دھشت گردوں کا انکے مراکز تک پیچھا کرنے کا فیصلہ
اج کا اداریہ
دھشت گردی کے خاتمے کیلیے دھشت گردوں کا انکے مراکز تک پیچھا کیا جائیگا۔وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے فیصلہ کیا ہے جہاں سے دہشتگردی ہوگی اس کمین گاہ کو تباہ کردیا جائے گا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ افغانستان میں جس جگہ دہشتگرد ٹریننگ اور اسلحہ حاصل کرتے تھے ان کمین گاہوں کو اب تباہ کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ اب وہاں سے کوئی کارروائی کرنے کے لیے ٹریننگ نہیں حاصل کرسکیں اور نہ پاکستان میں داخل ہوسکیں تاہم اگر کوئی کمین گاہ بچ گئی ہوگی تو اسے بھی تلاش کرکے تباہ کیا جائے گا۔
وزیر اعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت اور افواج نے فیصلہ کیا ہے جہاں سے دہشتگردی ہوگی اس کمین گاہ کو تباہ کردیا جائے گا۔
یادرھے ایک دھائی قبل 2016 میں دھشگردی کی بیخ کنی کیلیے شروع کیے گئے آپریشن ضربِ عضب کی کامیابی کے بعد دنیا بھر میں اس کی مثالیں دی گئی تھیں مگر اس آپریشن، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے پاکستان کے پاس کیا صلاحیت تھی، اس بارے سابق ائیر مارشل سہیل امان نے کہاتھاکہ یہ ایک ایسی جنگ تھی جو کہ آپ کو کوئی نہیں سکھائے گا۔ اس جنگ کو لڑنے اور کامیاب بنانے کے لیے کسی نے ہمیں معاونت فراہم نہیں کی۔ اس جنگ کے لیے ہم نے خود ہی اپنے تجربات اور دانش سے حکمت عملی مرتب کی جو کہ کامیاب رہی
میرے نزدیک آپریشن ضربِ عضب محض ایک فوجی آپریشن نہ تھا۔ فوج کو کسی دشمن کا علاقہ فتح کرنا تھا اور نہ ہی دشمن کو بھاری نقصان پہنچانا اس آپریشن کا مقصد تھا۔ بلکہ یہ آپریشن پاکستانی آبادیوں میں کیا جا رہا تھا۔ یہ مکمل جنگ ہوتے ہوئے بھی جنگ نہ تھی، مگر اہمیت میں جنگ سے بڑھ کر تھی جس میں سویلین آبادی میں چھپے ہوئے دہشتگردوں کا خاتمہ شامل تھا جو معصوم لوگوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔
آپریشن ضربِ عضب سے قبل پاکستان کی مسلح افواج دہشتگردی کے خلاف دیگر قبائلی ایجنسیوں کے علاوہ سال 2009 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن راہ نجات اور سوات کے علاقے میں آپریشن راہ راست انجام دے چکی تھیں.
ان دونوں ملٹری آپریشنز اور آپریشن ضرب عضب میں ایک قدر مشترک تھی، اور وہ یہ کہ آبادی کا متاثرہ علاقوں سے انخلاء، اور ان کا دہشت گردوں کے بجائے حکومت پاکستان اور مسلح افواج پر اپنا اعتماد ظاہر کرنا۔
آپریشن ضربِ عضب کو سرانجام دینے کے لیے ’ہول آف نیشن‘ تھیوری پر عمل کرتے ہوئے اس آپریشن کے لیے پوری قوم کو تیار کیا گیا۔ پاکستانی مسلح افواج کا سامنا کسی منظم فوج سے تو تھا نہیں اس لیے جنگ کے لیے نئی حکمت عملی وضع کی گئی جس میں دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کی تلاش، انہیں تباہ کرنا، علاقے سے جنگجوؤں کا خاتمہ، اور علاقے پر حکومتی عملداری قائم کرنا شامل تھا۔
آئیڈیاز 2016 میں آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے خصوصی بریفنگ رکھی گئی۔ ہال میں موجود زیادہ تر تعداد غیر ملکی مسلح افواج کے افسران کی تھی جو کہ پاکستان کے ضرب عضب میں تجربے کو سمجھنا اور اس کی کامیاب حکمت عملیوں کا راز معلوم کرنا چاہتے تھے۔
اس حوالے سے ایک اور دفاعی تجزیہ کار کا کہناتھا کہ ایک پاکستانی افسر کا کہنا تھا کہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کا کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں حکومت کی رٹ موجود نہ ہو۔ فوجی آپریشن کے دوران عارضی نقل مکانی کرنے والوں کی دیکھ بھال اور معاونت کرنے کے ساتھ ہر سطح پر مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون قائم کرنے، اور تباہ ہونے والے علاقوں کی تعمیر نو کے علاوہ تعلیمی اداروں، صحت کے مراکز، ہسپتالوں، سڑکوں اور دیگر انفرااسٹرکچر کا قیام بھی کیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے ان افسر کا کہنا تھا کہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان اپنے علاقوں میں تو اقدامات کر رہا ہے، مگر اس حوالے سے پاکستان اور افغانستان کو بعض مشترکہ اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔
اول: پاکستان سے افغان مہاجرین کی وطن واپسی
دوئم: افغانستان میں سیاسی استحکام اور امن و امان کا قیام
سوئم: افغان مسلح افواج کو اپنے زیرِ کنٹرول علاقے میں رٹ قائم کرنے لائق مستحکم کرنا
چہارم: پاک افغان سرحد پر بہتر انتظامات تاکہ دہشت گرد پاکستان میں داخل ہو کر کارروائیاں نہ کر سکیں
جہاں تک افغان مہاجرین کی واپسی کاتعلق ھے تو
ایک نہایت پیچیدہ اور مشکل عمل ہے۔ گزشتہ چاردہائیوں میں افغانوں کی دوسری نسل پاکستان میں جوان ہو رہی ہے اور وہ یہاں تعلیم اور دیگر سہولیات کی عادی ہو چکی ہے۔ اندازوں کے مطابق پاکستان میں 30 لاکھ کے قریب افغان مہاجرین موجود ہیں جن میں سے نصف تعداد غیر رجسٹرڈ مہاجرین پر مشتمل ہے۔ اب تک صرف تین لاکھ کے قریب افغان مہاجرین اپنے علاقوں کو واپس لوٹ سکے ہیں۔تاھم اس مھم کے تحت بہت سے افغان شہری چلے گئے یانکال دیے گئے تاہم اب بھی غیر ملکیوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔
افغان مہاجرین کے انخلاء کی سست روی کی وجہ سے ان افغان بستیوں میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والے عناصر باآسانی جگہ بنا سکتے ہیں۔ اس عمل میں نہ صرف پاکستان اور افغانستان کی حکومت کو مل کر کام کرنا ہوگا، بلکہ امریکا اور اقوامِ عالم کے دیگر اداروں کو بھی پاکستان کا ساتھ دینا ہوگا۔
افغانستان میں ایسا ماحول بھی تشکیل دینا ہوگا کہ واپس جانے والے مہاجرین اپنے گھروں اور زمینوں کو دوبارہ آباد کرسکیں اور اپنے ان علاقوں میں رہ سکیں جہاں سے وہ چھوڑ کر پاکستان آئے تھے۔
: افغانستان میں سیاسی استحکام اور امن و امان
افغانستان کو سیاسی طور پر مضبوط کرنے سے پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
افغانوں کو اپنے ہی ملک کے سیاسی ڈھانچے کا حصہ بنانے سے ان کی سوچ میں مثبت تبدیلی آئے گی اور ایسے مسلح






