھنے کو ملا جب پرویز مشرف کی حکومت اپنی سیاسی اساس بنانے میں مصروف تھی ۔ دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ حالیہ احتجاجی لہر کی ذمے دار جماعت بریلوی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتی ہے جو دیگر مکاتبِ فقہ کی نسبت پر امن رہنے کی شہرت رکھتی ہے۔ اس بات کا ذکر کرنا اس لیے اہم ہے کہ افغانستان کی طرف سے تحریکِ طالبان پاکستان میں میری معلومات کے مطابق کسی حد تک اہلِ حدیث اور بیشتر دیوبندی مسلک علما و کارکنان پر مشتمل ہے ، جیسا کہ نائن الیون کے بعد مفتی نظام الدین شامزئی یا ملّا عمر یا مولوی فضل اللہ صاحبان جو وقتاً فوقتاً باقاعدہ دارالافتا سے یا انفرادی حیثیت میں فتووں کا اجرا فرماتے رہے ہیں ۔ فی الوقت ایسے براہِ راست شواہد تو دستیاب نہیں جن سے ٹی ایل پی اور ٹی ٹی پی کے مابین کسی مفاہمت یا مشاورت ثابت ہوتی ہو لیکن بیک وقت ان دونوں جماعتوں کے عسکری عزائم میں حد سے گزر جانے کے عمل سے روگردانی ناممکن ہی نہیں بلکہ تجاہلِ مجرمانہ کے مترادف ہوگی ، خاص طور پر ایسے نازک تاریخی موقع پر جب کہ ہمارا وطن عرصۂ دراز کے بعد عالمی سیاسی افق پر نمایاں تر ہونے لگا ہے اور داخلی معاملات میں بھی حکومتِ وقت پوری طرح کوشاں ہے کہ معاشی اشاریے کسی طرح بہتری کی طرف گامزن ہوں ، تو یہ دیکھتے ہوئے بھی ملک دشمن سرگرمیوں اور عناصر کا ساتھ دینے کے درپے ہونے والوں کی نیت اور عزائم پر سوال تو اٹھیں گے ۔ متذکرہ مذہبی جماعت کی تنظیم سازی اس وقت جن دو جوانوں کے ہاتھ میں ہے ان مرشدوں کی سماجی حیثیت میں ناقابلِ یقین حد تک بہتری بھی اقبال کی مشہور نظم “ باغی مرید” کی طرف دھیان لے جاتی ہے ۔
اوپر پیش کردہ تمہیدی پس منظر سے ایک عام قاری بھی بین السطور بہت سی باتیں سمجھ سکتا ہے ۔ دین اور ناموسِ رسالت کے نام پر معصوم مسلمانوں کے جان و مال کو ناقابلِ تلافی حد تک نقصان پہنچانا ، عوام کی زندگی مشکل تر بلکہ عذاب بنانا ، ایمبولینسوں اور تعلیمی اداروں کی بسوں کو ٹریفک جام کی نذر کرنا اسلام کے کس مکتبِ فکر میں پڑھایا جاتا ہے ؟ اسلام تو تحصیلِ علم و شعور کا دین ہے جو واشگاف انداز میں کہتا ہے:
“قل ھل یستوی الّذین یعلمون و الّذین لایعلمون
معانی: ( اے نبی ) آپ ہی کہیے کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور جو علم سے محروم ہیں ، کبھی برابر ہو سکتے ہیں ؟” ( الزُمر، آیت ۹)
لہٰذا عین اس وقت جب افغان شر پسند اور ناشکرے طالبان ہمارے ایک صوبے میں اتنی شر انگیزی کرنے میں مصروف ہوں ، اچانک ایک مذہبی گروہ کے سول نافرمانی پر اتر آنے سے لامحالہ دھیان روپے کی طرف جاتا ہے لیکن یہ روپیہ ہمارے ملک کا سٹیٹ بنک نہیں بناتا بلکہ ہمارے قرب و جوار میں ہی کہیں بنتا اور پھر پاکستان سے ہوتا ہوا افغانستان جاتا ہے اور شاید وہیں سے کوئی پراسرار سپرنگ اسے ہماری جغرافیائی اور سیاسی حدود میں لا پھینکتا ہے۔ بعینہِ منطقی طرزِ فکر رکھنے والوں کو اس پر تشویش ہونا بھی قابلِ فہم ہے کہ کچھ مخصوص سیاسی حلقے ان حالات میں اسی مذہبی جماعت اور افغان دہشت گردوں کی کھلم کھلا اور زبردست حمایت کیوں کرنے لگے ہیں ۔ اچانک انھیں شر انگیز عناصر پر ترس کیوں آنے لگا ہے کہ ہمارے جوانوں کی شہادت پر توجہ دینے کی بجائے وہ افغان غنڈوں کی ہلاکت پر تعزیت اور تشویش کا اظہار کرنے میں مصروف ہیں ۔ ان کی ڈور کس کے ہاتھ میں ہے جو بڑے آرام سے انھیں سیاسی کٹھ پتلی بنا کر نچا رہا ہے اور انھیں سامری جادوگر کی طرح یوں اپنے طلسم میں لیے ہوئے ہے کہ یہ چاہیں بھی تو معروضی طرزِ فکر اختیار نہیں کر پاتے ؟ سامری کے ایک اشارے پر یہ پورے سیاسی نظام اور مسلح افواج پر قابلِ اعتراض زبان میں تنقید کے نام پر فوری زہر اگلنا شروع کر دیتے ہیں ۔ اس وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو یہ بساط اور اس کے مہروں کی تمام چالیں سمجھ میں بھی آ سکتی ہیں اور ان





