#کالم

محترمہ عظمیٰ بخاری — استقامت، عزم اور جمہوری جدوجہد کی علامت

فاطمہ شیرازی

فاطمہ شیرازی

پاکستان کی سیاست میں اگر ایسی خواتین کا ذکر کیا جائے جنہوں نے بہادری، استقامت اور نظریاتی وفاداری کے ساتھ اپنی جماعت اور عوام کی خدمت کی، تو اُن میں محترمہ عظمیٰ زاہد بخاری کا نام نمایاں طور پر ابھرتا ہے۔ ایک وکیل، سیاستدان اور سماجی کارکن کے طور پر اُن کی شخصیت شائستگی، عزم اور جمہوری شعور کا حسین امتزاج ہے۔
عظمیٰ بخاری کا تعلق فیصل آباد کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے ہے۔ اُنہوں نے اپنی تعلیم پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی اور بعد ازاں پاکستان کالج آف لا سے ایل ایل بی کیا۔ تعلیم کے دوران ہی اُنہیں سماجی خدمت اور خواتین کے حقوق سے گہری وابستگی پیدا ہوئی، جو آگے چل کر اُن کی سیاسی جدوجہد کی بنیاد بنی۔
عظمیٰ بخاری نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز پاکستان پیپلز پارٹی سے کیا، مگر جلد ہی اُنہیں احساس ہوا کہ اُن کے نظریات اور وژن مسلم لیگ (ن) کے عوامی بیانیے سے زیادہ مطابقت رکھتے ہیں۔ 2013 میں اُنہوں نے باضابطہ طور پر مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی، اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ وہ پنجاب اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب ہوئیں اور اپنی کارکردگی سے نمایاں رہیں۔
عظمیٰ بخاری نے مسلم لیگ (ن) کے ہر مشکل دور میں پارٹی کے بیانیے کی علمبردار کے طور پر کردار ادا کیا۔ جب قیادت پر الزامات لگائے گئے، جب عدالتوں میں مقدمات چلے، جب میڈیا اور سوشل میڈیا پر کردار کشی کی مہمات چلیں — عظمیٰ بخاری ہر محاذ پر ڈٹ کر کھڑی رہیں۔
شہباز شریف اور مریم نواز کی عدالتوں میں پیشیوں کے دوران وہ نہ صرف پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ موجود رہیں بلکہ کارکنان کا حوصلہ بڑھاتی رہیں۔ وہ اکثر لاہور ہائی کورٹ اور احتساب عدالت کے باہر کارکنان کو منظم کرنے، میڈیا سے گفتگو کرنے، اور نون لیگ کے مؤقف کو واضح انداز میں پیش کرنے کے لیے صفِ اول میں نظر آئیں
تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں جب سیاسی انتقام عروج پر تھا، تو عظمیٰ بخاری اُن رہنماؤں میں شامل تھیں جنہوں نے دباؤ کے باوجود آواز بلند کی۔ اُنہیں سیاسی جلسوں، احتجاجات اور عدالتوں کے باہر پولیس کے رویے اور ریاستی سختیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
کئی مواقع پر وہ خود زخمی بھی ہوئیں، مگر اُن کی زبان پر کبھی شکایت نہیں آئی — بلکہ اُن کے ہر بیان سے حوصلہ، اعتماد اور جمہوری مزاج جھلکتا رہا۔ وہ کہتی ہیں:

⁠“اگر سچ بولنا جرم ہے، تو ہم یہ جرم کرتے رہیں گے، کیونکہ جمہوریت کی بقا اسی میں ہے۔”

عظمیٰ بخاری نے ہمیشہ اپنی قیادت — نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز — پر غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ “نون لیگ ایک خاندان ہے، اور میں اس کی سپاہی ہوں۔”
پارٹی کے اندر اُنہیں ایک سچّی، جرات مند اور وفادار خاتون رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ وہ نہ صرف میڈیا کے محاذ پر بلکہ پارلیمان کے اندر بھی اپنی مدلل گفتگو اور قانون کی گہری سمجھ بوجھ سے پارٹی کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرتی ہیں۔
بطور وکیل، عظمیٰ بخاری نے ہمیشہ قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کی بات کی۔ اُنہوں نے خواتین کے حقوق، بچوں کے تحفظ، اور تعلیم کے فروغ کے لیے مختلف سماجی مہمات میں حصہ لیا۔
وزارتِ اطلاعات و ثقافت پنجاب کے طور پر اُنہوں نے صوبے کے ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے، نوجوان نسل کو فن و ادب سے جوڑنے، اور میڈیا کو ریاستی بیانیے سے ہم آہنگ کرنے کے لیے نمایاں اقدامات کیے۔
عظمیٰ بخاری آج کی سیاست میں اُن خواتین میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کردار سے یہ ثابت کیا کہ سیاست صرف مردوں کا میدان نہیں۔ اُنہوں نے تنقید، مزاحمت اور مخالفت کے ہر طوفان کا مقابلہ کیا اور اپنی جگہ استقامت سے قائم رہیں۔
ان کی زندگی کا ہر باب جمہوری جدوجہد، عوامی خدمت اور سیاسی وفاداری کی ایک روشن مثال ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے