#کالم

ہر اینٹ سوچتی ہے کہ دیوار اس سے ہے؟

جاویدایازخان

احساس کے انداز تحریر :۔ جاویدایازخان 

گذشتہ روز ہمارے بینک کے ایک دیرینہ دوست عرفان میر صاحب نے ایک لطیفہ پوسٹ فرمایا کہ ایک مچھر کہیں جارہا تھا راستے مین زور کا طوفان آیا مچھر اپنی جان بچانے کے لیے ایک کیکر کے درخت سے لپٹ گیا اور  طوفان ٹل جانے کے بعد اپنا پسینہ صاف کرتے ہوۓ بولا ” جے اج میں نہ ہوندا تے اے کیکر تے گیا سی "یعنی” اگر آج میں نہ ہوتا تو یہ کیکر تو گیا تھا "ایسے ہی بچپن میں بتایا جاتا تھا کہ ایک پرندہ "ٹٹیری ” رات کو  اپنی ٹانگیں آسمان کی جانب اوپر اٹھا کر الٹا سوتا ہے  اور سمجھتا ہے کہ خدانخواستہ آسمان گرا پڑا تو وہ اپنی ٹانگوںپر سنبھال لے گا اسے یہ خوش فہمی ہوتی ہے کہ آسمان اسکی ٹانگوں پر آکر ٹھہر سکتا ہے ۔جی ہاں ! خوش فہمیوں کے سلسلے ایسے ہی دراز ہوتے ہیں ۔بدقسمتی سے سوچ کی  یہ وبا ء بڑی تیزی سے ہمارے معاشرے کا حصہ بنتی جارہی ہے ۔”تو مجھے نہیں جانتا "جیسے فخریہ جملے ہر روز سننے میں آتے ہیں ۔ 

خوش فہمیوں کے سلسلے اتنے دراز ہیں 

ہر اینٹ سوچتی ہے کہ دیوار اس سے ہے ۔

خوش فہمی کے مختلف پہلو ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ ایک آدمی جھوٹ بولنے کی وجہ سے بڑامشہور تھا ۔ایک عورت کو پتہ چلا تو اس کی اصلاح کی نیت سے اس کے پاس گئی اور بولی "میں نے سنا ہے کہ تم دنیا کے سب سے بڑے جھوٹے آدمی ہو ؟ "آدمی جھوٹاہی نہیں سمجھدار بھی تھا بولا "دنیا کو دفع کرو جی ! میں تو آپ  کو دیکھ کر سخت حیران ہوا ہوں کہ اس عمر میں بھی یہ حسن  ۔۔یہ جمال اور یہ دلکشی ۔۔۔! عورت شرماتے ہوۓ بولی ” ہاۓ اللہ  یہ دنیا بھی کتنی ظالم اور جھوٹی ہے کہ ایک اچھے بھلے آدمی کو جھوٹا کہتی ہے ؟پچھلے الیکشن میں میرے ایک دوست کو یہ کو خوش فہمی ہو گئی تھی کہ وہ لوگ اسے پسند کرتے ہیں اور وہ  عوام میں بہت مقبول ہے ۔اسی سوچ  نے اسے الیکشن لڑنے پر مجبور کردیا مگر چند سو ووٹوں نے اس کی خوش فہمی ہمیشہ کے لیے ختم کردی ۔اپنی صورت ،طاقت ،دولت ،مقبولیت ،شہرت ، قابلیت  اور حیثیت کے بارے میں خوش فہمی ہمیشہ شرمندہ کراتی ہے ۔ہمارے بہت سے شاعر اور ادیب بھی اپنے کلام اور تحریر و ں کے بارے میں خوش فہمی کا شکار ہوکر دوسروں پر تنقید کی سوچ اپنا لیتے ہیں  جو ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو زنگ آلود کر دیتی ہے ۔آپ کی تخلیق ہمیشہ کسی بھی تنقید پر مقدم ہوتی ہے ۔

اسی لیے کہتے ہیں کہ خوش فہمی ایک دو دھاری تلوار ہوتی ہے ۔جو کبھی حوصلہ بنکر انسان کو منزل کے قریب لے جاتی ہے اور کبھی غفلت بن کر اسے اندھیروں میں ڈال دیتی ہے ۔خوش فہمی بظاہر ایک نرم ،خوبصورت اور دل کو بہلانے والا لفظ ہے مگر اس کے اندر ایک ایسی طاقت پوشیدہ ہوتی ہے جو انسان کو بام عروج  تک بھی لے جاسکتی ہے ۔یہ دراصل انسان کے اپنے ذہن کا وہ فریب ہے جو حقیقت سے زیادہ خود اعتمادی ،امید یا خواہش پر مبنی ہوتا ہے ۔بینک ملازمت کے دوران بےشمار ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا جو اس خوش فہمی کا شکار تھے کہ یہ بینک ان کی وجہ سے ہی چل رہا ہے وہ نہ رہے تو شاید یہ بینک بھی نہیں رہے گا ۔ایسے ہی لوگ ہر ادارے میں موجود ہوتے ہیں جو یہ گمان کرتے ہیں اور پریشان رہتے ہیں کہ ان کے بعد اس ادارے کا کیا ہو گا ۔ہر خاتون سوچتی ہے کہ گھر کا نظام اس کے ہی دم سے چل رہا ہے وہ نہ ہو تو گھر کا نظام درہم برہم  ہو کر رہ جاۓ گا ۔امام علی کرم اللہ وجہہ  کا قول ہے کہ ” سب سے بڑی جہالت یہ ہے کہ انسان خود کو عقلمند سمجھے ” مولانا روم ؒفرماتے ہیں کہ”جو شخص خود کو کامل سمجھ لے وہ دراصل  نامکمل ترین ہے ” شیکسپیئر کہتا ہے کہ "خوش فہمی ایک ایسا خواب ہے جو حقیقت کو دھندلا دیتا ہے ” امام غزالی ؒ  کا رشاد ہے کہ نفس کی سب سے بڑی خوش فہمی یہ ہے کہ وہ گناہ کو نیکی سمجھ بیٹھے ” ۔شیخ سعدی شیرازی ؒ   کا قول ہے کہ "خوش فہمی ایسی بیماری ہے جو دانائی کے دروازے بند کردیتی ہے ” مولانا رومی ؒ کا ایک  فارسی شعر ہے کہ ” جو نہیں جانتا اور یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ نہیں جانتا۔۔وہ تاریکی میں رہتا ہے "یہ خوش فہمی کی خطرناک ترین صورت ہے اور اس تلخ حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ خوش فہمی اکثر ” دانائی کے نقاب میں چھپا ہوا ” غرور ” ہوتی ہے ۔ایک سوال یہ بھی ہےکہ خوش فہمی فریب ذہن ہے یا قوت یقین بھی ہے ؟

انسان کی فطرت میں امید ،خوداعتمادی اور خواب دیکھنے کی صلاحیت تو ضرور شامل ہے ۔یہی خصوصیت اسے زندگی میں مایوسی سے بچاتی ہے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے لیکن جب امید حقیقت سے الگ ہوجاۓ اور خود اعتمادی تکبر کا روپ دھار لے تو وہی خوبی خوش فہمی  جیسی عادت میں بدل جاتی ہے ۔ایک ایسا فریب جو انسان کو حقیقت سے دور اور اپنی ہی دنیا کا اسیر بنا دیتا ہے ۔اور خود کو سمجھنے اور پر کھنے کی کی کوشش نہیں کرتا ۔

کہتے ہیں کہ "میں اہم ہوں دراصل سب سے بڑا وہم "اور خوش فہمی ہوتی ہے ۔میرے استاد شاہ محمد مرحوم کہا کرتے تھے کہ خوش فہمی دراصل ہمارے  تکبر سے جڑی ایک سوچ ہوتی ہے بلکہ ایک ذہنی بیماری کی قسم ہوتی ہے ۔ جس کے منفی اثرات مثبت اثرات سےلوگ بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔خوش فہمی انسان کو بسا اوقات گمراہی کے غار میں بھی دھکیل دیتی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہو پاتی ۔خوش فہمی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان حقیقت سے آنکھ چرا لیتا ہے ۔وہ خود کو ٹھیک سمجھتا ہے جبکہ وہ غلط ہوتا ہے ۔یہی حقیقت سے آنکھ چرانا اور سچ سے دوری تکبر کا باعث بنتی ہے ۔مثلا” سیاست دان اپنی  عوامی مقبولیت کے خمار میں عوامی مسائل سے کٹ جاتا ہے ۔وہ عوامی حمایت کو اپنی قابلیت سمجھنے لگتا ہے ۔”میں عوام میں مقبول ہوں ” کی خوش فہمی ہمیشہ سیاستدان کو لے بیٹھتی ہے ۔خوش فہمی اکثر مضبوط ترین انسانی رشتوں میں بھی  دراڑ  ڈال دیتی ہے ۔ کیونکہ جب کوئی شخص یہ سمجھتا رہے کہ "وہی ہمیشہ درست ہے ” تو دوسروں کی بات سننا اور سمجھنا چھوڑ دیتا ہے ۔جس کے نتیجے میں غلط فہمیاں ،فاصلے اور رشتوں میں ٹوٹ پھوٹ بڑھ جاتی ہے ۔خوش فہمی انسان کے دل ودماغ پر پردہ ڈال دیتی ہے اور وہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم نہیں کرتا ،اصلاح سے انکار کرتا ہے اور بالاخر زوال کا شکار ہو جاتا ہے ۔کسی کی نصیحت اور مشورہ  قبول نہ کرنا  خوش فہمی کی بنیاد ہوتی ہے ۔بعض لوگ دین یا علم کے میدان میں بھی خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ "میں سب سے زیادہ جانتا ہوں ‘ یہ انسانی رویہ روحانی ترقی کے دروازے بند کردیتاہے ۔خوش فہمی اگر ایمان وعمل کو مضبوط کرے تو رحمت اور اگر غفلت و تکبر پیدا کرے تو زحمت بن جاتی ہے ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بسا او قات  خوش فہمی  حوصلہ اور امید  و یقین کا سرچشمہ بھی بن جاتی ہے اور زندہ رہنے کا جواز پیدا کرتی ہے ۔انسانی خود اعتمادی میں اضافے کاباعث بنتی ہے اور کبھی کبھار انسان کو ” میں کرسکتا ہوں ” کی بلند سطح تک لے آتی ہے جہاں سے کامیابی کے راستےکھل سکتے ہیں۔ایسے ہی بعض اوقات کوئی خوش فہمی انسانی زندگی کو سہل بھی بناتی ہے جیسے یہ خیال کہ ” دنیا میں نیکی اور بھلائی اب بھی باقی ہے ” یہ فہم انسان کے اندر خدمت اور خیر کے جذبے کو زندہ رکھتا ہے ۔ان سب کے باوجود خوش فہمی کے منفی اثرات اس کے مثبت اثرات پر بھاری ہی رہتے ہیں ۔ خوش فہمی انسان کو وقتی سکون تو ضرور دیتی ہے مگر دیرپا کامیابی ہرگز نہیں ہوتی ۔اصل فہم یہ ہے کہ انسان اپنے باطن کا جائزہ لیتا رہے اپنی کمزوریوں کو پہچانے اور سچائی کو خوش فہمی پر ترجیح دے ۔امید ضرور رکھے ،مگر اندھی امید نہیں ۔۔اعتماد کرے مگر خود پرستی ہرگز نہیں ۔خوش فہمی کے حصار سے باہر نکلنا ہی درحقیقت انسانی کامیابی کی دلیل ہوتی ہے ۔ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر معاشرے سے اس اخلاقی برائی کے خاتمہ کے لیے کردار ادا کرنے کی ضرورت آج بہت زیادہ ہے ۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے