حصار چشم۔۔۔۔ایک مطالعہ
روبرو۔۔۔۔محمد نوید مرزا
احمد سبحانی آکاش میرے دیرینہ دوست ہیں۔آپ ایک عمدہ اور باصلاحیت شاعر ہیں۔سبحانی بھائی پیشے کے لحاظ سے سنار ہیں اور ان کی شاعری بھی سونے کی طرح چمکتی دمکتی نظر آتی ہے ۔آکاش کی تخلیقی ہنر مندی ان کے شعروں سے جھلکتی اور چھلکتی ہے۔وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں۔لیکن حمد ،نعت ،منقبت اور نظم میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔احمد سبحانی کا تازہ شعری مجموعہ ۔۔۔حصار چشم ۔۔۔۔حال ہی میں منظر عام پر آیا ہے۔یہ کتاب اردو شاعری میں ایک خوبصورت اضافہ ہے بقول جناب نذیر قیصر،،احمد سبحانی آکاش کا نیا شعری مجموعہ حصار چشم کی شعری کائنات ابدی نغمات سے آباد ہے،،
ان ابدی نغموں کے جلو میں اگر سبحانی کی غزل کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں ان کی شاعری میں موضوعات کی رنگا رنگی کے ساتھ سادگی،بے ساختگی اور روانی ایک ساتھ نظر آتی ہے ۔محبت ان کا محبوب موضوع ہے اور وہ محبت کو زندگی کے بہت سے معاملات سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔چند شعر دیکھیں۔۔۔
دل کا کسی کی یاد نے وہ حال کر دیا
جو حال بستیوں کا سمندر کیا کرے
ترے خیال کی خوشبو میں سانس لیتے ہوئے
امید،آنکھیں وہیں راہ پر بچھالے گی
کبھی کبھی تو وہ ایسا حسیں دکھائی دے
پھر اس کے بعد کہیں کچھ نہیں دکھائی دے
وہ عکس آنکھ کی پُتلی میں نقش ہونے تک
نگاہ جل ہی نہ جائے کہیں تمازت سے
خواہش کے ہاتھ میں نہ تمنا کے بس میں تھے
دل کے معاملات ،کہاں دسترس میں تھے
محبتوں کے علاؤہ آکاش عصری مسائل ،سماجی،سیاسی ،معاشی اور دیگر بہت سے موضوعات پر سہولت سے شعر کہنے میں قدرت رکھتے ہیں۔ان کی غزل جدید شاعری سے آراستہ ہے لیکن وہ روایت کا احترام بھی کرتے ہیں بقول ڈاکٹر سعادت سعید ،،احمد سبحانی آکاش کی غزلیات میں ان کی سوچوں کا داخلہ بہاؤ ان کی خارجی روانی کا باعث ہے۔انھوں نے جا بجا اپنے حواس کی مدد سے سنجیدہ فکری مواد کو گرفت میں لیا ہے۔یہ غزلیں ان کے بھارتی و سماعتی ذوق کی نشان دہی کرتی ہیں،،
احمد سبحانی شعر و ادب سے جڑے ہوئے شخص ہیں ۔ان کی غزل فنی طور پر خاصی مضبوط اور قابل توجہ ہے ۔اس تناظر میں کچھ شعر دیکھیں۔۔۔
شام کے سائے بھی ڈھل جائیں کہیں رستے میں
صبح کے بھولے ،تجھے رات اگر ہو جائے
بنی پھرتی ہے جو حصہ محل کی
فقط اک اینٹ تھی لگنے سے پہلے
حصار چشم سے پھوٹے گی ایک کونپل اور
کئی چراغ ،کئی خوشبوئیں اچھالے گی
کائناتی وجود میں ملفوف
زندگی ،خاک داں کا حصہ ہے
رنگ تقسیم ہوئے ایک نئی شکل کے ساتھ
زندگی پھولی، پھلی ،دھوپ ہوا پانی سے
کوئی بھی چیز نہیں دوسری شے کی تمثیل
جو ہے موجود جہاں ،وہ ہی وہیں بہتر ہے
دیکھتا ہوں بڑے تعجب سے
زندگی، تیرا رائیگاں ہونا
آکاش کا شعری سفر جاری ہے اور مستقبل میں ان کے کئی اور شعری مجموعے بھی ہمیں پڑھنے کو ملیں گے۔میں حصار چشم کی اشاعت پر انھیں دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور حس عباسی کے شاعر کے لئے ان خوب صورت کلمات کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں وہ لکھتے ہیں،،وہ شاعری میں محض جذباتی اظہار تک محدود نہیں رہتے ،بلکہ ان کے کلام میں فکری اور فلسفیانہ گہرائی بھی نظر آتی ہے۔ان کے اشعار میں جدید دور کی پیچیدگیاں ،محبت کے نئے رنگ،انسانی رشتوں کے بدلتے زاوئیے اور تنہائی کا کرب قاری کے تجربے سے براہ راست جڑ جاتے ہیں،،




