#کالم

زندگی کا جوہر کیا ہے؟

امجد علی

تحریر: امجد علی
زندگی۔۔۔وہ حسین باغ ہے جو کائنات کے ہاتھوں سنوارا گیا ہے۔ یہاں بہار کے دنوں میں شاخیں کلیوں سے لدی ہوتی ہیں، رنگ برنگے پھول کھل کر فضا کو مسحور کر دیتے ہیں اور ہوا میں ایک ایسی تازگی رچ جاتی ہے جو دلوں کو جینے کی لذت سکھاتی ہے۔ پرندوں کی چہکار گویا بچپن کی معصوم قلقاریوں کا روپ دھار لیتی ہے اور دھوپ کی شوخ کرنیں لڑکپن کی شرارتوں کی مانند ہر گوشے کو جگمگا دیتی ہیں۔ پھر جوانی کا موسم آتا ہے جب باغ اپنی رعنائی کے عروج پر ہوتا ہے ہر پھول کھلا ہوا، ہر خوشبو بےحد گہری اور ہر منظر زندگی کے جادو سے لبریز۔
مگر پھر وقت کے پردے سرکتے ہیں، خزاں کی ہوا چلتی ہے اور رفتہ رفتہ رنگ زرد پڑنے لگتے ہیں۔ وہی شاخیں جو کبھی پھولوں سے جھک رہی تھیں، اب سوکھنے لگتی ہیں۔ پرندوں کے نغمے مدھم ہو جاتے ہیں اور باغ کے راستوں پر پتے بکھر کر خاموشی کی چادر تان دیتے ہیں۔ یہی بڑھاپے کی تصویر کشی ہے اک ایسی پھیکی مسکراہٹ جو وقت کی مسافت ختم ہونے کا پتہ دیتی ہے۔ اور پھر ایک گھڑی آتی ہے جب یہ باغ مکمل سکوت میں ڈوب جاتا ہے، جیسے کسی کھیل کے بعد پردہ گرا دیا گیا ہو۔
قدیر، جو فلسفے کا طالب علم تھا، کافی دنوں سے زندگی کے بارے انہی اہم حقائق پر سوچوں میں گرداں تھا، نے اج دو زانوئے تلمذ کرتے دادا ابو سے پوچھا، "دادا جان، زندگی کی اصل کیا ہے؟”
بڑے ابو مسکرائے اور بولے، "بیٹا، فلسفہ اور حکمت کی قدیم روایت میں زندگی کو عناصرِ اربعہ، پانی، مٹی، ہوا اور آگ کے امتزاج سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یونان کے ارسطو اور جالینوس سے لے کر مشرق کے ابنِ سینا اور فارابی تک سب نے اس راز کو سمجھنے کی کوشش کی،اور اسی نتیجہ پر پہنچے۔ مگر زندگی کا اصل راز آج بھی اپنی تمام تر گیرائی و گہرائی اور انوکھے حسن کے ساتھ انسان کے وجدان میں چھپا ہوا ہے۔ اسے ایک شاعر نے اپنے خوبصورت شعر میں یوں رقم کیا ہے
زندگی کیا ہے عناصر کا ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انہیں اجزاء کا پریشاں ہونا
قرآنِ کریم سے رجوع کریں تو زندگی کی حقیقت ایک اور جہت کے ساتھ سامنے آتی ہے
"انسان کی زندگی کی مثال ایسی ہے کہ زمین مردہ تھی ہم نے بارش برسائی تو وہ زندہ ہو گئی۔”
یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ نے زندگی کی بنیاد پانی کو قرار دیا ہے۔ انسانی وجود کا ڈھانچہ بھی مٹی سے بنا ہے مگر اس کا سب سے بڑا عنصر اب بھی پانی ہے، اور زندگی کی بقا کا راز باقی دیگر عناصر میں پوشیدہ ہے۔ صوفیاء نے اس گرہ کو ایک اور انداز میں کھولنے کی سعی کی ہے۔ سلطان العارفین حضرت سلطان باہوؒ اسی بابت فرماتے ہیں
سینے وچ مقام اے کیہندا مرشد گل سجھائی ہو
اکو ساہ جیڑا اوے جاوے ہور شے نہ کائی ہو
اینوں اسم اعظم کیندے، ایہو سر الٰہی ہو
ایہو موت حیاتی باہو، ایہو بھید الٰہی ہو

حضرت سلطان باہوؒ نے زندگی کا مدار "سانس” کو قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق وجود کی بقا سانس پر قائم ہے، اور یہی سانس موت و حیات کے راز اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب قرآن زندگی کو پانی سے وابستہ قرار دیتا ہے تو سلطان باہوؒ نے اسے سانس کے ساتھ کیوں جوڑتے نظر آتے ہیں؟ قدیر نے سوچ کی الجھتی ڈور کو نئے سوال کا روپ دیتے پھر پوچھا؟
بیٹا! ” بظاہر یہ دونوں باتیں الگ دکھائی دیتی ہیں، لیکن دراصل یہ ایسے ہیں جیسے ریلوے لائن کی دو پٹڑیاں؛ الگ الگ مگر ساتھ ساتھ چلتی ہیں اور ایک ہی سمت میں آگے بڑھتی ہیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔
قرآن کی زبان سہل اور عام فہم ہے تاکہ ہر ذہن اسے سمجھ سکے، جبکہ اہلِ معرفت جب حقیقت کے پردے ہٹاتے ہیں تو وہ باریک تر حقیقتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ سانس دراصل ہوا کی وہ مسلسل حرکت ہے جو وجود میں جاری رہتی ہے۔ اس کا ہونا زندگی ہے اور اس کا رُک جانا موت۔ انسان کی سانس آکسیجن پر مبنی ہے، جیسے دیگر مخلوقات کی سانس مختلف گیسز پر قائم ہے۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے پانی کو زندگی کی بنیاد فرمایا اور پانی بھی دراصل گیسز کا ہی مجموعہ ہے۔ یوں اس حقیقت کی سمجھ آتی ہے کہ اللہ کے فرمان اور عارفوں کے بیان میں کوئی تضاد نہیں، بلکہ دونوں ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔ پانی زندگی کی بنیاد ہے اور سانس اس بنیاد کو رواں رکھنے والا تسلسل۔ یہی زندگی کی اصل تصویر ہے ۔۔۔ یہی ایک سچائی ہے جس کو قرآن معظم میں اللہ کریم نے یوں ارشاد فرمایا ہے۔
"ہم نے ہر جاندار کو پانی سے زندہ کیا۔”
اور سلطان باہوؒ نے یہی کچھ اپنے الفاظ میں کہا "سانس ہی سب کچھ ہے۔”
بظاہر مختلف لگنے والے یہ دونوں بیانات دراصل ایک ہی راز ، ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں۔
قدیر آپ نے تو سائنسی مضامین بھی پڑھ رکھے ہیں آپ خوب جانتے ہونگے کہ سائنسی زاویۂ نگاہ سے بھی زندگی کی اصل ڈور سانس سے بندھی ہوئی ہے۔ جسم کو توانائی تبھی ملتی ہے جب خون کے سیلز میں شامل (سوار) آکسیجن وجود میں سرنگوں کی طرح بچھی، پھیلی رگوں کے راستے ہر خلیے تک پہنچتی ہے۔ لمحہ بھر کے لیے بھی یہ نظام ٹوٹ جائے تو زندگی کا چراغ فوراً بجھ جاتا ہے۔ گویا پانی جسم کی بنیاد ہے اور سانس اس بنیاد کو متحرک رکھنے والی قوت ہے۔
سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ پانی ایچ 2 او فارمولہ پر مبنی مائع حالت گیسز ہیں یعنی دو ذرات ہائیڈروجن اور ایک ذرہ آکسیجن۔ ہائیڈروجن کائنات کا سب سے ہلکا اور وسیع پھیلنے والا عنصر ہے، جبکہ آکسیجن زندگی کا لازمی جزو ہے، اور یہ دونوں پانی کے اندر موجود ہیں۔ یوں پانی بذاتِ خود سانس اور زندگی کے تسلسل کی علامت ہے۔ جو کسی بھی وجود کی اساس ہے۔

سو لفظوں کی کہانیسوچ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے