افغانستان کے بلااشتعال حملے کا منہ توڑ جواب
أج کا اداریہ
ہفتہ و اتوار کی درمیانی شب افغانستان کی جانب سے پاک افغان بارڈر پر رات گئے بلااشتعال فائرنگ کے بعد پاک فوج نے بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔
افغانستان کی جانب سے پاک افغان بارڈر پر بلااشتعال فائرنگ کے بعد پاک فوج نے بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے کارروائی کے دوران افغان فورسز کی 19 اہم سرحدی پوسٹوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ افغان حدود سے پاکستان پر ہونے والی گولہ باری اور فائرنگ کے جواب میں رات گئے سے جاری جوابی آپریشن میں پاک فوج نے نہ صرف اہداف کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا بلکہ ان پوسٹوں پر بھی قبضہ کر لیا جہاں سے پاکستانی علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔
زیرِ قبضہ پوسٹوں پر آگ اور تباہی کے واضح مناظر دیکھے جا سکتے ہیں، جبکہ متعدد افغان طالبان اور سیکیورٹی اہلکار پوسٹیں خالی چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بھاری جانی و مالی نقصان کے بعد کئی افغان فوجی ہلاک اور متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ متعدد چوکیاں مکمل طور پر خالی ہو چکی ہیں۔
پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے پس منظر میں پاک فوج نے افغانستان کی متعدد سرحدی پوسٹوں پر قبضہ کرتے ہوئے وہاں پاکستان کا قومی پرچم لہرا دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی انگور اڈہ سیکٹر میں رات گئے شروع کی گئی جو اب بھی جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ مؤثر اور جارحانہ انداز میں کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں افغان فورسز کی متعدد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ کئی اہلکار پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے پس منظر میں پاک فوج نے افغانستان کی متعدد سرحدی پوسٹوں پر قبضہ کرتے ہوئے وہاں پاکستان کا قومی پرچم لہرا دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی انگور اڈہ سیکٹر میں رات گئے شروع کی گئی جو اب بھی جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ مؤثر اور جارحانہ انداز میں کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں افغان فورسز کی متعدد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ کئی اہلکار پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہو گئ
پاک فوج نے افغانستان کی 19 چیک پوسٹوں پر قبضہ کر لیا جہاں سے پاکستان کے خلاف حملے کیے جاتے تھے۔
پاک فوج کی پیش قدمی دیکھتے ہی افغان فوجی اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے، جس کے بعد پاکستانی اہلکاروں نے ان پر قومی پرچم بلند کر دیا۔
اطلاعات کے مطابق سیکٹر کی بیشتر پوسٹیں اب پاکستانی کنٹرول میں آ چکی ہیں اور پاک فوج کی پیش قدمی جاری ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کا آغاز افغانستان کے دارالحکومت کابل اور پاکستان، افغانستان سرحد کے قریبی علاقوں میں تین روز قبل ہونے والے مبینہ حملوں کے بعد ہوا۔
افغانستان کی وزراتِ دفاع کی جانب سے پاکستان پر فضائی حدود کی خلاف ورزی اور کابل سمیت دو مقامات پر فضائی حملوں کا الزام عائد کیا گیا۔
اس دوران یہ اطلاعات بھی گردش کرتی رہیں کہ کابل میں ہونے والی کارروائی میں تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود مارے گئے ہیں۔ پاکستان کی حکومت یا فوج نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
تاہم جمعے کی سہ پہر پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے اس بارے میں سوالات کیے گئے توانھوں نے اس کی تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ ‘پاکستانی عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور کیے جاتے رہیں گے۔’
افغانستان میں سنہ 2021 میں افغان طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں بتدریج سرد مہری دیکھی جا رہی ہے۔ اور ماضی میں پاکستان کی جانب سے افغانستان اور سرحدی علاقوں میں کارروائیاں کی گئی ہیں۔
پاکستان کو یہ گلہ رہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں نے افغانستان میں پناہ لے رکھی ہے اور یہ سرحد پار پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔
پاکستان کے سکیورٹی حکام ملک میں ہونے والے بیشتر حملوں کا ذمہ دار تحریکِ طالبان پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے افغان طالبان سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرے۔ تاہم افغان طالبان کا یہ موقف رہا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور افغانستان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
دفتر خارجہ نے گذشتہ برس دسمبر میں ‘پاکستانی شہریوں کی سلامتی کو لاحق خطرات کی بنیاد پر پاکستان افغانستان سرحد سے متصل علاقوں’ میں عسکریت پسندوں کے خلاف انٹیلیجنس پر مبنی آپریشن کی تصدیق کی تھی
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سن
ھفتہ اور اتوار کی شب پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال پر قطر نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تناؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس کے خطے کی سلامتی و استحکام پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔
وزارتِ خارجہ نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ مکالمے، سفارت کاری اور تحمل کو سے کام لیں اور اختلافات کو ایسے طریقے سے حل کرنے کی کوشش کریں جو تناؤ میں کمی اور کشیدگی سے بچاؤ میں مددگار ہو، تاکہ علاقائی سلامتی اور استحکام کو قائم رکھا جا سکے۔






