#کالم

بھارت -افغان اتحاد اور ہماری سیاسی پالیسی

without face

افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخارالح

اس ہفتے میرا ارادہ عام آدمی کی بابت دوسری قسط لکھنے کا ارادہ تھا لیکن شمال مغربی سرحد پر رونما ہونے والے تشویش ناک واقعات نے مجبور کیا کہ فی الحال اس بابت کچھ بات کی جائے ۔ اس وقت خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر نے اتنی شدت اختیار کر لی ہے کہ وہاں کی صوبائی حکومتی مشینری اس پر قابو پانے میں ناکام ہو کر خاموشی سے پاک فوج کے جوانوں کی جدوجہد اور شہادت کے اندوہناک مناظر دیکھنے پر اکتفا کر رہی ہے۔ ان نازک حالات کا تقاضا ہے کہ مکمل سیاسی و تاریخی تناظر میں پورے منظرنامے کا مشاہدہ کیا جائے ۔ یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوتی ہے کہ بھارت نے 1947 کے بعد کچھ عرصے کے اندر ہی بہتر انتظامِ حکومت کی غرض سے چھ صوبوں کی تقسیم کر کے کُل 28 صوبے بنا لئے جنھیں ریاستیں / States کہا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ بھارتی وفاق میں 8 یونین ٹیریٹریز / Union Territories ہیں جو براہِ راست صدر کے زیرِ انتظام ہیں ۔ یہاں پاکستان میں بدقسمتی سے نئے صوبوں کی تجویز ہمیشہ بری طرح رد کی گئی اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اس اہم موضوع پر ذہنی طور پر کسی کشمکش میں مبتلا ہونے کا مظاہرہ کیا ۔ یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ مشرقی پاکستان کو سرکاری سطح پر 1955 تک مشرقی بنگال کہا جاتا رہا اور بلوچستان کو آزادی کے فوراً بعد صوبائی حیثیت دینے کی بجائے اسے بلوچستان سٹیٹس یونین کی ذیلی سطح پر رکھا گیا اور جولائی 1970 میں اسے صوبہ بنایا گیا اور تب تک ہمارے سیاسی پلوں کے نیچے سے عدم استحکام کا بہت سا پانی بہہ چکا تھا ۔ اسی طرح صوبہ سرحد کا نام بدلنے پر بے جا سیاسی چپقلش کے بعد 2010 میں اس کا نام وہاں کے عوام کی مسلسل فریاد پر خیبر پختونخوا رکھا گیا ۔ جانے ہم اتنے عام سے فیصلے کرنے میں بھی اتنی دیر کیوں لگاتے ہیں ، یہ بھی ایک معمہ ہی ہے۔ تیسری مثال گلگت ۔بلتسان کی ہے جسے وفاقی حکومت نے خود پر سیاسی بوجھ بڑھانے کے لیے اس انتظامی اکائی کو شمالی علاقہ جات کہہ کر اپنے تحت کیے رکھا اور پھر کئی عشروں کی بحثا بحثی کے بعد گلگت بلتستان کو نیم صوبائی حیثیت دی گئی ۔زیادہ حیرت اس بات پر ہے کہ “ تبدیلی کی دعوے دار “ پی ٹی آئی کی حکومت نے بھی اس اہم خطے کو مکمل صوبائی درجہ کیوں نہ دیا اور خیبرپختونخوا کی تقسیم کر کے قبائلی علاقہ جات کو بھی قبائلستان یا کسی بھی نئے نام سے مکمل صوبہ بنانے کی تجویز تک پر غور کیوں نہ کیا ۔
اس مختصر بیانیے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہمیں قیامِ پاکستان کے فوری بعد قائدِ اعظم کی سیاسی بصیرت سے سبق سیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ قائدِ اعظم نے آزادی کے فوراً بعد قبائلی علاقوں پر متعین ان فوجی دستوں کو ہٹانے کا حکم دیا تھا جن کی وہاں برطانوی نوآبادیاتی دور میں تعیناتی کی تھی اور ایسا انگریزوں نے مشہور تاریخی “ روسی خطرے/ Russian threat “ کے تناظر میں کیا تھا کیونکہ روس ہمیشہ سے افغانستان کے رستے بحرِ ہند/ بحیرۂ عرب تک رسائی کا خواب دیکھتا آیا ہے ۔ قائدِ اعظم نے اس برطانوی پالیسی کو اس نیت سے ختم کیا تاکہ ان علاقوں کے عوام تک ، اور بالواسطہ طور پر افغانستان تک خیر سگالی کا پیغام پہنچے۔افسوس کہ افغانستان نے برادر اسلامی ملک ہونے کا ثبوت کبھی نہ دیا اور پاکستان کے وجود میں آتے ہی تین نہایت جارحانہ اور غیر دانش مندانہ اقدامات کیے ۔ سب سے پہلے تو اس نے ڈیورنڈ لائن نامی پاک-افغان سرحد کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ۔ یہ سرحد 1893 میں جب بنائی گئی تو اس وقت افغانیوں نے کوئی احتجاج نہیں کیا تھا ۔اس مخالفت کے ساتھ افغانستان نے پاکستان میں موجود پختون علاقوں پر اپنا دعویٰ کرتے ہوئے انھیں پختونستان کے نام سے اپنا صوبہ بنانے کا احمقانہ مطالبہ شروع کر دیا ۔ پھر اس نے پاکستان کی اقوامِ متحدہ کی رکنیت کی مخالفت کی اور اس کے لیے اس کے پاس کوئی معقول دلیل نہیں تھی ۔ افغانستان کے اس جارحیت آمیز رویے کا پورا پورا فائدہ بھارت نے اٹھایا جس کی قیادت نے پیش گوئی کی تھی کہ پاکستان خاکم بدہن چھ ماہ سے زیادہ قائم نہ رہ سکے گا۔ افغان حکومت نے اسی پر اکتفا نہ کی بلکہ قائدِ نے جب اسے کراچی کی بندرگاہ سے بالواسطہ تجارت / Transition trade کی پیشکش کی تو اسے بھی نجانے کس مخاصمت کے تحت رد کر دیا گیا ۔ پھر 1962 میں آر سی ڈی / RCD کے قیام کے وقت ایوب خان نے افغانستان کو اس میں شمولیت کی دعوت دی تو اسے بھی ٹھکرا کر افغان قیادت نے شیخ سعدی سے منسوب اس شعر کی توثیق کر دی جس میں افغانوں کو بدذات کہا گیا ہے۔یہ تو ذوالفقار علی بھٹو کی خارجہ حکمتِ عملی کا کمال تھا جو افغانستان نے دوسرے اسلامی سربراہی اجلاس میں شرکت بھی کی اور APTTA/ Afghan Pakistan Transit Trade Agreement بھی کر لیا ۔ افغان صدر اور بھٹو نے اسلام آباد اور کابل کے کامیاب دورے بھی کیے ۔ افسوس کہ بھٹو۔شاہ فیصل۔ قذافی اور شاہِ ایران کا سیاسی مستطیل بہت جلد پراسرار طور پر توڑ دیا گیا ۔ دسمبر 1979 کے بعد افغانستان پر سوویت حملے سے علاقائی اور عالمی سیاست ہل کر رہ گئی اور افغان جنگ کے بعد ہر افغان حکومت نے پاکستان دشمن رویہ اختیار کیے رکھا اور مسلسل بھارتی آشیرباد اسے حاصل رہی ۔
اس تمام منظرنامے کا تقاضا تو یہی تھا کہ قبائلی علاقوں کو باقاعدہ صوبے کا درجہ دے کر مغربی سرحد کو مضبوط تر کیا جاتا تاکہ خیبرپختونخوا میں بھی سیاسی و انتظامی استحکام آتا اور قبائلی عوام کا چھوٹا سا صوبہ ملکی سیاسی دھارے میں شامل ہو کر ہماری افغان حکمتِ عملی میں زبردست ساتھ دیتے لیکن نجانے کن محرکات کے سبب ایسا نہ کیا گیا۔الٹا کچھ گزشتہ سیاسی “ قائدین “ نے پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم افغانوں کے یہاں سے انخلا کی خوفناک حکمتِ عملی اپنائے رکھی جس کے نتیجے میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی مسلسل بڑھتی گئی ۔ وہ تو اللہ بھلا کرے موجودہ پاکستانی

بھارت -افغان اتحاد اور ہماری سیاسی پالیسی

ستھرا پنجاب کہانی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے