افغان جارحیت اور پاک فوج کا موثر جواب
اورنگزیب اعوان
پاکستان نے برادر اسلامی ملک افغانستان کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے. سویت یونین نے جب اس ہر حملہ کیا. تو اس کے لاکھوں پناہ گزینوں کو پاکستان نے کئی دہائیوں تک اپنے ملک میں پناہ دی. ابھی بھی یہ لوگ پاکستان میں رہ رہے ہیں. اور کاروبار کر رہے ہیں. پناہ دینے کے ساتھ ساتھ اس کی مسلح امداد بھی کی گئی. اس کے مجاہدین کو جنگی تربیت دے کر میدان جنگ میں بھیجا جاتا. ہماری مسلح افواج نے افغانستان کی سوویت یونین کے خلاف جنگ میں مکمل مدد کی. سوویت یونین (روس) الزام لگتا تھا. کہ پاکستان کی مسلح افواج مجاہدین کے روپ میں اس سے لڑ رہی ہے. اس جنگ کی وجہ سے پاکستان کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. ایک طرف سوویت یونین کے حمایت یافتہ ممالک کی طرف سے ہمارے اوپر اقتصادی پابندیاں عائد کی گئی. تو دوسری طرف لاکھوں کی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی نے ہماری معیشت کو بری طرح متاثر کیا. مگر پاکستان کی حکومت اور عوام نے اس مشکل وقت میں اپنے اسلامی بھائیوں کی میزبانی میں کوئی کمی نہیں آنے دی. سوویت یونین کی عبرت ناک شکست کے بعد افغانستان میں حکومت سازی کے لیے قبائل کے درمیان خانہ جنگی شروع ہو گئی. جو کئی سالوں تک چلتی رہی. دنیا بھر سے دہشت گردوں نے مجاہدین کے روپ میں یہاں پناہ لی. وہ یہاں سے دنیا کے امن کو برباد کرتے تھے. اسی کی پاداش میں امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا. وہ امریکہ میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے افغان طالبان اور اسامہ بن لادن کو ذمہ دار قرار دے رہا تھا. اس جنگ میں بھی پاکستان نے افغان مجاہدین کی مدد کی. جس کی وجہ سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں تلخیاں پیدا ہوئیں. امریک کا جھکاؤ بھارت کی طرف زیادہ رہا. اس دوران بھی پاکستان کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. پاکستان نے ہر مشکل وقت میں افغانستان کا ساتھ دیا. اب جب افغانستان بیرونی جارحیت سے نجات حاصل کر چکا ہے. اور وہاں ان کی اپنی حکومت قائم ہو چکی ہے. تو اس نے پاکستان کے احسانات پر اس کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے. اس کے خلاف جارحیت شروع کر رکھی ہے. آئے روز افغانستان کی سر زمین سے پاکستان کی مسلح افواج پر حملے کیے جاتے ہیں. جس کے نتیجہ میں ہمارے ہزاروں فوجی جوان جام شہادت نوش کر چکے ہیں. اس کو بار بار تنبہی کی گئی ہے. کہ وہ اپنے بارڈر کو محفوظ بنائیں. مگر وہ پاکستان کے خلاف جارحیت کی غرض سے غیر ملکی دہشت گردوں کو پاکستان کی سرحد میں داخل کرتا ہے. اس میں ہمارے کچھ قبائل اور خیبر پختون خواہ کی حکومت کے عہدیداران بھی ان کا ساتھ دیتے ہیں. گزشتہ دنوں بھی خیبر پختون خواہ میں خوارج کی طرف سے مسلح افواج پر بزدلانہ حملہ کیا گیا. جس میں مسلح افواج کے افسران و جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانہ پیش کیے. اور ملکی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دی. اس حملہ کے جواب میں پاکستان کی اعلی ترین فوجی قیادت نے فیصلہ کیا. کہ اب ان کو سمجھانے کی بجائے. ان کو سبق دینا پڑے گا. فیلڈ مارشل جنرل حافظ عاصم منیر نے افواج پاکستان کو مکمل اختیار دیا. کہ انہیں کسی بھی قسم کی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں. یہ اپنا ہدف مقرر کرے. اور اس پر کاروائی کرے. گزشتہ شب جب بزدل افعان سپاہیوں کی طرف سے ہماری سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی گئی. تو پاکستان کی مسلح افواج نے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی.پاکستان کی بری افواج نے ان کی کئی چوکیوں پر قبضہ کیا. افغان فوجی اپنی چوکیوں کو چھوڑ کر بھاگ گئے. متعدد افغان فوجیوں کی لاشیں بارڈر پر پڑی ہیں. جن کو اٹھانے بھی کوئی نہیں آ رہا. پاکستان کی بری فوج کی بروقت اور شدید جوابی کاروائی کے نتیجہ میں افغانستان کا شدید جانی و مالی نقصان ہوا ہے. اس کی 30 سے زائد سرحدی چوکیوں پر پاکستان کی مسلح افواج نے پاکستان کے پرچم لہرا دیئے ہیں. اسی طرح سے ہماری شیر دل فضائیہ کے شاہینوں نے افغانستان کے اندر گھس کر طالبان، داعش اور خوارج کے ٹھکانوں کو انتہائی کامیابی سے نشانہ بنایا ہے. جس کے نتیجہ میں دہشت گردوں کی لاشیں ہر طرف بکھریں پڑی ہیں. افغانستان کے وزیر خارجہ بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف پریس کانفرنس کر رہے ہیں. یہ شاید بھول چکا ہے. کہ پاکستان کے بغیر افغانستان کبھی بھی امریکہ اور روس سے نہیں لڑ سکتا. افغانستان کو یہ گمان ہے. کہ وہ دنیا کی دو سپر پاور کے خلاف لڑ چکا ہے. جبکہ حقیقت میں پاکستان کی مدد کے بغیر وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا. آپ کا کبھی اپنے دیہات چکر لگے. تو دیکھے کہ وہاں زمیندار یا کسان نے اپنے مال مویشیوں کے چارہ کے لیے بیل گاڑی رکھی ہوتی ہے. وہ کھیت سے چارہ اس بیل گاڑی پر رکھ کر گھر لاتا ہے. بیل گاڑی میں بیل اس بیل گاڑی کو کھینچ کر لاتے ہیں. اکثر ایک آوارہ کتا اس بیل گاڑی کے نیچے بیلوں کے ساتھ ساتھ دم اٹھا کر چلتا ہے. وہ کبھی دائیں جانب تو کبھی بائیں جانب ہوتا ہے. وہ اس گمان میں ہوتا ہے. کہ سارا وزن اس نے اٹھا رکھا ہے. یہی گمان افغانستان کی حکومت کو ہے. وہ دنیا کی دو سپر طاقتوں امریکہ اور روس سے جنگ کو اپنی جیت سمجھ رہا ہے. حالانکہ ان میں اس کا کردار آوارہ کتے والا ہے . افغان قوم نے احسان فراموشی کی تاریخ راقم کر دی ہے. دہائیوں تک پاکستان نے ان کی مہمان نوازی کی. اب یہ لوگ اپنے ہی محسن پر بھونک رہے ہیں. دنیا اب بھی افغانستان کو ایک دہشت گرد ملک کے طور پر جانتی ہے. اور وہ اس کے خلاف موثر ترین کاروائی کی خواہش مند ہے. روس، ایران، چین، پاکستان اس کے پڑوسی ہیں. اس لیے وہ اس کی سر زمین کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے سنجیدہ کوشش کر رہے ہیں.






